استقامت: حالات بدلیں یا نہ بدلیں - ثبات القدم، صراطِ مستقیم پر دوام اور اخلاقی و ایمانی ثبات کا نبوی منہاج | قسط 217 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Discover the true concept of Istiqamat (Steadfastness) in Islam regardless of changing circumstances. Prophetic guide on persistence, patience, and unwavering faith by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

8/5/20261 min read

استقامت: حالات بدلیں یا نہ بدلیں - ثبات القدم، صراطِ مستقیم پر دوام اور اخلاقی و ایمانی ثبات کا نبوی منہاج

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 217)

1۔ تمہید (Introduction)

انسانی زندگی کی سچی عظمت اور ایمانی بالادستی کا اصل راز نتائج یا حالات کے فوری بدلنے میں نہیں، بلکہ ہر طرح کے حالات میں "استقامت" (Steadfastness / Persistence) اور ثباتِ قدم اختیار کرنے میں پنہاں ہے۔ دنیا کا اصول ہے کہ جب حالات سازگار ہوں، کامیابی کے راستے کھلے ہوں اور ماحول موافق ہو، تو ہر انسان کے لیے دین اور اخلاق پر قائم رہنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن جب حالات برعکس ہو جائیں، آزمائشوں اور ناکامیوں کا طوفان کھڑا ہو جائے، اور مسلسل جدوجہد کے باوجود ظاہری حالات میں کوئی تبدیلی نظر نہ آئے—تب انسان کا اصلی امتحان شروع ہوتا ہے۔

عصرِ حاضر کا ایک شدید اخلاقی و فکری بحران یہ ہے کہ لوگ حالات کے تھوڑے سے تاخیر یا بگاڑ پر فوراً اپنے نظریات، اخلاقیات اور دینی شعار کو قربان کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری نیکی، دعا اور محنت کا نتیجہ فوری طور پر حالات کی تبدیلی کی صورت میں سامنے آنا چاہیے، اور جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ بدگمانی، مایوسی اور پسپائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسلام کا فکری و اخلاقی نظام انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ مؤمن کا مقصدِ حیات حالات کو بدلنا نہیں بلکہ ہر حال میں اپنے مالکِ حقیقی کی بندگی اور صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رہنا ہے۔ استقامت نام ہے حالات کی موافقت یا مخالفت سے بے نیاز ہو کر حق کے راستے پر جمے رہنے کا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں استقامت کی کیا حقیقت اور فضیلت ہے؟ رسول اللہ ﷺ اور انبیاء کرام علیہ السلام نے ظاہری حالات نہ بدلنے کے باوجود استقامت کا کیا شاندار نمونہ پیش فرمایا؟ اور ہم اپنے روزوشب میں اس کو کیسے اختیار کر سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، فکری اور تربیتی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے استقامت اختیار کرنے والے اہل ایمان کو فرشتوں کی بشارت اور ابدی کامیابی کی عظیم نوید سنائی ہے:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ    (سورۃ Fussilat: 30)

بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر قائم رہے (استقامت اختیار کی)، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ تم خوف کھاؤ اور نہ غم کرو اور اس جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ   (سورۃ ہود: 112)

پس آپ قائم رہیے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ توبہ کی ہے، اور حد سے نہ بڑھو، بیشک وہ جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھنے والا ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات اور طرزِ حیات نے استقامت کو دین کا خلاصہ اور محبوب ترین عمل قرار دیا ہے:

• قل آمنت باللہ ثم استقم

عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: "قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ؟ قَالَ: قُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ"

(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 38)

حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات فرما دیجیے کہ آپ کے بعد مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کہو کہ میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ڈٹ جاؤ (استقامت اختیار کرو)۔"

• سب سے محبوب عمل: دوام اور ہمیشگی

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ"  (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6465 / صحیح مسلم)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی (استقامت) کی جائے چاہے وہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔

4۔ استقامت پسند اور حالات کے ساتھ بدلنے والے انسان کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

حالات بدلیں یا نہ بدلیں، حق پر ثابت قدم رہنے والے اور حالات کے دھارے پر بہنے والے انسان کے درمیان یہ بنیادی فرق ہوتا ہے:

1۔ جدوجہد اور مقصد کا محور:

متذبذب شخص: صرف ظاہری نتائج اور حالات کے بدلنے پر اپنی محنت کو مشروط کرنا۔

صاحبِ استقامت مومن: نتائج کو اللہ کے سپرد کر کے صرف اپنے فرض اور بندگی پر قائم رہنا۔

2۔ آزمائش میں نفسیاتی ردِعمل:

متذبذب شخص: حالات کی سختی آتے ہی بدگمانی، شکوہ، مایوسی اور راستے سے پسپائی۔

صاحبِ استقامت مومن: صبر و رضائے الٰہی، دعا میں اضافہ اور فولادی عزم کے ساتھ آگے بڑھنا۔

3۔ نیکی اور اخلاق میں دوام:

متذبذب شخص: موسم اور حالات کے مطابق اخلاقیات کا بدلنا؛ سختی میں اخلاق چھوڑ دینا۔

صاحبِ استقامت مومن: خوشی ہو یا غم، تنگی ہو یا فراخی، ایمانی و اخلاقی اصولوں پر بلا کم و کاست قائم رہنا۔

