اطاعتِ ابراہیمیؑ: آج کے انسان کے لیے سبق | قسط 148 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Discover the powerful lessons of obedience, patience, and absolute trust in Allah from the life of Prophet Ibrahim (AS), tailored for modern human challenges."


اطاعتِ ابراہیمیؑ: آج کے انسان کے لیے سبق
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ: ایمان (قسط نمبر:148)
1۔ تمہید (Introduction)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مبارک زندگی کائنات کے ہر انسان کے لیے مکمل اطاعت، لازوال قربانی اور بے مثال توکل کا ایک عملی و آفاقی نمونہ ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے زندگی کے ہر موڑ پر، مال، وطن، اولاد اور جان کی ایسی کڑی آزمائشوں میں ڈالا جن کا تصور ہی انسانی روح کو کپکپا دیتا ہے۔ مگر آپ علیہ السلام نے ہر امتحان اور ہر آزمائش میں کائنات کے مالک کے حکم کو اپنی تمام تر ذاتی، خاندانی اور دنیاوی خواہشات پر مقدم رکھا۔
آج کا انسان، جو مادی دوڑ، شدید ذہنی تناؤ، انتشار اور ایمان کی کمزوری کا شکار ہے، اگر وہ اس ابراہیمی کردار اور جذبہِ تسلیم و رضا کو اپنی زندگی میں اپنا لے، تو اس کی دنیاوی زندگی بھی امن، استقامت اور حقیقی سکون سے بھر سکتی ہے اور آخرت میں بھی اسے رب کا قرب نصیب ہو سکتا ہے۔
2۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں (Quranic Guidance)
قرآنِ مجید کی آیاتِ مبارکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظمتِ کردار، ان کی وفاداری اور ان کے اسوہِ حسنہ کو رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ کے طور پر پیش کرتی ہیں:
وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ (سورۃ البقرہ، آیت: 124)
"اور جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا تو انہوں نے ان کو پورا کر دکھایا۔"
یہ آیتِ کریمہ واضح کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رب العزت نے جتنے بھی احکامات دیے اور جس جس کٹھن امتحان سے گزارا، انہوں نے کسی حیلے بہانے یا تاخیر کے بغیر، کمالِ وفاداری کے ساتھ ہر حکم کو سو فیصد پورا کر کے دکھایا۔ یہی بندگی کا اصل عروج ہے۔
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ (سورۃ النحل، آیت: 120)
"بے شک ابراہیم ایک پوری امت تھے، اللہ کے فرمانبردار اور یکسو۔"
اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی اطاعت پسندی کو یہ سند عطا فرمائی کہ وہ ایک فرد ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک پوری امت جتنا ایمان، تقویٰ، اخلاص اور بندگی کا جذبہ رکھتے تھے۔ وہ اکیلے ہی حق کے راستے پر جمے رہے اور کبھی باطل کے سامنے نہیں جھکے۔
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ (سورۃ الممتحنہ، آیت: 4)
"یقیناً تمہارے لیے ابراہیم (اور ان کے ساتھیوں) میں بہترین نمونہ موجود ہے۔"
قرآن کا یہ واشگاف اعلان آج کے انسان کے لیے ایک واضح ہدایت ہے کہ اگر وہ گمراہی کے اندھیروں سے نکلنا چاہتا ہے، تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرزِ زندگی، ان کے نظریات اور ان کی فکری و عملی قربانیوں کو اپنے لیے رول ماڈل (Role Model) بنانا ہوگا۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں (Hadith and Sayings)
احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا مقام و مرتبہ کتنا بلند تھا اور بندگی کا کون سا انداز رب کو سب سے زیادہ پسند ہے:
• خلیل اللہ کا عظیم مرتبہ
إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 532)
"بے شک اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو اپنا خاص دوست (خلیل) بنایا۔"
یہ فرمانِ نبوی ﷺ اس بات کی دلیل ہے کہ جب کوئی بندہ اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم پر سو فیصد قربان کر دیتا ہے، تو کائنات کا خالق اسے صرف اپنا بندہ نہیں رکھتا بلکہ اسے "خلیل" (گہرا دوست) بنا لیتا ہے۔
• بندگی میں تسلسل اور استقامت
أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6464)
"اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ (باقاعدگی سے) کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔"
اس حدیث کا اطاعتِ ابراہیمی سے گہرا تعلق ہے۔ آپ علیہ السلام کی پوری زندگی بندگی کے ایک مسلسل اور لازوال سفر کا نام تھی۔ عید کے دنوں میں کی جانے والی قربانی کا اصل حاصل بھی یہی ہے کہ ہم عید کے بعد بھی پورا سال اللہ کی اطاعت پر مستقل مزاجی سے قائم رہیں۔
4۔ عصرِ حاضر کا انسان اور اطاعتِ ابراہیمی کے اسباق (Lessons for Modern Man)
آج کے اس مادی، تیز رفتار اور نفسا نفسی کے دور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے ہمیں درج ذیل چار بنیادی اسباق ملتے ہیں جو ہماری روحانی بقا کے لیے نسخہِ کیمیا ہیں:
اللہ کے حکم کو اپنی خواہش پر ترجیح دینا: آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ "خواہشِ نفس" کی پوجا ہے۔ انسان اپنے مفاد، اپنے جذبات اور معاشرتی دباؤ کے سامنے اللہ کے احکامات (جیسے نماز، حلال و حرام، پردہ اور حقوق العباد) کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ اطاعتِ ابراہیمی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب رب کا حکم آ جائے، تو وہاں عقل کے گھوڑے دوڑانے کے بجائے سر تسلیمِ خم کر دینا ہی اصل کامیابی ہے۔
آزمائش اور مشکلات میں صبر کا دامن نہ چھوڑنا: آگ میں ڈالے جانے کا وقت ہو، وطن سے ہجرت کا مرحلہ ہو، یا بڑھاپے کی اکلوتی اولاد کو صحرا میں چھوڑنے کا حکم—سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کبھی رب سے شکوہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ صبر و شکر کا دامن تھامے رکھا۔ آج کا انسان معمولی سی معاشی تنگی یا بیماری پر مایوس ہو جاتا ہے، جبکہ ابراہیمی اسوہ ہمیں آزمائشوں میں مسکرا کر ثابت قدم رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
خالق کی ذات پر کامل توکل (Faith in Allah): جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق میں رکھ کر آگ میں پھینکا جا رہا تھا، تو انہوں نے کسی دنیاوی سہارے کے بجائے صرف یہ کہا: "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ" (ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔ آج ہم اسباب اور مادی سہاروں پر تو پورا بھروسا کرتے ہیں لیکن مسبب الاسباب (اللہ) کو بھول جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے اندر یہی کامل توکل پیدا کرنا ہوگا۔
دینِ اسلام پر مستقل مزاجی اور ثابت قدمی: معاشرہ کتنا ہی بگڑ جائے، چاروں طرف باطل کا غلبہ ہی کیوں نہ ہو، ایک مؤمن کو ابراہیمی کردار ادا کرتے ہوئے حق پر مضبوطی سے جم جانا چاہیے۔ سچا مسلمان وہ نہیں جو حالات کے دھارے میں بہہ جائے، بلکہ وہ ہے جو ابراہیم علیہ السلام کی طرح تنہا کھڑا ہو کر بھی حق کا پرچم بلند رکھے اور ایک پوری امت بن کر دکھائے۔
5۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اطاعتِ ابراہیمی ہمیں یہ ابدی سچائی سکھاتی ہے کہ انسانی زندگی کی اصل کامیابی، سکون اور معراج اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے یا دنیاوی آسائشیں سمیٹنے میں نہیں ہے، بلکہ خود کو اللہ رب العزت کی رضا اور اس کے فیصلوں پر راضی کر دینے میں ہے۔ جب انسان سچے دل سے اپنے اندر کا "ابراہیمی شعور" بیدار کر لیتا ہے، تو اس کا دل دنیاوی خوف اور غم سے آزاد ہو جاتا ہے۔ عید الاضحیٰ کے ایام میں جانور ذبح کرنے کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ ہم اپنے اندر چھپے ہوئے باطل نظریات اور نافرمانیوں کو ہمیشہ کے لیے ذبح کر دیں اور اپنے رب کے وفادار بندے بن جائیں۔
دعا (Supplication)
اللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا كَمَالَ الْإِيمَانِ، وَحُسْنَ التَّوَكُّلِ عَلَيْكَ، وَالِاسْتِقَامَةَ عَلَى دِينِكَ
"اے اللہ! ہمیں ایمان کا کمال، اپنی ذات پر بہترین توکل اور اپنے دین پر ہمیشہ کی استقامت نصیب فرما۔ اور ہمیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔"
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات کو آگے پہنچانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں اور اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
