حق اور مقبولیت: کیا ہمیشہ ساتھ ہوتے ہیں؟ کثرت کا فریب | سلسلہ فکری اصلاح قسط 167 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Does truth always align with popularity? Discover the Islamic perspective on majority vs truth and overcome the illusion of numbers, by Dr. Wajid Irshad."


تعداد کا فریب: حق اور مقبولیت کا فکری و شرعی موازنہ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکری اصلاح (قسط نمبر: 167)
1۔ تمہید (Introduction)
انسانی تاریخ کا ایک گہرا المیہ یہ رہا ہے کہ انسان اکثر و بیشتر سچائی کی پہچان کے لیے "تعداد" اور "مقبولیت" کو سب سے بڑا ترازو تسلیم کر لیتا ہے۔ مادی معاشروں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس نظریے کے پیچھے کثیر عوام کھڑے ہوں، جسے سوسائٹی میں واہ واہ مل رہی ہو اور جو پبلک میں مقبولِ عام ہو، وہی ٹھیک اور برحق ہے۔ دورِ حاضر کے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے دور میں یہ فکری کجی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں سچ کا معیار لائکس، ویوز اور فالوورز کی گنتی بن چکا ہے۔ لیکن جب ہم دینِ اسلام اور کائناتی حقائق کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ حق اور مقبولیت (یا کثرت) کا آپس میں ہمیشہ ساتھ ہونا بالکل ضروری نہیں ہے۔ بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ اکثر اوقات حق بالکل تنہا، غریب اور بظاہر اقلیت میں رہا ہے، جبکہ باطل اپنے مادی لشکروں، پروپیگنڈے اور کثرت کی بنا پر مقبولیت کے سنگھاسن پر براجمان رہا ہے۔
2۔ قرآنی حقائق اور کثرت کا فریب (The Qur'anic Criterion)
قرآنِ مجید کی آیاتِ بینات ہمیں بار بار خبردار کرتی ہیں کہ اکثریت کا معیارِ زندگی اکثر گمراہی کی طرف لے جاتا ہے، اور حق کا ترازو کچھ اور ہے:
وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ (سورۃ الانعام: 116)
اور (اے حبیب!) اگر آپ زمین پر رہنے والے لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلیں گے، تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ محض عوام کی کثرت یا جمہور کی رائے کبھی بھی حق کی دلیل نہیں بن سکتی۔
قُلْ لَا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ (سورۃ المائدہ: 100)
آپ فرما دیجیے کہ ناپاک (برا) اور پاکیزہ (اچھا) برابر نہیں ہو سکتے، خواہ ناپاک کی کثرت آپ کو کتنی ہی بھلی (اور حیرت انگیز) کیوں نہ لگے۔
الٰہی قانون کے مطابق برائی کی مقبولیت اور اس کا پھیلاؤ اس کی خباثت کو شرافت میں تبدیل نہیں کر سکتا۔
وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (سورۃ سبا: 13)
اور میرے بندوں میں سے بہت ہی کم ایسے ہیں جو دل سے شکر گزار ہیں۔
ربِ کائنات خود گواہی دے رہا ہے کہ اعلیٰ صفات اور حق پرستی کی راہ اختیار کرنے والے لوگ ہمیشہ تعداد میں کم ہوتے ہیں۔
3۔ ارشاداتِ نبوی ﷺ کی فکری روشنی (Prophetic Standards)
احادیثِ مبارکہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ حق کے مسافروں کو تنہائی یا قلتِ تعداد سے گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ اپنے نظریے پر قائم رہنا چاہیے:
اسلام کا آغاز اور غرباء کی فضیلت
بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 145)
اسلام کا آغاز اجنبیت (اور تنہائی) کی حالت میں ہوا تھا اور عنقریب یہ دوبارہ اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، پس خوشخبری (اور مبارکباد) ہے ان اجنبیوں کے لیے۔
حق جب پہلی بار آتا ہے تو معاشرہ اسے قبول نہیں کرتا اور اس کے ماننے والے چند انگلیوں پر گنے جانے والے لوگ ہوتے ہیں۔
تنہا نبی اور حق کی گواہی
عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5705)
(شبِ معراج) مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، پس میں نے ایک نبی کو دیکھا جن کے ساتھ صرف ایک چھوٹی سی جماعت تھی، کسی نبی کے ساتھ صرف ایک یا دو آدمی تھے، اور کوئی نبی ایسا بھی تھا جس کے ساتھ ایک شخص بھی نہیں تھا۔
کائنات کے سچے ترین نفوس یعنی انبیاء کرام علیہم السلام اپنے پیغام میں سو فیصد سچے تھے، مگر قوم کی اکثریت نے انہیں مسترد کر دیا، جس سے ثابت ہوا کہ مقبولیت کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں۔
غثاء السیل (سیلاب کی جھاگ) کا دور
يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ... قَالُوا: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 4297، علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)
عنقریب قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی... صحابہ نے عرض کیا: کیا اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس دن تعداد میں بہت زیادہ ہوگے، لیکن تم سیلاب کے پانی پر آنے والے کوڑے کرکٹ (اور جھاگ) کی طرح بے وزن ہوگے۔
یہ فرمان واضح کرتا ہے کہ بنا اصول اور ایمان کے کثرت صرف ایک بھیڑ ہوتی ہے جس کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔
4۔ حق اور مقبولیت میں دوری کیوں پیدا ہوتی ہے؟ (Reasons for the Divide)
معاشرتی اور نفسیاتی طور پر سچائی اور سستی مقبولیت کے راستے ان چار وجوہات کی بنا پر الگ ہو جاتے ہیں:
نفس کی خواہشات کی ضد: حق ہمیشہ ڈسپلن، حلال و حرام کی تمیز، اخلاقی حدود اور قربانی مانگتا ہے، جبکہ باطل انسان کو کھلی چھوٹ اور عارضی لذت دیتا ہے۔ عوام فطری طور پر آسان راستے کی طرف بھاگتے ہیں۔
سچی بات کا کڑوا پن: حق بات بولنا اور اس پر قائم رہنا معاشرے کی مروجہ برائیوں پر ضرب لگاتا ہے، جس کی وجہ سے مفاد پرست ٹولہ اور مصلحت پسند اکثریت سچے داعی کی دشمن بن جاتی ہے۔
بھیڑ چال (Herd Mentality): انسانوں کی اکثریت خود سوچنے اور تحقیق کرنے کے بجائے اسی راستے پر چل پڑتی ہے جہاں پہلے سے زیادہ لوگ جا رہے ہوں، چاہے وہ رستہ تباہی کا ہی کیوں نہ ہو۔
سستی شہرت کا جادو: باطل اور لایعنی چیزیں ہمیشہ چمک دمک اور گلیمر کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں جو انسانی جذبات کو فوری اپیل کرتی ہیں، جبکہ حق سادہ اور سنجیدہ ہوتا ہے۔
5۔ سچائی اور معیار کو پرکھنے کے چار سنہری اصول (The True Criterion)
ایک بیدار مغز مسلمان کو معاشرے کی اندھی تقلید سے بچنے کے لیے اپنے سامنے یہ چار اصول رکھنے چاہئیں:
الف) حق سے مرد کو پہچانو، مرد سے حق کو نہیں
امیر المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ ابدی اصول ہے کہ پہلے اصول اور سچائی کو سمجھو کہ حق کیا ہے؛ جب تم حق کو پہچان لو گے تو تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ اس راستے پر چلنے والا سچا مسافر کون ہے، چاہے وہ دنیا کی نظر میں کتنا ہی گمنام کیوں نہ ہو۔
ب) سوشل میڈیا کے الوداعی فریب سے بچیں
کسی پوسٹ پر لاکھوں ویوز، کسی اکاؤنٹ کے ملین فالوورز یا کسی نظریے کے حق میں ہونے والی ٹرینڈنگ اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ چیز اللہ کے ہاں بھی برحق ہے۔ الٰہی رینکنگ کا معیار تقویٰ اور خلوص ہے۔
ج) تاریخ کا عمیق مطالعہ
تاریخ اٹھا کر دیکھیں؛ نمرود، فرعون، قارون اور ابوجہل اپنے اپنے دور میں مادی طور پر انتہائی طاقتور اور اپنی قوموں میں مقبول تھے، جبکہ حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور خود ہمارے نبی ﷺ کو ابتدا میں شدید ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انجام کس کا بہتر ہوا؟
د) تنہائی میں استقامت کا حوصلہ
اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ کا مؤقف قرآن و سنت کے مطابق ہے اور آپ حلال پر قائم ہیں، تو اس بات سے کبھی دل چھوٹا نہ کریں کہ آپ کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کی نظر میں ایک سچا انسان پوری امت پر بھاری ہوتا ہے۔
6۔ فکری اصلاح کا اصل اور حقیقی تقاضا کیا ہے؟
آج کے دور میں اس موضوع کو سمجھنے کا عملی معیار یہ ہے کہ:
1. ہم اپنے کاروبار، نوکری یا زندگی کے فیصلوں میں یہ نہ دیکھیں کہ "سب لوگ ایسا کر رہے ہیں"، بلکہ یہ دیکھیں کہ "شریعت کا حکم کیا ہے"۔
2. اگر پورا معاشرہ رشوت، سود، بے حیائی یا جھوٹ کو ایک عام رواج (Trend) بنا چکا ہو، تب بھی ہم اکیلے کھڑے ہو کر اس برائی کا انکار کریں۔
3. حق بات کہنے والے مخلص علماء اور داعیوں کا ساتھ دیں، چاہے پبلک میں ان کی واہ واہ نہ ہو رہی ہو۔
4. سستی شہرت اور مقبولیت کے حصول کے لیے اپنے دین، اخلاق اور باطنی اقدار کا سودا کبھی نہ کریں۔
7۔ حق پرستی کے ابدی ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو بندہ تعداد کے فریب کو توڑ کر سچائی کا دامن تھام لیتا ہے، اسے رب کی بارگاہ سے یہ انعامات ملتے ہیں:
باطنی استقلال اور وقار: اس کا ضمیر مادی دنیا کے سامنے کبھی جھکتا نہیں ہے اور اسے ایک لازوال قلبی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
ملائکہ کی رفاقت: دنیا کی بھیڑ بھلے اس سے دور ہو جائے، کائنات کے فرشتے اور اللہ کی رحمت اس کی محافظ بن جاتی ہے۔
تاریخ میں ابدی بقا: سستی شہرت پانے والے چند دنوں میں مٹ جاتے ہیں، لیکن اصولوں پر جینے والے رہتی دنیا تک کے لیے انسانوں کے دلوں کا نور بن جاتے ہیں۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ حق اور مقبولیت دو الگ الگ حقیقتیں ہیں۔ اگر کوئی سچی بات لوگوں میں مقبول ہو جائے تو یہ اللہ کا فضل ہے، لیکن اگر سچائی کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے، تب بھی سچ سچ ہی رہتا ہے۔ ایک سچے مؤمن کا کام بھیڑ اکٹھی کرنا یا سستی تالیاں سمیٹنا نہیں ہے، بلکہ اس کا کام ہر حال میں حق کا پیغام پہنچانا اور اس پر مضبوطی سے جم جانا ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں کا لائحہ عمل "اکثریت کی پسند" کے بجائے "خالقِ کائنات کی رضا" پر استوار کرنا ہوگا، کیونکہ کل قیامت کے دن حساب اس بات کا نہیں ہوگا کہ آپ کے ساتھ کتنے لوگ تھے، بلکہ حساب اس بات کا ہوگا کہ آپ حق کے ترازو پر کتنے پورے اترے۔
دعا (Supplication)
اللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ، وَلَا تَجْعَلْهُ مُلْتَبِسًا عَلَيْنَا فَنَضِلَّ
(دعائیہ کلمات)
"اے ہمارے پروردگار! ہمیں حق کو حق کر کے دکھا اور ہمیں اس کی پیروی کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں باطل کو باطل دکھا کر اس سے بچنے کا حوصلہ دے، اور حق و باطل کو ہمارے لیے خلط ملط نہ ہونے دے کہ کہیں ہم گمراہی میں نہ جا پڑیں۔ آمین یا رب العالمین۔"
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
فکر اور بیداری کے اس پیغام کو عام کرنا بہترین صدقہ جاریہ ہے۔ نیکی کے اس سفر میں ہمارا ساتھ دیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
