کردار اور حسن اخلاق: ایمان کا اصل آئینہ | قسط 177 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Understand the profound link between faith and character, and how good ethics (Akhlaq) reflect true Eman in Islam by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

6/26/20261 min read

کردار اور حسن اخلاق: ایمان کا اصل آئینہ

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 177)

1۔ تمہید (Introduction)

اسلام کا تصورِ عبادت محض چند ظاہری رسوم کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے باطنی جوہر کو نکھارنے اور اس کے اخلاق کو خوبصورت بنانے کا ایک جامع نظام ہے۔ دورِ حاضر کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین داری کو صرف عبادات کی حد تک محدود کر دیا ہے اور معاملات و اخلاقیات کو اس سے یکسر الگ کر دیا ہے۔ معاشرے میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو مسجد کی پہلی صف میں نظر آتے ہیں، لیکن ان کے لین دین، گفتگو اور خاندانی رویوں میں بدترین بدسلوکی اور جھوٹ جھلکتا ہے۔

قرآن و سنت کا انقلابی منہج ہمیں یہ فکری شعور عطا کرتا ہے کہ انسان کا حسنِ کردار دراصل اس کے باطنی ایمان کا آئینہ ہوتا ہے۔ ایمان اگر دل کی جڑوں میں سچا ہو، تو اس کی خوشبو انسان کے اخلاق، گفتگو کی نرمی اور رویوں کی خوبصورتی کی شکل میں باہر لازمی پھوٹتی ہے۔ ناقص کردار دراصل کمزور ایمان کی سب سے بڑی علامت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق اور کردار کو ایمان کا سچا آئینہ کیسے بنایا جائے؟ اور روزمرہ زندگی میں اخلاقی انحطاط کا شرعی حل کیا ہے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی ایمانی و اخلاقی کڑی کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

کلامِ الٰہی ہمیں یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ رب کے ہاں مقبولیت کے لیے ایمان کے ساتھ ساتھ پاکیزہ اخلاق اور اعلیٰ کردار پہلی شرط ہے:

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ    (سورۃ القلم: 4)

اور بیشک آپ (ﷺ) اخلاق کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ۝ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ۝ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ ۝ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ   (سورۃ المؤمنون: 1-5)

بیشک وہ ایمان والے کامیاب ہو گئے، جو اپنی نمازوں میں عاجزی اختیار کرتے ہیں، اور جو لایعنی و بیہودہ باتیں سے اعراض کرتے ہیں، اور جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں (اعلیٰ کردار کے مالک ہیں)۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادات ہمیں یہ رہنمائی فرماتے ہیں کہ ایمان کی تکمیل اور میزانِ عمل کا سب سے وزنی حصہ بندے کا عمدہ اخلاق ہے:

کامل ایمان کا حقیقی معیار

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا"   (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 1162)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان کے اعتبار سے مؤمنین میں سب سے زیادہ کامل وہ شخص ہے جو ان میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھا ہو۔

میزانِ عمل کا سب سے وزنی عمل

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ..."   (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2002)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مؤمن کے ترازو میں حسنِ اخلاق (اچھے کردار) سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہوگی۔

4۔ اخلاقی زوال اور کردار کی کمزوری کے اسباب (Why Character Fails)

انسانی سوسائٹی میں اخلاق کا جنازہ ان چار بنیادی فکری و باطنی امراض کی وجہ سے نکلتا ہے:

1. دین داری کا یکطرفہ تصور: جب بندہ صرف نماز، روزے کو ہی پورا دین سمجھ لے اور حقوق العباد، سچائی اور دیانت داری کو دین سے خارج سمجھ بیٹھے۔

2. سوشل میڈیا اور ماحول کی بے لگامی: انٹرنیٹ پر فحاشی، گالی گلوچ اور طنز کے نام پر بدتمیزی روزانہ دیکھنے سے انسان کی اخلاقی حس مر جاتی ہے۔

3. انا پرستی اور تکبر: اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کی سوچ انسان کے رویوں میں تلخی اور بدکرداری پیدا کرتی ہے۔

4. حرص اور مادہ پرستی: مال و دولت کی اندھی ہوس انسان کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے فائدے کے لیے جھوٹ اور دھوکہ دہی کا سہارا لے۔

5۔ کردار کو ایمان کا آئینہ بنانے کے پانچ عملی طریقے (Strategies for Moral Growth)

اپنے اخلاق کو نبویؐ سانچے میں ڈھالنے اور کردار کی اصلاح کے لیے ان پانچ حصاروں کو اپنائیں:

