Hifazat-e-Nazar / نظروں کی حفاظت
Lowering the gaze (Hifazat-e-Nazar / نظروں کی حفاظت) is a powerful act of spiritual discipline that protects the heart and strengthens faith. What the eyes see directly impacts the soul—pure vision leads to a pure heart, while unchecked glances can open the door to temptation and sin. Islam teaches us to guard our eyes, as it is the first step toward protecting our character and ایمان. In a world full of distractions, conscious effort is required to control our gaze. By avoiding what is forbidden and focusing on what is beneficial, a person can maintain inner peace and spiritual purity.
Dr. Wajid Irshad
4/1/20261 min read


نظروں کی حفاظت اور پاکیزگی
قسط نمبر: 91
ڈاکٹر واجد ارشاد
تمہید
اسلام نے انسان کی ظاہری اور باطنی پاکیزگی پر یکساں زور دیا ہے، اور اسی میں ایک اہم پہلو "نگاہ کی حفاظت" ہے۔ انسان کی نظر دل کا دروازہ ہوتی ہے، جو کچھ آنکھ دیکھتی ہے وہی دل میں اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر نظر پاک ہو تو دل پاک رہتا ہے، اور اگر نظر آلودہ ہو جائے تو دل بھی گناہوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے شریعت نے نگاہ کو نیچا رکھنے اور حرام چیزوں سے بچانے کی تاکید فرمائی ہے۔
قرآن کی روشنی میں
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ
(سورۃ النور، آیت: 30)
مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ
(سورۃ النور، آیت: 31)
اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں۔
يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ
(سورۃ غافر، آیت: 19)
اللہ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے بھید تک کو جانتا ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں:
فرمان نبوی ﷺ
النَّظَرُ سَهْمٌ مِّنْ سِهَامِ إِبْلِيسَ مَسْمُومٌ
(المستدرک للحاکم، رقم الحدیث: 7874، وقال: صحیح الاسناد)
نگاہ ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔
فرمان نبوی ﷺ:
اِن اللَہ كَتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبَهُ مِنَ الزِّنَا... فَزِنَا الْعَيْنَینِ النَّظَرُ
(صحیح مسلم، کتاب القدر، رقم الحدیث: 2657)
بلاشبہ اللہ نے انسان پر اس کے حصے کا زنا لکھ دیا ہے… پس آنکھوں کا زنا (حرام کو) دیکھنا ہے۔
فرمان نبوی ﷺ:
يَا عَلِيُّ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ
(سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، رقم الحدیث: 2149)
اے علی! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو، پہلی تمہارے لیے معاف ہے اور دوسری نہیں۔
نگاہ کی حفاظت کی اہمیت
دل کی پاکیزگی اور سکون کا ذریعہ گناہوں سے بچاؤ کا مضبوط وسیلہ* ایمان کی حفاظت کا سبب
* معاشرے میں پاکیزگی اور حیا کا فروغ
نگاہ کی حفاظت کیسے کریں؟
نظروں کو نیچا رکھنا
غیر محرم اور حرام چیزوں سے فوراً نظر ہٹا لینا عادت بنائیں۔
دل کو مصروف رکھنا
ذکر، تلاوت اور نیک کاموں میں دل کو مشغول رکھیں تاکہ گناہ کا خیال نہ آئے۔
تنہائی سے بچاؤ
ایسے ماحول سے بچیں جہاں گناہ کے مواقع زیادہ ہوں۔
فوری توبہ
اگر غلطی ہو جائے تو فوراً استغفار کریں اور آئندہ کے لیے عزم کریں۔
عملی منصوبہ
روزانہ: اپنی نظروں کا جائزہ لیں
ہفتہ وار: اپنی عادات کا تجزیہ کریں
ماہانہ: اپنی اصلاح اور بہتری کا منصوبہ بنائیں
اختتامیہ
نگاہ کی حفاظت دراصل دل اور ایمان کی حفاظت ہے۔ جو شخص اپنی نظر کو قابو میں رکھ لیتا ہے، وہ بہت سے گناہوں سے خود بخود بچ جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نظروں کی حفاظت کریں اور اپنی زندگی کو پاکیزہ بنائیں۔
دعا
اللّٰهُمَّ طَهِّرْ أَبْصَارَنَا وَقُلُوبَنَا، وَاحْفَظْنَا مِنْ كُلِّ مَا لَا يُرْضِيكَ۔
اے اللہ! ہماری نگاہوں اور دلوں کو پاک فرما اور ہمیں ہر اس چیز سے بچا جو تجھے ناپسند ہے۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔
