جذبۂ اسماعیلؑ: خود سپردگی کا مقام | قسط 149 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Explore the deep spiritual meaning of Hazrat Ismail's (AS) submission and patience. Learn how to conquer your Nafs and achieve true obedience to Allah."


جذبۂ اسماعیلؑ: خود سپردگی کا مقام
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ: نفس ( قسط نمبر: 149)
1۔ تمہید (Introduction)
سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مبارک زندگی صبر، بے مثال اطاعت اور خالقِ کائنات کے سامنے غیر مشروط خود سپردگی (Surrender) کی ایک ایسی عظیم اور لازوال مثال ہے جس کی نظیر تاریخِ انسانیت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ جب ایک معصوم اور کڑیل جوان بیٹے کے سامنے اس کے والدِ گرامی اپنے خواب اور رب کے حکم کا ذکر کرتے ہیں، تو وہ بیٹا کسی خوف، گھبراہٹ یا تردد کا شکار ہونے کے بجائے اپنی جان تک کو قربان کرنے کے لیے بخوشی تیار ہو جاتا ہے۔
یہ جذبہِ اسماعیلؑ دراصل انسان کو نفس کی غلامی، مادی وجود کی محبت اور دنیاوی خوف کے اندھیروں سے نکال کر حقیقی بندگی اور معرفتِ الٰہی کے اس اعلیٰ مقام تک پہنچاتا ہے جہاں انسان کا اپنا کوئی ارادہ باقی نہیں رہتا، بلکہ وہ اپنے رب کے فیصلے میں اپنی خوشی تلاش کرنے لگتا ہے۔ آج کا انسان اگر اپنے نفس کو قابو کرنا چاہتا ہے تو اسے اسی جذبۂ اسماعیلؑ کو سمجھنا ہوگا۔
2۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں (Quranic Guidance)
قرآنِ پاک کی سورۃ الصافات کی یہ آیاتِ مبارکہ باپ اور بیٹے کے درمیان ہونے والے اس تاریخی مکالمے اور ان کے بے مثال جذبۂ تسلیم و رضا کو نہایت خوبصورت اور مؤثر انداز میں بیان کرتی ہیں:
يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (سورۃ الصافات، آیت: 102)
"اے میرے پیارے والد! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔"
یہ جملہ کسی عام انسان کا نہیں بلکہ اس جوان کا ہے جو موت کو سامنے دیکھ کر بھی اپنے رب کے حکم پر مسکرا رہا ہے۔ یہ جواب واضح کرتا ہے کہ اطاعت اور رضا کا جوہر کس قدر گہرا ہونا چاہیے کہ جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے بھی دل مطمئن رہے۔
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (سورۃ الصافات، آیت: 103)
"پھر جب ان دونوں نے (اللہ کے حکم کے سامنے) سرِ تسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔"
یہ کائنات کا وہ عظیم ترین منظر تھا جب دونوں ہستیوں نے اپنی مرضی، اپنی محبت اور اپنی جان کو اللہ کے ایک اشارے پر قربان کر دیا۔ باپ ذبح کرنے پر راضی ہے اور بیٹا ذبح ہونے پر تیار، کیونکہ دونوں کے نزدیک رب کی رضا سب سے بڑھ کر تھی۔
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ (سورۃ الصافات، آیت: 106)
"بے شک یہ ایک کھلی اور سخت آزمائش تھی۔"
اللہ رب العزت نے خود اس امتحان کو "کھلی آزمائش" قرار دیا، کیونکہ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنا انسانی تاریخ کا سب سے کٹھن مرحلہ ہے، جس میں یہ دونوں نفوسِ قدسیہ سو فیصد کامیاب و کامران ٹھہرے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں (Hadith and Sayings)
احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ ایمان اور جنت کا راستہ نفسانی خواہشات کی قربانی اور آزمائشوں پر صبر کرنے سے ہی ہو کر گزرتا ہے:
• جنت کا راستہ اور نفس کی مخالفت
حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2822)
"جنت کو ان کاموں سے گھیر دیا گیا ہے جو نفس کو ناگوار گزرتے ہیں (مشکلات) اور دوزخ کو نفسانی خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے۔"
یہ فرمانِ نبوی ﷺ واضح کرتا ہے کہ اگر انسان جنت کا طالب ہے تو اسے اپنے نفس کی ان خواہشات کو ذبح کرنا ہوگا جو شریعت کے خلاف ہیں، بالکل اسی طرح جیسے سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی۔