  • الف) زبان پر کڑا پہرہ: اپنی زبان سے نکلنے والے ایک ایک لفظ کے معاملے میں محتاط رہیں۔ سچ بولیں، نرمی اختیار کریں، اور غیبت یا کسی کی دل آزاری سے سخت پرہیز کریں۔

  • ب) حقوق العباد کی مخلصانہ ادائیگی: اپنے والدین، بیوی بچوں، رشتہ داروں اور خاص طور پر اپنے ماتحتوں اور ملازمین کے ساتھ معاملہ کرتے وقت خوفِ خدا کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔

  • ج) امانت اور دیانت کا روزمرہ پاس: چاہے دکان ہو، ملازمت ہو یا عام بول چال؛ اپنے وعدوں کو پورا کریں، کاروباری معاملات میں کسی کو دھوکہ نہ دیں، کیونکہ دیانت داری ہی کردار کی بنیاد ہے۔

  • د) عفو و درگزر اور غصے پر قابو: لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرنا سیکھیں۔ جب کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کرے، تو بدلہ لینے کی طاقت کے باوجود رب کی رضا کے لیے درگزر کریں۔

  • ہ) اسوۂ رسول ﷺ کا گہرا مطالعہ: روزانہ سیرتِ طیبہ کے ان ابواب کا مطالعہ کریں جو نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ عالیہ، دشمنوں سے سلوک اور معاشرتی معاملات پر مبنی ہیں، اور ان کو عملی زندگی میں نافذ کریں۔

6۔ حسنِ کردار کا حقیقی اور سچا معیار کیا ہے؟

معاشرتی اور روزمرہ زندگی میں اچھے کردار کا سچا معیار یہ ہے کہ:

  • جب آپ کسی ایسے شخص سے ملیں جس سے آپ کو کوئی مفاد حاصل نہ ہو، تب بھی آپ کا رویہ اتنا ہی عاجزانہ اور محترم ہو جتنا کسی بڑے افسر سے ہوتا ہے۔

  • جب کاروبار یا لین دین میں معمولی جھوٹ بول کر لاکھوں کا فائدہ ہو رہا ہو، انسان اپنے ایمان کی لاج رکھتے ہوئے سچ پر اڑ جائے۔

  • جب گھر کی چاردیواری میں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، تب بھی انسان اپنی زبان اور رویے سے اپنے اہل و عیال کے لیے سراپا رحمت بنا رہے۔

7۔ اعلیٰ کردار کے انمول روحانی و دنیوی ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو بندہ اپنے کردار کو ایمان کے نور سے منور کر لیتا ہے، اسے یہ انعامات حاصل ہوتے ہیں:

  • معاشرے میں سچی اور پائیدار عزت: اچھے اخلاق والے انسان کے سامنے دشمن کا سر بھی احترام سے جھک جاتا ہے اور وہ لوگوں کے دلوں کا بادشاہ بن جاتا ہے۔

  • عبادتوں کے نور میں اضافہ: حسنِ اخلاق ظاهری عبادات کی روح ہے، یہ اعمال کو ضائع ہونے (ریاکاری) سے بچاتا ہے اور باطن کو یکسوئی دیتا ہے۔

  • جنت الفردوس کی ضمانت: جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے، اچھے اخلاق والا بندہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے سب سے قریب ہوگا، جو کہ سب سے بڑی اخروی کامیابی ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ہمارا کردار ہی وہ گواہ ہے جو دنیا کے سامنے ہمارے سچے مسلمان ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ اگر ہمارا کردار داغدار ہے، ہماری زبان تلخ ہے اور ہمارے معاملات خراب ہیں، تو ہمارا بلند بانگ ایمانی دعویٰ کھوکھلا ثابت ہوگا۔ عبادات اگر رب کو راضی کرنے کا ذریعہ ہیں، تو اخلاق اس کی مخلوق کے دلوں میں جگہ بنانے کا وسیلہ ہے۔ آئیے آج ہی اپنے باطن کا جائزہ لیں اور عہد کریں کہ ہم اپنے رویوں، گفتگو اور معاملات کو شریعت کے تابع کریں گے تاکہ ہمارا کردار ہمارے ایمان کا سچا آئینہ بن سکے۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ

اے اللہ! مجھے بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی ہدایت فرما، تیرے سوا ان کی رہنمائی کوئی نہیں کر سکتا۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

اعلیٰ کردار اور اخلاقی اصلاح کا یہ پیغام کسی بگڑے ہوئے رویے کو سنوارنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.