ہجرت کا حقیقی مفہوم اور کمفرٹ زون چھوڑنے کا عمل | سلسلہ فکر قسط 163 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Understand the spiritual essence of Hijrah as stepping out of your comfort zone. Learn how leaving sins leads to ultimate success, by Dr. Wajid Irshad."


فکری ہجرت: آسائش پسندی کے دائروں کو توڑنے کا عمل
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکر (قسط نمبر: 163)
1۔ تمہید (Introduction)
ہلالِ محرم الحرام کا طلوع ہونا اسلامی تاریخ کے اس لازوال اور تاریخ ساز موڑ کی یاد دلاتا ہے جسے ہم "ہجرتِ نبوی ﷺ" کے نام سے جانتے ہیں۔ ہجرت محض ایک جغرافیائی خطے سے دوسرے خطے کی طرف نقل مکانی یا وطنی مصلحت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انقلابی فکر، ایک غیر متزلزل جذبے اور بے مثال قربانی کی علامت ہے۔ ہجرت کا حقیقی اور آفاقی مفہوم یہ ہے کہ انسان خالقِ کائنات کی رضا کی خاطر اپنی ذاتی پسند، مادی آسائشوں، مصلحت آمیز مفادات اور اپنے مانوس "کمفرٹ زون" (آسائش پسندی کے دائرے) کو یکسر قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ تاریخِ اسلام کا عمیق مطالعہ گواہی دیتا ہے کہ کائنات میں بڑی کامیابیاں اور فکری انقلابات ہمیشہ انہی نفوس کا مقدر بنتے ہیں جو حق کی سربلندی کے لیے اپنی محدود اور سہولت پسند دنیا سے باہر نکلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
2۔ قرآنی حقائق اور فکری وسعتیں (The Qur'anic Dimension)
قرآنِ مجید کی آیاتِ بینات واضح کرتی ہیں کہ الٰہی راہ میں قربانی دینے اور جمود کو توڑنے والوں کے لیے ربِ ذوالجلال کے ہاں کتنی وسعتیں پنہاں ہیں:
وَمَن يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً (سورۃ النساء: 100)
اور جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں بہت سی پناہ گاہیں (جائے فرار) اور بڑی کشادگی پائے گا۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جب بندہ اللہ پر توکل کر کے قربانی دیتا ہے، تو بظاہر تنگ نظر آنے والی دنیا اس کے لیے رزق اور پناہ کے دروازے کھول دیتی ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ (سورۃ البقرہ: 218)
بے شک جو لوگ ایمان لائے، اور جنہوں نے (حق کی خاطر) اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں جہاد (سخت جدوجہد) کیا، وہی لوگ اللہ کی رحمت کے سچے امیدوار ہیں۔
ایمان، ہجرت اور جدوجہد کا یہ باہمی تعلق ظاہر کرتا ہے کہ سچی الٰہی رحمت محض باتوں سے نہیں، بلکہ عملی قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (سورۃ العنکبوت: 69)
اور جو لوگ ہماری راہ میں (مردانہ وار) کوشش کرتے ہیں، ہم یقیناً ان پر اپنے (ہدایت اور کامیابی کے) راستے کھول دیتے ہیں۔
جب انسان اپنے نفس کی سستی کے خلاف جنگ کر کے قدم بڑھاتا ہے، تو الٰہی رہنمائی اس کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی معنوی تشریح (Prophetic Insight)
رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادات ہمیں ہجرت کے ظاہری مفہوم سے آگے بڑھا کر اس کی باطنی اور اخلاقی حقیقت سے آشنا کرتے ہیں:
• حقیقی مہاجر کا معیار
الْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 10)
حقیقی اور سچا مہاجر وہ شخص ہے جو ان تمام امور اور کاموں کو یکسر چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
نبوی حکمت کا یہ اصول ہجرت کو ہر دور کے مسلمان کے لیے ایک زندہ اور متحرک عمل بنا دیتا ہے، جس کا تعلق گناہوں کے ترک کرنے سے ہے۔
• فتحِ مکہ کے بعد کا فکری لائحہ عمل
لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2783)
(مکہ کی) فتح کے بعد اب (وہاں سے مدینہ کی طرف) ہجرت باقی نہیں رہی، لیکن اب جہاد (نیکی کی مسلسل کوشش) اور نیتِ خیر کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے۔
مستند فرمان واضح کرتا ہے کہ ظاہری ہجرت کا دور بھلے ختم ہو گیا ہو، لیکن باطن کو پاک رکھنے اور نیت کو خالص کرنے کا جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔
• عمل کی قبولیت کی روح
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1)
تمام اعمال کی قبولیت اور ان کا دارومدار صرف اور صرف نیتوں پر ہے۔
ہمارا کوئی بھی فیصلہ، چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اگر اس کے پیچھے نیت کا اخلاص نہیں تو وہ بارگاہِ الٰہی میں بے وزن ہے۔
4۔ جدید دور میں ہجرت کے چار عملی رخ (Modern Interpretation of Hijrah)
