Ghaflat-e-Dunya / غفلتِ دنیا

Concern for the Hereafter (Akhirah) and negligence of the world (Ghaflat-e-Dunya / غفلتِ دنیا) is a reality many people ignore. While this world is temporary and full of distractions, the Hereafter is eternal and far more important. People often become so busy in worldly life that they forget their ultimate purpose and accountability before Allah. True success lies in living in this world with awareness of the next—remembering death, staying connected with عبادات, and preparing for the life that never ends.

Dr. Wajid Irshad

4/4/20261 min read

تمہید

دنیا ایک عارضی ٹھکانہ ہے جبکہ آخرت ہمیشہ کی زندگی ہے۔ لیکن افسوس کہ انسان دنیا کی رنگینیوں، مصروفیات اور خواہشات میں ایسا الجھ جاتا ہے کہ اسے اپنی اصل منزل یاد نہیں رہتی۔ یہی غفلت انسان کو اللہ سے دور اور گناہوں کے قریب کر دیتی ہے۔ کامیاب وہی ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کو مقدم رکھے اور ہر عمل اس شعور کے ساتھ کرے کہ ایک دن اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔

قرآن کی روشنی میں

بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۝ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ

(سورۃ الأعلى، آیت: 16-17)

بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔

اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ

(سورۃ الأنبیاء، آیت: 1)

لوگوں کا حساب قریب آ گیا ہے اور وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ

(سورۃ الحدید، آیت: 20)

جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل تماشہ اور دل بہلانے کی چیز ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

فرمان نبوی ﷺ

كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ

(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، رقم الحدیث: 6416)

دنیا میں ایسے رہو جیسے تم مسافر یا اجنبی ہو۔

فرمان نبوی ﷺ

الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ

(صحیح مسلم، کتاب الزہد، رقم الحدیث: 2956)

دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔

فرمان نبوی ﷺ

أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ

(سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2307، وقال: حسن)

لذتوں کو ختم کرنے والی چیز (موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو۔

دنیا کی غفلت کے نقصانات

* آخرت کی تیاری سے غفلت* گناہوں میں اضافہ* دل کی سختی* اللہ سے دوری

آخرت کی فکر کیسے پیدا کریں؟

موت کو یاد رکھیں

موت کی یاد انسان کو سنجیدہ بناتی ہے۔

عبادات کی پابندی

نماز، ذکر اور تلاوت کو معمول بنائیں۔

قرآن پر غور

قرآن آخرت کی حقیقت واضح کرتا ہے۔

نیک صحبت

صالح لوگوں کی مجلس اختیار کریں۔

عملی منصوبہ

روزانہ: موت اور آخرت کو یاد کریں

ہفتہ وار: اعمال کا جائزہ

ماہانہ: زندگی کا رخ درست کریں

اختتامیہ

دنیا کی غفلت انسان کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ آخرت کی فکر اسے کامیابی کی راہ پر ڈال دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھیں اور اپنی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے لیے وقف کریں۔

دعا

اللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَاجْعَلِ الْآخِرَةَ هِيَ دَارَنَا۔

اے اللہ! دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر نہ بنا اور آخرت کو ہمارا اصل گھر بنا دے۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔

آخرت کی فکر اور دنیا کی غفلت

قسط نمبر: 94

ڈاکٹر واجد ارشاد