4۔ باطنی و ایمانی کیفیت:

متذبذب شخص: اندرونی خوف، تذبذب، عدمِ استحکام اور دنیا پر تکیہ۔

صاحبِ استقامت مومن: قلبی طمأنینت، توکل علی اللہ اور فرشتوں کی غیبی تائید کا احساس۔

5۔ حالات بدلیں یا نہ بدلیں، استقامت اختیار کرنے کے 5 عملی اصول (Strategies)

اپنے اندر ثباتِ قدم اور استقامت کی صفت پیدا کرنے کے لیے ان پانچ سنہری عملی اصولوں کو اپنائیں:

الف) نیت کو نتائج سے آزاد کرنا (Focus on Duty, Not Results): یہ ذہن نشین کر لیں کہ اللہ کے ہاں آپ سے آپ کی محنت اور اخلاص کا حساب ہوگا، نتائج کا نہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے 950 سال محنت کی، حالات ظاہری طور پر نہ بدلے، لیکن آپ استقامت کی بلندی پر فائز رہے۔

ب) اعمال میں ہمیشگی اور چھوٹا قدم (Consistency Over Intensity): ایک ساتھ بڑے اور غیر حقیقی اہداف قائم کرنے کے بجائے چھوٹے اور مداومت والے اعمال کا انتخاب کریں تاکہ بلا ناغہ ان پر قائم رہا جا سکے۔

ج) مسنون دعاؤں کے ذریعے ثبات کی التجا: رسول اللہ ﷺ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے: "يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ" (اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ)۔

د) سیرتِ صحابہ اور تاریخ کا مطالعہ: شعبِ ابی طالب کے سخت ترین تین سال اور خبّاب و بلال رضی اللہ عنہم کے آزمائش کے ایام کا مطالعہ کریں جہاں حالات بدترین تھے لیکن استقامت کی شمع فروزاں رہی۔

ہ) صالح اور ثابت قدم لوگوں کی صحبت: ایسے ماحول اور دوستوں کا انتخاب کریں جو سختی کے وقت آپ کو ہمت دیں اور دین پر قائم رہنے کی تلقین کریں۔

6۔ استقامت کا سچا معائری پیمانہ

عملی زندگی میں استقامت اور ثباتِ قدم کا حقیقی معیار یہ ہے کہ:

• انسان کی عبادت، اخلاق اور کردار میں تنگی اور آسانی کے وقت کوئی تبدیلی نہ آئے۔

• دعاؤں کی قبولت میں تاخیر یا حالات کے نہ بدلنے کے باوجود اللہ سے حسنِ ظن برقرار رہے۔

• گناہوں اور فتنو کے ماحول میں بھی اپنی ایمانی شناخت پر بغیر کسی خوف کے ڈٹا رہے۔

7۔ استقامت کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان حالات کے بدلنے يا نہ بدلنے سے بے نیاز ہو کر رب کے راستے پر ڈٹ جاتا ہے، اللہ رب العزت اسے یہ عظیم برکات عطا فرماتا ہے:

• فرشتوں کی نزول اور خوف و حزن سے نجات: موت کے وقت اور آخرت کے میدان میں فرشتے اسے بشارتیں دیتے ہیں۔

• اللہ کی خاص محبت اور ولایت: مداومت اور استقامت کرنے والا بندہ اللہ کا ولی اور محبوب بن جاتا ہے۔

• بالآخر دنیا میں غلبہ اور آخرت میں بغیر حساب جنت: استقامت کی تاریخ بتاتی ہے کہ جو لوگ حالات کے نہ بدلنے پر بھی ڈٹے رہتے ہیں، بالاخر حالات انہی کے قدموں میں بدل جاتے ہیں۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ استقامت مومن کا وہ فولادی ڈھال ہے جو اسے زمانے کے حوادث، حالات کی سختی اور ناامیدی کے طوفانوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ حالات کا بدلنا یا نہ بدلنا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت پر منحصر ہے، جبکہ ہمارا کام صرف اور صرف صراطِ مستقیم پر جمے رہنا ہے۔ جو لوگ نتائج کے منتظر رہے بغیر اپنے فرض پر قائم رہتے ہیں، تاریخ انہی کو شرفِ قبولیت عطا کرتی ہے۔ آئیے! ہم اپنے عقیدے، اخلاق اور عبادات میں استقامت کا پختہ عزم کریں۔ حالات چاہے کتنے ہی ناگوار کیوں نہ ہوں، رب کے در کو نہ چھوڑیں اور ثباتِ قدم کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں۔ یاد رکھیے، جس کے پاس استقامت کی دولت ہے، دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ، وَصَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ۔

اے اللہ! میں تجھ سے دین کے معاملے میں ثبات (استقامت) کا اور ہدایت پر پختہ عزم کا سوال کرتا ہوں، اور تیری رحمت کے موجب بننے والے کاموں اور تیری مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال کا سوال کرتا ہوں۔ اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ اور ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

استقامت، ثباتِ قدم اور اخلاقی و ایمانی دوام کا یہ پیغام کسی متذبذب، پریشان اور حالات سے ہارے ہوئے انسان کے لیے ہمت اور عزیمت کا نیا جذبہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.