غفلت سے بیداری: پہلا قدم - تنبہ، خود احتسابی اور باطنی اصلاح | قسط 203 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Overcome negligence (Ghaflat) in Islam. Discover the first step to spiritual awakening, self-reflection, prophetic guidance, and inner reform by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

7/22/20261 min read

غفلت سے بیداری: پہلا قدم - تنبہ، خود احتسابی اور باطنی اصلاح

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 203)

1۔ تمہید (Introduction)

انسانی زندگی کی سب سے بڑی باطنی و روحانی بیماری "غفلت" ہے۔ غفلت سے مراد انسان کا مقصدِ حیات سے بے خبر ہو کر محض مادی لذتوں، دنیاوی آسائشوں اور نفسانی خواہشات میں مست ہو جانا ہے۔ انسان دن رات دنیا بنانے میں مصروف رہتا ہے لیکن اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ اس کا قیام یہاں عارضی ہے اور اسے ایک دن اپنے خالقِ حقیقی کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔ یہ غفلت انسان کے دل کو زنگ آلود کر دیتی ہے، روح کی صلاحیتوں کو مفلوج بنا دیتی ہے اور بالاخر اسے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے۔

اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس کے سفر میں سب سے پہلا اور اہم ترین قدم "غفلت سے بیداری" (یقظہ و تنبہ) ہے۔ جب تک انسان کو یہ احساس ہی نہ ہو کہ وہ خوابِ غفلت میں سویا ہوا ہے اور اس کی زندگی ضائع ہو رہی ہے، اس وقت تک وہ توبہ، رجوع الی اللہ یا سچی اصلاح کی طرف مائل نہیں ہو سکتا۔ بیداری کا یہ پہلا قدم ہی دل میں انقلاب پیدا کرتا ہے اور بندے کو فانی دنیا کے سحر سے نکال کر دائمی آخرت کی فکر عطا کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں غفلت کے خطرات کیا ہیں؟ بیداریِ باطن کی علامتیں کیا ہیں؟ اور غفلت کی نیند سے جاگنے کا عملی طریقہ کیا ہے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی و اصلاحی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے غفلت میں ڈوبے انسانوں کو متنبہ کرتے ہوئے بیداری اور حیاتِ قلبی کی دعوت دی ہے:

اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ (سورۃ الانبیاء: 1)

لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ پہنچا ہے، اور وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔

قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۖ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ (سورۃ سبا: 46)

آپ فرما دیجیے: میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے اٹھ کھڑے ہو (اور غور و فکر کرو)۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث امت کو غفلت کے ہولناک نتائج سے ڈراتی ہیں اور بیداری کی ترغیب دیتی ہیں:

• دنیا کی رغبت سے پیدا ہونے والی غفلت کا ڈر

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "فَوَاللَّهِ لاَ الفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، وَتُهْلِكُكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ"

(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3158 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2961)

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں فقر و تنگدستی کا ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے یہ ڈر ہے کہ تم پر دنیا اس طرح کشادہ کر دی جائے گی جیسے تم سے پہلی قوموں پر کی گئی تھی، پھر تم دنیا کی حرص میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو گے جیسے انہوں نے کیا تھا، اور یہ دنیا تمہیں بھی اسی طرح غافل کر کے ہلاک کر دے گی جیسے ان کو ہلاک کر دیا تھا۔

• غفلت سے نبوی پناہ کی دعا

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَدْعُو: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ العَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالجُبْنِ وَالبُخْلِ، وَالهَرَمِ وَالقَسْوَةِ، وَالغَفْلَةِ وَالعَيْلَةِ..."(صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: 1023 / المستدرک للحاکم)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یوں دعا مانگتے تھے: اے اللہ! میں عاجزی، سستی، بزدلی، بخل، سخت بڑھاپے، سنگ دلی، غفلت اور محتاجی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

4۔ غافل انسان اور بیدار مغز مومن کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

خوابِ غفلت میں ڈوبے ہوئے انسان اور بیدار مغز مومن کے درمیان یہ بنیادی علمی و عملی فرق ہے:

1۔ وقت کی اہمیت اور قدر:

غافل انسان: وقت کو فضول کاموں، لغو گفتگو اور تفریح میں ضائع کرنا۔

بیدار مغز مومن: ہر لمحے کو غنیمت سمجھنا، ذکرِ الٰہی اور آخرت کی تیاری میں صرف کرنا۔

2۔ گناہوں اور غلطیوں پر رویہ:

غافل انسان: گناہ کر کے بے پروا رہنا، اسے معمولی سمجھنا اور توبہ میں تاخیر کرنا۔

بیدار مغز مومن: ذرا سی لغزش پر بھی دل کا کانپ اٹھنا اور فوراً استغفار کرنا۔

3۔ دنیا اور آخرت کی ترجیحات:

غافل انسان: تمام تر توانائی دنیاوی عہدے، مال اور شہرت کے حصول میں لگانا۔

بیدار مغز مومن: دنیا کو بقدرِ ضرورت استعمال کرنا اور آخرت کی فلاح کو ترجیح دینا۔

4۔ قلبی و باطنی کیفیت:

غافل انسان: ظاہری چمک دمک کے باوجود باطنی بے چینی، قساوتِ قلبی اور سختی۔

بیدار مغز مومن: خشوع و خضوع، رقتِ قلب اور اطمینانِ روح۔

5۔ غفلت سے بیداری اور اصلاح کے 5 عملی ذرائع (Strategies)

خوابِ غفلت سے جاگنے اور باطنی بیداری حاصل کرنے کے پانچ بنیادی ذرائع یہ ہیں:

الف) موت اور فکرِ آخرت کا استحضار: روزانہ یہ یاد کریں کہ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، کسی بھی وقت موت کا بلاوا آ سکتا ہے۔

ب) قرآنِ مجید کی تدبر کے ساتھ تلاوت: قرآن کی ان آیات پر غور کریں جو آخرت کی جواب دہی، جنت اور دوزخ کا منظر پیش کرتی ہیں۔

ج) محاسبہ نفس اور تنہائی میں تدبر: روزانہ کچھ وقت تنہائی میں بیٹھ کر اپنے احوال و اعمال کا جائزہ لیں اور اپنی غفلتوں پر آنسو بہائیں۔

د) ذکرِ الٰہی کا دوام: زبان اور دل کو اللہ کے ذکر (استغفار، درود شریف، اور تسبیحات) سے تر رکھیں کیونکہ ذکرِ الٰہی غفلت کا بہترین علاج ہے۔

ہ) غافلوں سے دوری اور صالحین کی صحبت: ایسے ماحول اور دوستوں سے پرہیز کریں جو دنیا پرستی سکھاتے ہیں اور نیکیوں کی طرف ابھارنے والوں کا ساتھ اپنائیں۔

6۔ غفلت سے بیداری اور سچے تنبہ کا معیار

عملی زندگی میں غفلت سے حقیقی بیداری کا معیار یہ ہے کہ:

• انسان فرائضِ دینیہ (بالخصوص باجماعت نماز) کی ادائیگی میں ذرا بھی سستی محسوس نہ کرے۔

• گناہ کی فکر دل میں آتے ہی باطنی ضمیر ملامت کرے اور فوراً توبہ کی طرف قدم اٹھے۔

• مخلوق کے حقوق کی اداکاری میں بیداری آئے اور کسی کا حق مارنے کا ڈر قائم ہو جائے۔

7۔ غفلت سے بیداری کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان غفلت کی نیند سے جاگ کر اصلاح کی راہ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم انعامات عطا فرماتا ہے:

• حیاتِ قلبی اور روحانی بیداری: دل کا مردہ پن ختم ہو جاتا ہے اور عبادت میں باطنی لذت نصیب ہوتی ہے۔

• وقت کی برکت اور باطنی سکون: زندگی کی ساعات میں برکت پیدا ہوتی ہے اور دل دنیاوی خدشات سے آزاد ہو جاتا ہے۔

• حسنِ خاتمہ اور الٰہی رضا: بیدار مغز انسان کی زندگی اطاعت میں گزرتی ہے جس کا نتیجہ ایمان پر خاتمے کی صورت میں نکلتا ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ غفلت سے بیداری انسانی زندگی کا وہ تاریخی اور روحانی موڑ ہے جو اسے تباہی کی راہ سے ہٹا کر نجات کے راستے پر گامزن کر دیتا ہے۔ اگر انسان اسی غفلت کی حالت میں دنیا سے چلا گیا تو پھر حسرت و افسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ عقلمند وہ ہے جو موت کا فرشتہ آنے سے پہلے جاگ جائے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور اپنے رب کی طرف لوٹ آئے۔ بیداری کا یہ پہلا قدم ہی انسان کو تزکیۂ نفس اور معرفتِ الٰہی کی بلند ترین منازل تک پہنچاتا ہے۔ آئیے! ہم سب مل کر آج ہی غفلت کی چادر اتار پھینکیں اور سچی توبہ و اصلاح کے ساتھ نئی ایمانی زندگی کا آغاز کریں۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ نَبِّهْنَا مِنْ سِنَةِ الْغَفْلَةِ، وَوَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْقَسْوَةِ وَالْغَفْلَةِ وَالذَّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ، وَاجْعَلْ حَيَاتَنَا زِيَادَةً لَنَا فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَالْمَوْتَ رَاحَةً لَنَا مِنْ كُلِّ شَرٍّ۔

اے اللہ! ہمیں غفلت کی نیند سے بیدار فرما، اور ہمیں ان کاموں کی توفیق دے جن سے تو راضی اور خوش ہوتا ہے۔ اے اللہ! میں دل کی سختی، غفلت، ذلت اور محتاجی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ہماری زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا ذریعہ بنا اور موت کو ہر شر سے راحت کا باعث بنا۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

غفلت سے بیداری اور باطنی اصلاح کا یہ اہم پیغام کسی خوابیدہ انسان کو جگانے اور اس کی آخرت سنوارنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.