حقوق العباد میں لاپرواہی کی جدید صورتیں
Neglecting the rights of others has become a serious issue in modern society. حقوق العباد میں لاپرواہی کی جدید صورتیں This article highlights how حقوق العباد are violated through dishonesty, digital misuse, broken promises, and injustice. With Quranic guidance and authentic Hadith, it explains the importance of fulfilling others’ rights in daily life. Learn how ethical behavior and accountability can protect your faith and build a just society.


حقوق العباد میں لاپرواہی کی جدید صورتیں
قسط نمبر: 114
ڈاکٹر واجد ارشاد
تمہید
اسلام میں حقوق العباد کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے، وہیں بندوں کے حقوق کی ادائیگی کو بھی لازم قرار دیا ہے۔ آج کے جدید دور میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو چکا ہے، کیونکہ حقوق العباد کی خلاف ورزیاں نئی نئی شکلوں میں سامنے آ رہی ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم عبادات میں تو سنجیدہ نظر آتے ہیں، مگر معاملات میں دوسروں کے حقوق کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جس سے معاشرہ عدم اعتماد اور ناانصافی کا شکار ہو جاتا ہے۔
مرکزی نکتہ / اصل مفہوم
حقوق العباد دراصل انسان کے باہمی تعلقات کا نظام ہے۔ اگر یہ درست ہو جائے تو معاشرہ امن، محبت اور انصاف کا گہوارہ بن جاتا ہے، اور اگر اس میں بگاڑ آ جائے تو فساد، نفرت اور بے سکونی عام ہو جاتی ہے۔
آج کے دور میں مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں حقوق العباد کا علم نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں اہمیت نہیں دیتے۔ ہم معمولی باتوں میں بھی دوسروں کا حق مار لیتے ہیں اور اسے معمول سمجھنے لگتے ہیں۔
ایک مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ نہ صرف عبادات میں بلکہ معاملات میں بھی دیانت دار ہو اور ہر حال میں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے۔
قرآن کی روشنی میں
ارشادِ باری تعالیٰ
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا
سورۃ النساء آیت 58
بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو۔
ارشادِ باری تعالیٰ
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ
سورۃ ہود آیت 85
لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔
ارشادِ باری تعالیٰ
إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
سورۃ المائدہ آیت 42
بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
فرمان نبوی ﷺ
مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضٍ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ
صحیح بخاری، رقم الحدیث 2449
جس نے اپنے بھائی پر ظلم کیا ہو وہ آج ہی اس سے معافی لے لے۔
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حقوق العباد میں تاخیر آخرت میں نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
فرمان نبوی ﷺ
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
صحیح بخاری، رقم الحدیث 10
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل مسلمان وہی ہے جو دوسروں کے لیے نقصان کا باعث نہ بنے۔
فرمان نبوی ﷺ
أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ
سنن ترمذی، رقم الحدیث 1264
امانت اس کے حق دار کو ادا کرو جس نے تم پر اعتماد کیا۔
یہ ہمیں دیانت داری اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔
مستند واقعہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ جس کے پاس مال نہ ہو۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، تو اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی۔
صحیح مسلم، رقم الحدیث 2581
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی نہ کرنے سے نیکیاں بھی ضائع ہو سکتی ہیں۔
عملی رہنمائی / نکات
ہر معاملے میں دیانت داری اختیار کریں
وعدوں کی پابندی کو اپنی عادت بنائیں
سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال کریں
کسی کی عزت اور کردار کو نقصان نہ پہنچائیں
مالی معاملات میں شفافیت رکھیں
قرض بروقت ادا کریں
دوسروں کے حقوق کو اپنی ذمہ داری سمجھیں
اصل پیغام
حقوق العباد کی ادائیگی کے بغیر عبادات مکمل نہیں ہوتیں۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق بھی ادا کرے۔
اختتامیہ
حقوق العباد دین کا وہ حصہ ہے جس کا تعلق براہِ راست ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ اگر ہم اس میں کوتاہی کریں تو ہماری عبادات بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات کو درست کریں اور دوسروں کے حقوق ادا کریں۔
دعا
اللّٰهُمَّ أَدِّ عَنَّا حُقُوقَ عِبَادِكَ وَاجْعَلْنَا مِنَ الْأُمَنَاءِ الصَّادِقِينَ
اے اللہ! ہمیں بندوں کے حقوق ادا کرنے والا بنا اور ہمیں سچے امانت داروں میں شامل فرما۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹی ٹیوٹ
نیکی پھیلانا صدقہ جاریہ ہے — آئیے اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں۔
