کردار سازی: کہاں سے شروع کریں؟ - خود شناسی، اخلاقِ حمیدہ اور نیّت کی پاکیزگی | قسط 240 - ڈاکٹر واجد ارشاد
A comprehensive guide on character building (Kardar Sazi), where to start self-reform, and developing noble ethics in light of Quran and Sunnah by Dr. Wajid Irshad.


کردار سازی: کہاں سے شروع کریں؟ - خود شناسی، اخلاقِ حمیدہ اور نیّت کی پاکیزگی
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 240)
1۔ تمہید
کسی بھی باشعور اور بیدار قوم کی اصل طاقت اس کا مادی پیسہ، جدید عمارتیں یا نعرے نہیں ہوتے، بلکہ اس کے افراد کا پختہ اور سچا کردار ہوتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے بیرونی ترقی، علمی ڈگریوں اور ظاہری وضع قطع کو تو اہمیت دی، لیکن انسان کی اندرونی دنیا اور اس کے کردار سازی کے بنیادی پہلو کو نظر انداز کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلے کہ پڑھے لکھے طبقے میں بھی بداخلاقی، عدم برداشت، اور دھوکہ دہی کا عنصر عام ہوتا جا رہا ہے۔ جب ایک مسلمان اپنی شخصیت اور اخلاق کی تعمیرِ نو کا ارادہ کرتا ہے، تو سب سے پہلا سوال ذہن میں یہی ابھرتا ہے کہ "کردار سازی کی شروعات کہاں سے کی جائے؟" اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کردار کی تعمیر کسی دوسرے کی اصلاح سے نہیں، بلکہ اپنی ذات کے محاسبے اور اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے انسانی نفس کی صفائی اور کردار کی نکھار کو حقیقی کامیابی کی بنیاد قرار دیا ہے:
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا (سورۃ الشمس: 9-10)
ترجمہ: "بے شک وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو (برائیوں سے) پاک کر لیا، اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے (گناہوں میں) دبا دیا۔"
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (سورۃ الرعد: 11)
ترجمہ: "بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت (اور دل کا حال) نہ بدل لیں۔"
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کا رہنما نچوڑ
رسولِ اکرم ﷺ کی بعثتِ مبارکہ کا بنیادی مقصد ہی انسانی اخلاق اور کردار کو اس کی معراج پر پہنچانا تھا:
اخلاق کی تکمیل ہی مشنِ نبوت:
عن أبي هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إنما بعثت لأتمم صالح الأخلاق (مسند احمد: 8952)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے تو صرف اسی لیے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں۔"
باطنی اصلاح اور دل کی اہمیت:
عن النعمان بن بشير رضی الله عنهما قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب (صحیح البخاری: 52)
ترجمہ: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "سن لو! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے؛ سنو! وہ دل ہے۔"
4۔ کردار سازی کے شروعاتی 5 بنیادی مرحلے
مرحلہ 1: نیت کی پاکیزگی اور خود شناسی (Self-Awareness & Intention)
کردار سازی کی پہلی اینٹ اپنی خامیوں کا اعتراف اور نیت کی سچائی ہے۔ جب تک انسان اپنی برائیوں، غصے، اور حسد کو محسوس نہ کرے، اصلاح ممکن نہیں۔ ہر عمل کی بنیاد اس نیت پر ہونی چاہیے کہ مجھے اللہ کی رضا کے لیے ایک بہتر انسان بننا ہے۔
مرحلہ 2: زبان کا ضبط اور سچائی کا التزام (Control of Tongue & Truthfulness)
کردار کی سب سے پہلی اور بنیادی آزمائش انسان کی زبان ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، اور تنقید سے پرہیز انسان کے کردار کو وزن عطا کرتا ہے۔ سچائی وہ بنیادی صفت ہے جو انسان کے اندر اعتماد اور عزت پیدا کرتی ہے۔
مرحلہ 3: معاشی امانت داری اور کسبِ حلال (Financial Integrity & Halal Earnings)
اگر انسان کی روزی میں حرام يا مشتبہ مال شامل ہو جائے، تو اس کا باطن سخت ہو جاتا ہے۔ اپنے کاروبار، نوکری اور معاملات میں امانت داری، ناپ تول میں سچائی، اور حرام سے مکمل پرہیز کردار کا دوسرا مضبوط ترین ستون ہے۔
مرحلہ 4: غصے پر قابو اور برداشت کا رویہ (Anger Management & Patience)
ایک اچھے کردار کا امتحان مصیبت، اختلاف یا غصے کی حالت میں ہوتا ہے۔ اپنوں اور بیگانوں سے اختلاف کے باوجود نرمی اختیار کرنا، بدلہ لینے کی طاقت کے باوجود معاف کرنا نبوی کردار کی اہم خصوصیت ہے۔
مرحلہ 5: حقوق العباد کی پابندی (Respect for Others' Rights)
کردار صرف عبادات سے نہیں نکھرتا، بلکہ اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ آپ کے ہاتھ، زبان اور رویے سے دوسروں کو کتنی راحت ملتی ہے۔ والدین کا احترام، گھر والوں سے حسنِ سلوک، اور غریبوں کی مدد کردار کو مکمل بناتے ہیں۔
5۔ اختتامیہ
کردار سازی کوئی ایک دن کا عمل نہیں بلکہ یہ زندگی بھر جاری رہنے والا ایک مسلسل اصلاحی سفر ہے۔ اس کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے، اپنی سوچ سے اور اپنی زبان کے کنٹرول سے ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بدامنی اور اخلاقی تنزلی سے نکل کر امن و سکون کا گہوارہ بنے، تو ہمیں باتوں کے بجائے اپنے عمل کو خوبصورت بنانا ہوگا۔ آئیے! آج سے ہی اپنی نیتوں کو پاک کر کے سچائی، حلال روزی اور برداشت کے نبوی اصولوں کو اپنی ذات پر نافذ کریں تاکہ ہمارا کردار دنیا میں عزت اور آخرت میں شفاعت کا ذریعہ بن سکے۔
دعا:
اللهم آتِ نفوسنا تقواها، وزكِّها أنت خير من زكاها، أنت وليُّها ومولاها
اے اللہ! ہمارے نفوس کو ان کی پرہیزگاری عطا فرما، اور انہیں پاکیزہ بنا دے، تو ہی انہیں بہترین پاک بنانے والا ہے، اور تو ہی ان کا والی اور مالِک ہے۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
اخلاق اور کردار کی اصلاح کا یہ پیغام خود بھی اپنائیں اور اپنے دوست احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
