اختلاف میں ادب - وژن کا تنوع، ضبطِ نفس اور رواداری کا نبوی اسوہ | قسط 246 - ڈاکٹر واجد ارشاد
An enlightening article on ethics of disagreement (Ikhtilaf me Adab), self-control, and tolerance in Islam by Dr. Wajid Irshad.


اختلاف میں ادب - وژن کا تنوع، ضبطِ نفس اور رواداری کا نبوی اسوہ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 246)
1۔ تمہید
کائنات کے اس عظیم نظام میں سوچ، رائے اور فہم کا اختلاف ایک فطری اور خوبصورت حقیقت ہے۔ اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھالا، بلکہ ان کی فہم، تجربات اور نقطۂ نظر میں تنوع رکھا ہے۔ تاہم آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اختلافِ رائے کو دشمنی، تذلیل اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ علمی، فکری یا خاندانی امور میں جیسے ہی کوئی مختلف رائے سامنے آتی ہے، تحرک اور ضبطِ نفس کی جگہ بدزبانی، گالی گلوچ اور طعنہ زنی لے لیتی ہے۔ اسلام نے اختلافِ رائے پر کبھی پابندی نہیں لگائی، بلکہ اس نے اختلاف کے آداب سکھائے ہیں۔ صحابہ کرام اور ائمہ دین کے ہاں بھی فکری و علمی اختلافات رہے، لیکن ان کا ہر اختلاف باہمی احترام، محبت اور حدودِ تقویٰ کے اندر قائم رہا۔ اختلاف کے باوجود احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنا ہی ایک اعلیٰ اور پختہ اخلاق کی نشانی ہے۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے نیکی اور حق کی بات بھی بہترین اور خوبصورت انداز سے پیش کرنے کی ہدایت فرمائی ہے:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (سورۃ النحل: 125)
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلاؤ، اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کرو جو سب سے بہترین ہو۔
وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (سورۃ فصلت: 34)
اور نیکی اور برائی برابر نہیں ہو سکتیں، تم برائی کا جواب بہترین انداز سے دو، تو وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی جگری دوست ہو۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کا رہنما نچوڑ
رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق بحث و مباحثے میں بدزبانی اور گالی گلوچ کرنا منافقت کی نشانی ہے، جبکہ اختلاف ترک کر کے نرمی اپنانا عظیم فضیلت کا حامل ہے:
بحث و تکرار چھوڑنے کی فضیلت:
عن أبا أمامة رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أنا زعيم ببيت في ربض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقا (سنن أبي داود: 4800)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں جنت کے گوشے میں اس شخص کے لیے ایک گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود بحث و مباحثہ اور تکرار کو چھوڑ دے۔"
بدزبانی سے پرہیز:
عن عبد الله بن مسعود رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر (صحیح البخاری: 48)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مسلمان کو گالی دینا اور اس کی تذلیل کرنا فسق (گناہ) ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔"
4۔ اختلافِ رائے کے وقت ادب قائم رکھنے کی 5 اہم اصول
1. شخصیت کے بجائے نقطۂ نظر پر بات (Focusing on Ideas, Not Personality):
اختلاف کے دوران اصل بحث بات یا نظریے پر ہونی چاہیے۔ سامنے والے کی ذات، اس کے نسب، پیشے یا ماضی پر حملہ کرنا اخلاقی زوال کی علامت ہے۔
2. ضبطِ نفس اور زبان پر کنٹرول (Self-Control & Language):
غصے اور اختلاف کی حالت میں اپنی آواز کو پست رکھنا اور تلخ، زہر آلود یا طنز سے بھرپور الفاظ کے استعمال سے مکمل پرہیز کرنا آدابِ اختلاف کا بنیادی رکن ہے۔
3. دوسرے کی بات سننا اور سمجھنا (Active Listening):
صرف اپنا موقف مسلط کرنے کے بجائے سامنے والے کے نکتے کو کھلے دل اور صبر کے ساتھ سننا۔ کلام کاٹنے اور برتری جتانے کے رویے سے گریز کرنا اخلاقی پختگی ہے۔
4. حق بات کو قبول کرنے کا ظرف (Accepting Truth Gracefully):
اگر بحث کے دوران یہ واضح ہو جائے کہ سامنے والے کی بات درست ہے، تو اپنی انا کو قربان کر کے حق کو فوری قبول کر لینا مومن کی شان ہے۔
5. تعلق اور احترام کو قائم رکھنا (Preserving Relationships):
رائے کا اختلاف دلوں کا اختلاف نہیں بننا چاہیے۔ بحث ختم ہونے کے بعد بھی سلام و دعا، مسکراہٹ اور محبت کے تعلق کو ویسے ہی برقرار رکھنا نبوی اسوہ ہے۔
5۔ اختتامیہ
اختلاف میں ادب و احترام کو برقرار رکھنا انسان کے باطنی ظرف اور اس کے اخلاقی معیار کا سب سے بڑا کسوتی ہے۔ دنیا میں ہم ہر شخص کو اپنی سوچ کا تابع نہیں بنا سکتے، لیکن ہم اپنے رویے اور زبان کو نبوی تعلیمات کا تابع ضرور بنا سکتے ہیں۔ اگر ہمارے گھروں، اداروں، سوشل میڈیا اور سیاسی و دینی حلقوں میں اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام کا کلچر عام ہو جائے، تو ہمارے معاشرے کی نصف سے زیادہ تلخیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ آئیے! یہ پکا عزم کریں کہ ہم اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی دوسرے کی عزتِ نفس اور ادب کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے۔
دعا:
اللهم أصلح ذات بيننا وألّف بين قلوبنا واهدنا سبل السلام
اے اللہ! ہمارے باہمی تعلقات کی اصلاح فرما، ہمارے دلوں میں الفت ڈال دے، اور ہمیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
اختلاف کے نبوی آداب اور اخلاقیات کا یہ پیغام اپنے تمام احباب اور سوشل میڈیا گروپس میں شیئر کر کے صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