آج کے مادی اور پرکشش دور میں ایک مسلمان اپنے اندرونی جمود کو توڑ کر ان چار طریقوں سے ہجرت کا مسافر بن سکتا ہے:
معاصی اور گناہوں کے دائرے سے ہجرت: زبان کا جھوٹ، پیٹھ پیچھے غیبت، دل کا حسد، معاشی معاملات میں سود و بددیانتی جیسے مہلک باطنی و ظاہری گناہوں کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دینا۔
بیمار معاشرتی ماحول سے ہجرت: ایسے حلقۂ احباب، ناپاک مجالس اور لایعنی تعلقات سے کنارہ کشی اختیار کر لینا جو انسان کو یادِ الٰہی سے غافل کر کے گناہوں پر اکساتے ہوں۔
روحانی بے حسی سے ہجرت: صبح و شام کو بے مقصد لایعنی کاموں اور اسکرینوں پر ضائع کرنے کے بجائے، ایک جاگتی، شعوری اور تعمیری زندگی کی طرف قدم بڑھانا۔
نفسانی خواہشات کے حصار سے ہجرت: جہاں انسان اپنے نفس کی تسکین اور "میں کیا چاہتا ہوں" کے صنم کو توڑ کر "میرا رب کیا چاہتا ہے" کے ابدی اصول کو اپنی زندگی پر نافذ کر لے۔
5۔ "کمفرٹ زون" باطنی ارتقاء میں سب سے بڑی رکاوٹ کیوں؟
انسان اپنی جبلّت کے اعتبار سے سستی، سہولت پسندی، اور مانوس عادتوں کے خول میں بند رہنا پسند کرتا ہے۔ لیکن اخلاقی بلندی، باطنی اصلاح اور دنیا و آخرت کی حقیقی رینکنک اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب انسان اس عارضی آسائش کے دائرے کو توڑنے کی ہمت دکھائے۔ دین پر مضبوطی سے جم جانا، علمِ نافع کا حصول، دعوت و اصلاح کا کٹھن راستہ اور کردار کی تعمیر— یہ سب امور پائیدار قربانی اور مسلسل جدوجہد مانگتے ہیں، جو کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے کبھی حاصل نہیں ہو سکتے۔
6۔ فکری ہجرت کے پانچ عملی تقاضے (The Practical Implementation)
اگر ہم اس سال واقعی ایک مہاجر بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں ان پانچ اقدامات سے ابتدا کرنی ہو گی:
1. کمزوریوں کا دیانت دارانہ اعتراف: سب سے پہلے تنہائی میں بیٹھ کر اپنی اخلاقی اور دینی خامیوں کی لسٹ بنائیں۔
2. غلط عادتوں پر کڑی ضرب: سستی، بدزبانی یا نمازوں میں تاخیر جیسی عادات کو یکدم ترک کرنے کا صائب فیصلہ کریں۔
3. صالحین کی رفاقت کا انتخاب: اپنے پاس ایسے لوگوں کو بٹھائیں جو آپ کو دین کی یاد دلائیں اور آپ کے اخلاق کو سنواریں۔
4. شریعت کے مطابق لائحہ عمل: اپنی روزمرہ کی زندگی کو خواہشات کے بجائے کتاب و سنت کے سانچے میں ڈھالیں۔
5. مسلسل ارتقاء کا عزم: ہر نئے دن کی ابتدا اس سوچ سے کریں کہ مجھے آج اپنے ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر مسلمان بننا ہے۔
7۔ ہجرت کا حقیقی و ابدی ثمر (The Ultimate Reward)
جو بندہ خالصۃً اللہ کی رضا کی خاطر اپنے نفس کی پسندیدہ برائی یا عارضی فائدے کو ٹھکرا دیتا ہے، الٰہی ضابطہ ہے کہ ربِ کریم اسے غیب سے اس سے کہیں بہتر، پاکیزہ اور پائیدار نعمت عطا فرما دیتا ہے۔ یہ عمل انسان کے اندر ایک اچھوتی سوچ، فولادی ایمان، بے داغ کردار اور توکل علی اللہ کی وہ دولت پیدا کرتا ہے جس کے سامنے دنیا کے تمام خزانے ہیچ ہیں۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ہجرت صرف تاریخ کی کتابوں میں بند کوئی پرانا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہر دور کے مؤمن کی زندگی میں سانس لیتا ہوا ایک مسلسل عمل ہے۔ جب تک انسان گناہوں کی سستی، غفلت کے پردوں، غلط ترجیحات کے ہجوم اور اپنے نفس کی غلامی سے ناطہ توڑ کر ہجرت کا آغاز نہیں کرتا، تب تک اس کی روحانی ترقی کا سفر نامکمل رہتا ہے۔ محرم الحرام کا یہ آغاز ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے شب و روز کا کڑا جائزہ لیں اور ربِ ذوالجلال کی خوشنودی کے لیے اپنی تمام تر اخلاقی و عملی کمزوریوں کو چھوڑ کر ایک نئی اور پاکیزہ زندگی کی طرف ہجرت کریں۔
دعا (Supplication)
اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ إِلَيْكَ بِقُلُوبِنَا وَأَعْمَالِنَا، وَوَفِّقْنَا لِتَرْكِ كُلِّ مَا يُبْعِدُنَا عَنْ رِضَاكَ
(دعائیہ کلمات)
"ایمان والوں کے پروردگار! ہمیں اپنے دلوں، ارادوں اور اعمال کے ساتھ اپنی طرف سچی ہجرت کرنے والوں میں شمار فرما، اور ہمیں ہر اس مادی و باطنی عمل کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کی ہمت عطا کر جو ہمیں تیری رضا اور خوشنودی سے دور کرتا ہو۔ آمین یا رب العالمین۔"
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
اس فکری اور اصلاحی پیغام کو دوسروں تک پہنچانا بہترین صدقہ جاریہ ہے۔ خیر کے اس سفر میں ہمارے دست و بازو بنیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
