

تمہید
اخلاص دین کی روح اور ہر عمل کی جان ہے۔ بظاہر بڑا عمل بھی اگر اخلاص سے خالی ہو تو اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں رکھتا، جبکہ معمولی سا عمل بھی خالص نیت کے ساتھ کیا جائے تو وہ اللہ کے نزدیک عظیم بن جاتا ہے۔ موجودہ دور میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ انسان نیکی تو کرتا ہے مگر اس میں اخلاص برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے اخلاص کی پہچان اور اس کی حفاظت ہر مومن کے لیے نہایت ضروری ہے۔
قرآن کی روشنی میں
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(البینہ: 5)
اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ خالص اللہ کی عبادت کریں۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عبادت کی اصل بنیاد اخلاص ہے، اور بغیر اخلاص کے عمل بے معنی ہو جاتا ہے۔
قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي
(الزمر: 14)
کہہ دیجیے میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔
یہ آیت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ بندگی کا صحیح معیار یہی ہے کہ انسان اپنی عبادت کو ہر قسم کی ریاکاری سے پاک رکھے۔
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ
(الشوریٰ: 20)
جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ خالص نیت سے کیا گیا عمل اللہ کے ہاں بڑھا دیا جاتا ہے اور اس میں برکت دی جاتی ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
فرمان نبوی ﷺ
إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ
صحیح مسلم رقم الحدیث: 2564
اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اصل اہمیت نیت اور دل کی کیفیت کی ہے، نہ کہ ظاہری شکل و صورت کی۔
فرمان نبوی ﷺ
مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ
صحیح البخاری رقم الحدیث: 6499
جو شخص دکھاوے کے لیے عمل کرے اللہ اسے رسوا کر دیتا ہے، اور جو ریاکاری کرے اللہ اسے ظاہر کر دیتا ہے۔
یہ حدیث اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ اخلاص کے بغیر کیا گیا عمل انسان کے لیے نقصان دہ بن جاتا ہے۔
اخلاص کی پہچان
تنہائی اور ظاہر میں یکسانیت
جو شخص خلوت اور جلوت میں ایک جیسا ہو، اس کے عمل میں اخلاص پایا جاتا ہے۔
تعریف اور تنقید سے بے نیازی
اخلاص والا شخص لوگوں کی تعریف یا مذمت سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ صرف اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھتا ہے۔
عمل کے بعد عاجزی
اخلاص کی علامت یہ ہے کہ انسان نیکی کر کے فخر کے بجائے عاجزی اختیار کرے اور قبولیت کی فکر کرے۔
نیکی کو چھپانے کی رغبت
مخلص بندہ اپنے نیک اعمال کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ریاکاری سے بچ سکے۔
اخلاص کے راستے میں رکاوٹیں
ریاکاری (دکھاوا)
لوگوں کو دکھانے کے لیے نیکی کرنا اخلاص کو ختم کر دیتا ہے اور عمل کو ضائع کر دیتا ہے۔
شہرت کی خواہش
نام و نمود کی طلب انسان کو اخلاص سے دور کر دیتی ہے۔
نفس کی چالیں
نفس انسان کو دھوکہ دے کر عمل میں ملاوٹ پیدا کر دیتا ہے۔
اخلاص پیدا کرنے کے ذرائع
اللہ کی معرفت حاصل کرنا
جب بندہ اللہ کی عظمت کو پہچانتا ہے تو اس کے اعمال خالص ہو جاتے ہیں۔
آخرت کی فکر
آخرت کو سامنے رکھ کر کیا گیا عمل اخلاص پیدا کرتا ہے۔
کثرتِ دعا
اخلاص اللہ کی عطا ہے، اس کے لیے دعا ضروری ہے۔
نیک لوگوں کی صحبت
اہلِ اخلاص کی صحبت انسان کو بھی اخلاص کی طرف مائل کرتی ہے۔
اقوالِ سلف صالحین
حسن بصری فرماتے ہیں:اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنے عمل کو لوگوں سے چھپائے جیسے وہ اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے۔
(حلیۃ الاولیاء، 2/146)
فضیل بن عیاض فرماتے ہیں:لوگوں کے لیے عمل چھوڑ دینا ریا ہے اور لوگوں کے لیے عمل کرنا شرک ہے، جبکہ اخلاص یہ ہے کہ اللہ تمہیں ان دونوں سے بچا لے۔
(جامع العلوم والحکم، ص: 25)
اختتامیہ
اخلاص وہ قیمتی دولت ہے جو عمل کو زندہ اور قابلِ قبول بناتی ہے۔ اگر عمل میں اخلاص نہ ہو تو وہ بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس لیے ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور ہر نیکی کو صرف اللہ کی رضا کے لیے انجام دے۔
دعا
اللّٰهُمَّ اجْعَلْ أَعْمَالَنَا كُلَّهَا صَالِحَةً، وَلِوَجْهِكَ خَالِصَةً، وَلَا تَجْعَلْ لِأَحَدٍ فِيهَا شَيْئًا
اے اللہ! ہمارے تمام اعمال کو نیک بنا دے، انہیں خالص اپنے لیے کر دے، اور اس میں کسی اور کا حصہ نہ رکھ۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔
