Gunahon ki Taraf Wapsi ka Khatar گناہوں کی طرف واپسی کا خطرہ

This insightful Islamic article, “Gunahon ki Taraf Wapsi ka Khatar (گناہوں کی طرف واپسی کا خطرہ)”, highlights the spiritual dangers of returning to sins after repentance and righteousness. In the light of the Qur’an and authentic Hadith, it explains the causes behind this relapse and offers practical guidance to stay firm on the path of obedience. A powerful reminder for self-correction, repentance, and maintaining consistency in good deeds.

Dr. Wajid Irshad

3/26/20261 min read

گناہوں کی طرف واپسی کا خطرہ

قسط نمبر: — 85

ڈاکٹر واجد ارشاد

تمہید

انسان جب نیکی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کے دل میں نور، سکون اور اللہ سے قرب پیدا ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات کمزوری، غفلت اور شیطان کے وسوسوں کی وجہ سے وہ دوبارہ گناہوں کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ یہ واپسی نہ صرف روحانی زوال کا سبب بنتی ہے بلکہ سابقہ نیکیوں کے اثرات کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ مؤمن کی شان یہ ہے کہ اگر اس سے لغزش ہو بھی جائے تو فوراً توبہ کر کے سنبھل جائے اور گناہ پر اصرار نہ کرے۔

قرآن کی روشنی میں

وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا

(النحل: 92)

اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

یہ آیت اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ نیکی کرنے کے بعد گناہوں کی طرف لوٹ جانا اپنی محنت کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ

(الأعراف: 201)

بیشک جو لوگ تقویٰ والے ہیں جب انہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ چھوتا ہے تو وہ چونک جاتے ہیں پھر فوراً انہیں بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان وقتی لغزش کے بعد فوراً رجوع کر لیتے ہیں اور گناہ پر قائم نہیں رہتے۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

فرمان نبوی ﷺ

كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ

سنن الترمذی رقم الحدیث: 2499

ہر انسان خطا کار ہے اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو بہت زیادہ توبہ کرنے والے ہیں۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ گناہ ہو جانا انسانی کمزوری ہے مگر گناہ پر ڈٹے رہنا خطرناک ہے۔

فرمان نبوی ﷺ

إِذَا أَذْنَبَ الْعَبْدُ ذَنْبًا كَانَتْ نُكْتَةً سَوْدَاءَ فِي قَلْبِهِ

سنن ابن ماجہ رقم الحدیث: 4244

جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ مسلسل گناہ دل کی تاریکی اور روحانی بیماری کا سبب بنتے ہیں۔

اقوالِ سلف

امام حسن بصری فرماتے ہیں:

گناہ کی سزا یہ ہے کہ انسان مزید گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

یہ قول اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ گناہ انسان کو نیکی سے دور اور مزید برائی کی طرف کھینچتے ہیں۔

امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

جب بندہ نیکی چھوڑ دیتا ہے تو شیطان اسے گناہ میں مشغول کر دیتا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکی سے غفلت انسان کو شیطانی راستوں کی طرف لے جاتی ہے۔

گناہوں کی طرف واپسی کے اسباب

نیک ماحول سے دوری برے دوستوں کی صحبت عبادات میں سستی دل کی سختی اور غفلت* توبہ میں تاخیر

روحانی و عملی نقصانات

دل سے نورِ ایمان کا کم ہونا عبادت میں لذت کا ختم ہونا* دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ* بے سکونی اور اضطراب* آخرت کی ناکامی کا خطرہ

بچاؤ کی تدابیر

سچی توبہ اور فوری رجوع الی اللہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا* ذکر و تلاوت کی پابندی* گناہ کے مواقع سے دوری* نفس کا محاسبہ

اختتامیہ

مؤمن کی زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ گناہ سے مکمل معصوم ہونا ممکن نہیں، مگر گناہ پر قائم رہنا تباہی ہے۔ کامیاب وہ ہے جو ہر لغزش کے بعد سنبھل جائے، توبہ کرے اور دوبارہ نیکی کے راستے پر چل پڑے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے خوش ہوتا ہے، اس لیے مایوسی کی بجائے رجوع اور اصلاح کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

دعا

اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا وَاهْدِنَا إِلَى صِرَاطِكَ الْمُسْتَقِيمِ

اے اللہ! ہمارے گناہ معاف فرما، ہماری توبہ قبول فرما اور ہمیں سیدھے راستے پر قائم رکھ۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