• اللہ کے لیے چھوڑنے کا انعام
مَنْ تَرَكَ شَيْئًا لِلَّهِ عَوَّضَهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ (مسند احمد، رقم الحدیث: 23074، حسن)
"جو شخص اللہ کی رضا کے لیے کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس کے بدلے اس سے کہیں بہتر چیز عطا فرماتا ہے۔"
اس حدیث کی عملی تصویر ہمیں میدانِ منیٰ میں نظر آتی ہے۔ جب باپ اور بیٹے نے اللہ کے لیے اپنی سب سے پیاری چیز اور جان کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا، تو اللہ نے چھری کو چلنے نہیں دیا اور غیب سے دنبہ بھیج کر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جان بھی بچا لی اور رہتی دنیا تک کے لیے اس عمل کو یادگار بنا دیا۔
4۔ جذبۂ اسماعیلؑ سے ملنے والے اسباق (Spiritual Lessons)
گوگل ایڈسینس کے معیار اور قارئین کی فکری اصلاح کے لیے، حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس کردار سے ہمیں درج ذیل چار انقلابی اسباق ملتے ہیں جنہیں اپنے نفس پر نافذ کرنا وقت کا تقاضا ہے:
اللہ کے ہر فیصلے پر دل سے راضی رہنا: انسان کی زندگی میں معاشی تنگی، بیماری، یا کسی پیارے کی جدائی جیسی مشکلات آتی ہیں۔ جذبۂ اسماعیلؑ ہمیں سکھاتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، اپنے رب سے شکوہ کرنے کے بجائے اس کی تقدیر اور فیصلے پر سرِ تسلیم خم کر دینا ہی اصل ایمان ہے۔
نفس کی ناجائز خواہشات پر مکمل قابو: ہمارا نفس ہمیں گناہوں، نافرمانیوں اور دنیاوی لذتوں کی طرف بلاتا ہے۔ خود سپردگی کا مقام یہ ہے کہ جب اللہ کا کوئی حکم سامنے آئے، تو نفس کے بہکاوے میں آنے کے بجائے اس کی خواہش کو شریعت کے پیروں تلے کچل دیا جائے۔
والدین کی اطاعت اور ادب کا اعلیٰ معیار: حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اپنے والد کو یہ کہنا کہ "آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے"، اولاد کے لیے فرمانبرداری کا ایک انمول سبق ہے۔ معاشرتی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ اولاد اپنے والدین کی ایسی اطاعت کرے جو اللہ کی نافرمانی کے دائرے میں نہ آتی ہو۔
قربانی، ایثار اور صبر کا سچا جذبہ: قربانی صرف ایک دن جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ پورا سال اپنے اندر ایثار اور صبر کا جذبہ زندہ رکھنے کا نام ہے۔ دوسروں کے حقوق کے لیے اپنی انا، اپنے غصے اور اپنے مفادات کی قربانی دینا ہی دراصل اسماعیل علیہ السلام کے اسوہ کی پیروی ہے۔
5۔ اختتامیہ (Conclusion)
خلاصہِ کلام یہ ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا لافانی کردار ہمیں یہ ابدی سبق دیتا ہے کہ انسانی زندگی کی حقیقی کامیابی اور روح کا سکون اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں نہیں، بلکہ اپنی تمام تر خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر قربان کر دینے میں ہے۔ جب بندہ اپنے اندر خود سپردگی کا یہ مقام پیدا کر لیتا ہے، تو وہ نفس کا غلام نہیں رہتا بلکہ رحمن کا سچا بندہ بن جاتا ہے۔ عید الاضحیٰ کے ایام میں ہماری قربانی تبھی بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پائے گی جب ہمارے اندر بھی وہی اسماعیلؑ جیسا جذبہِ تسلیم و رضا اور تڑپ موجود ہوگی۔
دعا (Supplication)
اللّٰهُمَّ اجْعَلْ نُفُوسَنَا مُطْمَئِنَّةً بِقَضَائِكَ، رَاضِيَةً بِقَدَرِكَ، وَمُسْتَسْلِمَةً لِأَمْرِكَ
"اے اللہ! ہمارے نفوس کو اپنے فیصلے پر مطمئن، اپنی تقدیر پر راضی اور اپنے حکم کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کرنے والا بنا دے۔ آمین۔"
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات کو آگے پہنچانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں اور اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
