Gunah-e-Zaban / زبان کے گناہ
Sins of the tongue (Gunah-e-Zaban / زبان کے گناہ) may seem small, but they can have devastating consequences on a person’s faith and akhirah. Words like lies, backbiting, gossip, and useless talk slowly destroy good deeds and harden the heart without us even realizing it. Islam teaches us that every word we speak is recorded, and even a single careless statement can lead to serious consequences. True success lies in controlling the tongue—speaking only what is good or remaining silent. By being mindful of our speech and engaging in remembrance of Allah, we can protect our ایمان and purify our character.


زبان کے گناہ: معمولی یا مہلک؟
قسط نمبر: 92
ڈاکٹر واجد ارشاد
تمہید
زبان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، لیکن یہی زبان اگر قابو میں نہ رہے تو انسان کی ہلاکت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ بظاہر معمولی لگنے والے گناہ—جیسے جھوٹ، غیبت، چغلی اور فضول گفتگو—درحقیقت انسان کے اعمال کو تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے روحانی مقام کو گرا دیتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے زبان کی حفاظت پر خاص زور دیا ہے۔
قرآن کی روشنی میں
مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
(سورۃ ق، آیت: 18)
انسان جو بھی بات کہتا ہے، اس کے پاس ایک نگران فرشتہ موجود ہوتا ہے۔
وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا
(سورۃ الحجرات، آیت: 12)
اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا
(سورۃ الأحزاب، آیت: 70)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
فرمان نبوی ﷺ
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
(صحیح البخاری، کتاب الأدب، رقم الحدیث: 6136؛ صحیح مسلم، رقم: 47)
جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ یا تو اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔
فرمان نبوی ﷺ
إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ
(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6478؛ صحیح مسلم، رقم: 2988)
بے شک انسان ایک ایسی بات کہہ دیتا ہے جسے وہ معمولی سمجھتا ہے، مگر اسی کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے۔
فرمان نبوی ﷺ
هَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ
(سنن الترمذی، کتاب الایمان، رقم الحدیث: 2616، وقال: حسن صحیح)
کیا لوگوں کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں گرانے والی چیز ان کی زبانوں کی کمائی کے سوا کچھ اور ہے؟
زبان کے گناہوں کے نقصانات
نیکیوں کا ضائع ہونا دل کی سختی اور بے برکتی* معاشرتی فساد اور نفرت کا پھیلاؤ* آخرت میں سخت حساب
زبان کی حفاظت کیسے کریں؟
بولنے سے پہلے سوچیں
ہر بات کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ یہ فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔
خاموشی اختیار کریں
فضول اور غیر ضروری گفتگو سے بچیں، کیونکہ خاموشی بھی عبادت ہے۔
ذکر میں مشغول رہیں
اپنی زبان کو اللہ کے ذکر، تلاوت اور نیک باتوں میں لگائیں۔
غلطی پر توبہ
اگر زبان سے کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً استغفار کریں اور آئندہ کے لیے احتیاط کریں۔
عملی منصوبہ
روزانہ: اپنی گفتگو کا جائزہ لیں
ہفتہ وار: اپنی عادات کو بہتر بنائیں
ماہانہ: زبان کے استعمال میں واضح تبدیلی لائیں
اختتامیہ
زبان کے گناہ بظاہر معمولی نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ نہایت مہلک ہوتے ہیں۔ کامیاب وہی ہے جو اپنی زبان کو قابو میں رکھے اور اسے نیکی کے لیے استعمال کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی گفتگو کو پاکیزہ بنائیں اور ہر بات اللہ کی رضا کے مطابق کریں۔
دعا
اللّٰهُمَّ احْفَظْ أَلْسِنَتَنَا مِنَ الْخَطَايَا، وَاجْعَلْهَا ذَاكِرَةً لَّكَ۔
اے اللہ! ہماری زبانوں کو گناہوں سے محفوظ فرما اور انہیں اپنے ذکر میں مشغول رکھ۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔
