اتباعِ سنت: دعویٰ یا عمل؟ - عملی دین کی حقیقت، نبوی اسوے کا نفاذ اور سچی پیروی کا معیار | قسط 220 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Is following the Sunnah mere claim or practical action? Comprehensive Islamic guide on Ittiba-e-Sunnah, practical faith, and living by the Prophetic teachings by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

8/8/20261 min read

اتباعِ سنت: دعویٰ یا عمل؟ - عملی دین کی حقیقت، نبوی اسوے کا نفاذ اور سچی پیروی کا معیار

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: عملی دین (قسط نمبر: 220)

1۔ تمہید (Introduction)

اسلام محض چند عقائد کی تسلیم یا خالی دعوؤں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک کامل عملی ضابطۂ حیات ہے۔ اس ضابطۂ حیات کی روح اور اسے جلا بخشنے والی طاقت "اتباعِ سنت" (Following the Sunnah) ہے۔ سنتِ نبوی ﷺ وہ روشن اور محفوظ شاہراہ ہے جس پر چل کر انسان نہ صرف رب کی رضا حاصل کرتا ہے بلکہ دنیا و آخرت کی حقیقی کامرانی سے بھی ہمکنار ہوتا ہے۔ دین کی تمام تر باریکیاں، عبادات کا جوہر اور اخلاقیات کی معراج رسولِ اکرم ﷺ کی عملی زندگی سے ہی آشکار ہوتی ہے۔

عصرِ حاضر کا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم نے "اتباعِ سنت" کو بھی محض ایک نظریاتی بحث، لفظی دعوے یا چند ظاہری علامتوں تک محدود کر دیا ہے۔ ہم زبان سے تو سنت کی محبت اور عظمت کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن جب ہماری عملی زندگی—ہمارے اخلاق، معاشی معاملات، خانگی رویوں اور روزمرہ کی ترجیحات—کا جائزہ لیا جائے تو سنتِ نبوی ﷺ کی جھلک غائب نظر آتی ہے۔ ہم نے دین کو عمل کے میدان سے نکال کر محض عقیدت کے خانے میں بند کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اتباعِ سنت کا اصل فلسفہ کیا ہے؟ محض زبانی دعوے اور سچے عملی نفاذ میں کیا فرق ہے؟ اور ہم اپنی 24 گھنٹے کی روزمرہ زندگی میں سنتِ نبوی ﷺ کو ایک زندہ اور عملی حقیقت کیسے بنا سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، فکری اور تربیتی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع کو اللہ کی محبت کا زینہ اور گمراہی سے بچاؤ کی واحد ضمانت قرار دیا ہے:

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ   (سورۃ آل عمران: 31)

آپ فرما دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع (پیروی) کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ   (سورۃ النور: 54)

اور اگر تم ان (رسول ﷺ) کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، اور رسول کے ذمے تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے اتباعِ سنت کو امت کے فساد کے وقت عظیم اجر کا ذریعہ اور گمراہی سے نجات کی ڈھال قرار دیا ہے:

• سنت سے اعراض کرنے والے کی خبرداری

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "...فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي"

(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5063 / صحیح مسلم)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "...پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا (منہ موڑا) اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

• گمراہی سے بچاؤ کا حتمی نسخہ

عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ"

(سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 4607 / جامع الترمذی)

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پس تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا واجب ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور دانتوں سے مضبوطی سے پکڑ لو۔

4۔ اتباعِ سنت: دعوے دار اور عمل کرنے والے کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

سنت کا صرف دعویٰ کرنے والے اور سنت کو اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنے والے انسان میں یہ واضح فرق ہوتا ہے:

1۔ سنت کا دائرہ کار:

دعویٰ کرنے والا: سنت کو صرف چند عبادات يا ظاہری روپ تک محدود سمجھنا۔

عملی پیروکار: عبادات، اخلاق، معیشت، معاشرت اور خانگی زندگی تمام تر شعبوں میں سنت کو نافذ کرنا۔

2۔ مخالفت اور پسند و ناپسند کا معاملہ:

دعویٰ کرنے والا: جب سنت اپنے مزاج یا نفسیاتی خواہش کے خلاف ہو تو تاویلات گھڑنا۔

عملی پیروکار: اپنے نفس، خواہشات اور معاشرتی رسوم کو سنتِ نبوی ﷺ پر قربان کر دینا۔

3۔ اخلاقی اور معاشی رویہ:

دعویٰ کرنے والا: بات چیت میں سخت، معاشی لین دین میں بددیانت اور حقوق العباد سے غافل۔

عملی پیروکار: نرم خو، سچا، امانت دار، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ نبوی اخلاق کا نمونہ۔

4۔ سنت کے احیاء کی فکر:

دعویٰ کرنے والا: دوسروں پر تنقید کرنا اور بحث و مباحثے میں وقت ضائع کرنا۔

عملی پیروکار: خود سنت پر عمل کرنا، عاجزی اختیار کرنا اور حکمت سے سنت کو عام کرنا۔

5۔ اتباعِ سنت کو "عملی دین" بنانے کے 5 مرحلہ وار قدم (Practical Steps)

اپنی روزمرہ زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے ان پانچ عملی اقدامات کو اپنائیں:

الف) 24 گھنٹے کے مسنون اعمال کا نظام: صبح بیدار ہونے سے لے کر رات سونے تک کے مسنون اذکار، کھانے پینے، گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کی مسنون دعاؤں کو اپنی عادت بنائیں۔

ب) معاشی معاملات کی تطہیر (Sunnah in Business): تجارت اور ملازمت میں سچائی، امانت داری، ناپ تول میں پورا اترنا اور وعدہ خلافی سے بچنا—یہ سنت کے اہم ترین عملی پہلو ہیں۔

ج) اخلاقِ نبوی ﷺ کو اپنائیت دینا: مسکرا کر ملنا، غصے پر قابو پانا، معاف کرنا، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔

د) خانگی زندگی میں سنت کا نفاذ: اپنے اہل خانہ، بچوں اور والدین کے ساتھ وہی نرمی، شفقت اور تعاون کا رویہ رکھیں جو رسولِ اکرم ﷺ کا اپنے گھر میں تھا۔

ہ) بدعات و خرافات سے دوری: دین میں اپنی طرف سے گھڑی گئی باتوں اور غیر اسلامی رسومات کو ترک کر کے خالص سنتِ نبوی ﷺ پر قناعت کریں۔

6۔ اتباعِ سنت کا سچا معائری پیمانہ

عملی زندگی میں اتباعِ سنت کے سچے ہونے کا معیاری پیمانہ یہ ہے کہ:

• انسان کی ذات سے تکبر، خود پسندی اور سختی ختم ہو جائے اور اس میں عاجزی پیدا ہو جائے۔

• جب بھی کوئی صحیح سنت سامنے آئے، انسان بغیر کسی تاویل کے اسے قبول کرے۔

• اس کے اخلاق اور معاملات کو دیکھ کر لوگ اسلام اور نبوی تعلیمات کی طرف راغب ہوں۔

7۔ اتباعِ سنت کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان دنیا میں دعوے سے آگے بڑھ کر سنت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بناتا ہے، اللہ رب العزت اسے یہ عظیم برکات عطا فرماتا ہے:

• اللہ تعالیٰ کی محبوبیت: اللہ تعالیٰ بندے کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔

• زندگی میں برکت اور اطمینان: سنت کے مطابق گزری زندگی پریشانیوں، کشمکش اور فکری گمراہی سے محفوظ رہتی ہے۔

• آخرت میں نبی ﷺ کا قرب: سنت کو زندہ کرنے والے کا حشر قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوگا اور حوضِ کوثر کی نعمت حاصل ہوگی۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اتباعِ سنت کوئی تحریری یا تقریری موضوع نہیں، بلکہ یہ ایک جیتا جاگتا عملی نظامِ حیات ہے۔ اگر ہم امتِ مسلمہ کے موجودہ زوال کو اقبال اور عزت میں بدلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں محض زبانی دعوؤوں کے خول سے نکل کر عملی دین کی طرف آنا ہوگا۔ جب تک ہماری مساجد، ہمارے بازار، ہمارے گھر اور ہمارے اخلاق سنتِ نبوی ﷺ کی گواہی نہیں دیں گے، اس وقت تک ہم سچے پیروکار نہیں کہلا سکتے۔ آئیے! ہم سب یہ عزم کریں کہ ہم سنت کو اپنی زندگی کی ترجیح اول بنائیں گے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں گے اور عمل کی طاقت سے دین کا روشن پیغام دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَ سُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا، اللَّهُمَّ أَحْيِنَا عَلَى سُنَّتِهِ، وَأَمِتْنَا عَلَى مِلَّتِهِ، وَاحْشُرْنَا فِي زُمْرَتِهِ، وَلَا تَحْرِمْنَا شَفَاعَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔

اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی، اور ہمیں اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت کی ظاہری و باطنی اتباع نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں آپ ﷺ کی سنت پر زندہ رکھ، آپ کی ملت پر موت دے، آپ کے گروہ میں اٹھا، اور قیامت کے دن ہمیں آپ کی شفاعت سے محروم نہ فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

اتباعِ سنت اور عملی دین کا یہ پیغام کسی غفلت اور رسم پرستی کا شکار انسان کے لیے سچی بیداری اور اصلاحِ عمل کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.