حرمت والے مہینوں میں غفلت کیوں بڑھتی ہے؟ اسباب اور حل | سلسلہ اصلاح قسط 162 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Discover why people neglect the spiritual significance of the sacred months (Ashhur Hurum). Read the profound analysis and remedies by Dr. Wajid Irshad."


غفلت کا حصار: حرمت والے مہینوں میں بے حسی کے اسباب
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: اصلاح (قسط نمبر: 162)
1۔ تمہید (Introduction)
ربِ کائنات نے سال کے بارہ مہینوں کے نظام میں سے چار مخصوص زمانوں کو غیر معمولی عظمت، تقدس اور حرمت سے نوازا ہے۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب المرجب وہ فضیلت والے مہینے ہیں جنہیں کلامِ پاک نے "اَشْهُرٌ حُرُم" (حرمت والے مہینے) کا لقب دیا ہے۔ ان مخصوص ایامِ مبارکہ میں جہاں نیک اعمال کا صلہ الٰہی میزان میں کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، وہاں گناہوں اور لغزشوں کی سنگینی اور ان کی نحوست بھی شدید تر ہو جاتی ہے۔ مگر دورِ حاضر کا ایک المیہ یہ ہے کہ جن مہینوں میں ایک سچے مؤمن کو اپنے قدم عبادات اور الٰہی رجوع کی طرف تیز کر دینے چاہئیں، انہی ایام میں معاشرے کا ایک بڑا حصہ گہری غفلت، بے معنی سماجی رسموں اور مادی مشاغل کی نذر نظر آتا ہے۔ یہ تضاد فکر و عمل کی فوری درستی اور اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔
2۔ قرآنی انتباہ اور ابدی ضابطے (The Qur'anic Premise)
قرآنِ مجید کی آیات ہمیں ان مہینوں کے تقدس کو پامال کرنے اور وقت کو غفلت میں گنوانے کے ہولناک انجام سے خبردار کرتی ہیں:
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ (سورۃ التوبہ: 36)
بے شک اللہ کے ہاں (لوحِ محفوظ کی) کتاب میں مہینوں کی گنتی بارہ ہے، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، لہٰذا تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
حرمت والے ایام میں گناہ کرنا یا احکامِ الٰہی سے منہ موڑنا دراصل اپنے ہی نفس پر سراسر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّکْرَىٰ تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (سورۃ الذاریات: 55)
اور آپ نصیحت فرماتے رہیے، کیونکہ یقیناً نصیحت مومنوں کو بہت فائدہ پہنچاتی ہے۔
انسانی دل پر غفلت کے پردے پڑتے رہتے ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے یاد دہانی اور فکری مجالس ناگزیر ہیں۔
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ (سورۃ الحشر: 19)
اور ان لوگوں جیسے نہ ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا، تو اللہ نے انہیں خود ان کی اپنی ذات سے ہی غافل کر دیا۔
خالقِ کائنات کو فراموش کرنے کا سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ انسان اپنی اخلاقی اور روحانی نفع و نقصان کی تمیز ہی کھو بیٹھتا ہے۔
3۔ ارشاداتِ نبوی ﷺ کی سنہری ہدایات (Prophetic Guidance)
احادیثِ مبارکہ ہمیں زمان و مکان کے تقدس کا شعور بخشتی ہیں اور غفلت کے اثرات سے بچنے کا رستہ دکھاتی ہیں:
• کائناتی نظام اور الٰہی تقسیم
السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4662)
سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، جن میں سے چار مہینے خاص حرمت اور ادب والے ہیں۔
اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ ان مہینوں کا احترام کائنات کے تکوینی نظام کا ایک لازمی اور ابدی حصہ ہے۔
• فراغت اور تندرستی کا خسارہ
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6412)
دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے معاملے میں بہت سے لوگ دھوکے (اور خسارے) میں مبتلا رہتے ہیں: ایک صحت اور دوسرا فراغت۔
حرمت والے مہینوں میں ملنے والی مہلت اور فراغت کو لایعنی کاموں میں ضائع کر دینا بہت بڑی محرومی ہے۔
• دور اندیش انسان کی پہچان
الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2459)
دانا اور عقل مند وہ شخص ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد آنے والے حالات کے لیے عمل کرے۔
حقیقی سمجھداری یہ ہے کہ ان بابرکت مہینوں کو آخرت کے بینک اکاؤنٹ میں اضافے کا ذریعہ بنایا جائے۔
4۔ حرمت والے مہینوں میں غفلت بڑھنے کے اسباب (Causes of Spiritual Neglect)
یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ معاشرے میں ان مقدس ایام کے دوران سستی اور بے پرواہی کیوں جنم لیتی ہے:
شرعی و فکری شعور کا فقدان: مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ان مہینوں کے فضائل، ان کے احکامات اور ان کی سائنسی و روحانی اہمیت سے سرے سے واقف ہی نہیں ہے۔
رسم و رواج کی سحر انگیزی: عبادات کی روح اور دین کے حقیقی تقاضوں کے بجائے، معاشرتی بدعات، غیر ضروری رسوم اور نعرے بازی توجہ کا اصل مرکز بن جاتے ہیں۔
مادیت کا غلبہ اور دنیاوی بھاگ دوڑ: کاروبار، معاشی چیلنجز اور لایعنی مشاغل انسان کو اس حد تک تھکا دیتے ہیں کہ وہ ذکرِ الٰہی کے لیے وقت نکالنے کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔
محاسبۂ نفس سے دوری: ان مہینوں کا اصل مقصد یہ تھا کہ انسان رک کر اپنے نامۂ اعمال کا جائزہ لے، مگر اپنے نفس کی نگرانی نہ کرنے کی وجہ سے انسان غفلت کے گہرے دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔
5۔ ایامِ حرمت کے حقیقی و شرعی تقاضے (The Spiritual Demands)
اگر ہم ان مبارک مہینوں کی برکات کو سمیٹنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے اندر یہ چار تبدیلیاں لانی ہوں گی:
الف) لغزشوں اور معاصی سے مکمل کنارہ کشی
چونکہ ان مہینوں میں گناہ کا وبال بڑھ جاتا ہے، اس لیے زبان، نگاہ، دل اور ہاتھ پیر کو ہر قسم کی چھوٹی بڑی نافرمانی اور معاشرتی برائی سے بچانا سب سے پہلا قدم ہے۔
ب) عبادات کے گراف میں اضافہ
صرف فرائض پر اکتفا کرنے کے بجائے نفلی نمازوں، کثرتِ تلاوت، تسبیحات اور دعاؤں کے ذریعے الٰہی قرب حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ج) حقوق العباد کی مخلصانہ ادائیگی
کسی پر ظلم نہ کرنا، کسی کا دل نہ دکھانا، مقروضوں کے ساتھ نرمی کرنا اور مالی و بدنی طور پر لوگوں کے کام آنا ان مہینوں کا بنیادی خاصہ ہے۔
د) سچی توبہ اور تجدیدِ حیات
ان ایام کو ایک سنہری موقع سمجھ کر اپنے ماضی کے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائے جائیں اور مستقبل کے لیے ایک پاکیزہ زندگی کا عزمِ مصمم کیا جائے۔
6۔ تاریخِ محرم الحرام کا خاص فکری پیغام (The Essence of Muharram)
ہجری سال کا پہلا مہینہ ہونے کے ناطے، محرم الحرام ہمیں صرف تاریخ کا ایک ورق پلٹنے کا درس نہیں دیتا، بلکہ یہ ایمان کی پختگی، پامردی، بے مثال قربانی اور سچائی پر سمجھوتہ نہ کرنے کا لافانی پیغام سناتا ہے۔ خانوادۂ رسول ﷺ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی لازوال قربانیاں ہمیں یہ باور کراتی ہیں کہ دینِ اسلام محض چند جذباتی نعروں یا سوگ کی مجالس تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ بیداریِ شعور، عمل کی پختگی اور الٰہی احکامات پر جان کی بازی لگا دینے کا نام ہے۔
7۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ حرمت والے مہینے ربِ ذوالجلال کی طرف سے انسانیت کے لیے روحانی ترقی، باطنی تطہیر اور نفس کی اصلاح کا ایک عظیم اور نایاب تحفہ ہیں۔ اگر ان نورانی اور بابرکت ایام میں بھی انسان غفلت کی چادر تان کر سویا رہے، تو اس سے بڑھ کر اس کا کوئی دنیاوی و اخروی خسارہ نہیں ہو سکتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ان مہینوں کی اصل قدر و منزلت کو پہچانیں، اپنے رویوں کا کڑا احتساب کریں اور غفلت کے پردوں کو چاک کر کے خالقِ کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔
دعا (Supplication)
اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي الْأَشْهُرِ الْحُرُمِ، وَأَعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ، وَاجْعَلْهَا سَبَبًا لِإِصْلَاحِ قُلُوبِنَا وَأَعْمَالِنَا
(دعائیہ کلمات)
"اے ہمارے رحیم و کریم اللہ! ہمارے لیے ان حرمت والے مہینوں میں برکتیں نازل فرما، ہمیں اپنی یاد، شکر گزاری اور بہترین طریقے سے بندگی کرنے کی توفیق عطا کر، اور ان مبارک ایام کو ہمارے دلوں کی صفائی اور اعمال کی اصلاح کا مستقل ذریعہ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔"
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
ہدایت اور اصلاح کا یہ پیغام دوسروں تک پہنچانا بہترین صدقہ جاریہ ہے۔ نیکی کے اس پھیلاؤ میں ہماری آواز بنیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
