فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت اور خود کو بچانے کا لائحہ عمل | قسط 178 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Learn the practical strategies and Islamic guidelines to protect your Eman and self from modern-day fitnah and digital challenges by Dr. Wajid Irshad."


فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت اور خود کو بچانے کا لائحہ عمل
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 178)
1۔ تمہید (Introduction)
ہم تاریخِ انسانی کے ایک ایسے پیچیدہ اور مخدوش دور سے گزر رہے ہیں جہاں فتنوں کا ایک لامتناہی سیلاب ہے جس نے انسانی عقل، اخلاق اور ایمان کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ دورِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ گناہ اور فکری گمراہی اب صرف گھر کی دہلیز تک محدود نہیں رہے، بلکہ سوشل میڈیا، اسمارٹ فون اور ڈیجیٹل آلودگی کے ذریعے ہر شخص کی جیب اور تنہائیوں میں سرائیت کر چکے ہیں۔ الحاد، مادہ پرستی، شہوات کی بے لگام ترغیب اور حق و باطل کا خلط ملط ہونا اس دور کے وہ سنگین چیلنجز ہیں جن سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔
قرآن و سنت کا انقلابی منہج ہمیں یہ فکری شعور عطا کرتا ہے کہ فتنوں کا آنا سنتِ الٰہی ہے، لیکن ان فتنوں کے درمیان خود کو بچانے اور اپنے ایمان کا حصار قائم کرنے کی ذمہ داری خود انسان پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم نے عصرِ حاضر کے ان فکری و اخلاقی حملوں کے خلاف کوئی مضبوط لائحہ عمل تیار نہیں کیا، تو باطل کا یہ تیز بہاؤ ہمیں بہا لے جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پرآشوب دور میں ایک عام مؤمن اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ایمانی حفاظت کیسے کرے؟ اور فتنوں کی اس دلدل سے خود کو محفوظ رکھنے کے عملی راستے کیا ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا علمی محاکمہ کریں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
کلامِ الٰہی ہمیں فتنوں کی حقیقت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے والوں کے لیے غیبی نصرت کا مژدہ سناتا ہے:
أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (سورۃ العنکبوت: 2)
کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنی بات کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ "ہم ایمان لائے" اور ان کو آزمایا (فتنوں میں ڈالا) نہیں جائے گا؟
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّه_ُ مَا يَشَاءُ
(سورۃ ابراہیم: 27)
اللہ ایمان والوں کو اس پکی بات (توحید) کی برکت سے دنیا کی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں بھی، اور اللہ ظالموں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے، اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ نے چودہ سو سال پہلے ہی عصرِ حاضر کے ان فتنوں کی نشان دہی فرما دی تھی اور ان سے بچنے کا حل بھی ارشاد فرما دیا تھا:
• اندھیری رات جیسے فتنوں کی پیشگوئی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا" (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 121)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فتنوں کے آنے سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، وہ فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح (پیا پے) آئیں گے، آدمی صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر، یا شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، وہ دنیا کے تھوڑے سے مال کے بدلے اپنا دین بیچ ڈالے گا۔
• فتنوں کے دور میں علیحدگی اور عافیت
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 19)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب وہ وقت آئے گا جب مسلمان کا سب سے بہترین مال وہ بھیڑ بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چلا جائے گا، وہ فتنوں سے اپنے دین کو بچانے کے لیے بھاگ رہا ہوگا۔
4۔ عصرِ حاضر کے فتنوں کے نفسیاتی و معاشرتی اسباب (Why Fitnah Prevails)
موجودہ دور میں فتنوں کا وار اتنا گہرا اور اثر انگیز ہونے کے پیچھے یہ چار بنیادی وجوہات ہیں:
1. انفارمیشن کا سیلاب اور فکری الحاد (Information Overload): انٹرنیٹ پر بلا روک ٹوک ایسے نظریات اور شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے ہیں جو نوجوان نسل کے عقائد پر براہِ راست حملہ آور ہوتے ہیں۔
2. تنہائیوں کا اسکرین کے سپرد ہونا: جب انسان اکیلا ہوتا ہے، تو موبائل اسکرین اسے دنیا کے ہر گناہ اور فحاشی تک رسائی سیکنڈوں میں دے دیتی ہے، جس سے باطنی تقویٰ پامال ہو جاتا ہے۔
3. مادہ پرستی اور عجلت پسندی: دنیاوی آسائشوں کی اندھی ہوس نے انسان سے حلال و حرام کا فرق چھین لیا ہے، اور ہر شخص کم وقت میں امیر ہونے کے چکر میں فتنوں کا شکار ہو رہا ہے۔
4. دینی ماحول اور صالحین کی صحبت سے دوری: عصرِ حاضر کا انسان اپنی دنیاوی لائف اسٹائل میں اتنا مگن ہے کہ اس کے پاس سچے علماء اور نیک لوگوں کے پاس بیٹھنے کا وقت ہی نہیں بچا۔
5۔ فتنوں سے خود کو بچانے کے پانچ عملی طریقے (Strategies for Preservation)
اس پرآشوب دور میں اپنے ایمان کا دفاع کرنے اور خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ان پانچ اصولوں پر سختی سے کاربند ہو جائیں:
الف) ڈیجیٹل ان پٹ پر سخت سنسرشپ
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فلٹر کریں۔ ہر اس پیج، گروپ یا یوٹیوب چینل کو ان فالو (Unfollow) کر دیں جو آپ کے دل میں شہوت، شک یا دنیا کی محبت پیدا کرے۔ اپنی ڈیجیٹل غذا کو پاکیزہ بنائیں۔
ب) علمِ نافع کا حصول اور فکری پختگی
شکوک و شبہات کے اس دور میں اپنے عقائد کو مضبوط کرنے کے لیے مستند دینی کتب کا مطالعہ کریں۔ جب تک آپ کے پاس علم نہیں ہوگا، آپ باطل کے فکری حملوں کا جواب نہیں دے پائیں گے۔
ج) اجتماعی ماحول اور صالحین کا حصار
تنہائی فتنوں کی آماجگاہ ہے۔ خود کو مسجد کے ماحول، نیک دوستوں اور اصلاحی مجالس سے جوڑ کر رکھیں۔ اکیلی بھیڑ کو بھیڑیا جلدی کھا جاتا ہے، اسی طرح اکیلا انسان فتنوں کا آسان ہدف ہوتا ہے۔
د) دعا اور استغفار کا مستقل روزمرہ
روزانہ کی بنیاد پر فتنوں سے بچنے کی مسنون دعائیں مانگیں۔ خصوصاً نماز کے آخری تشہد میں دجال اور زندگی و موت کے فتنوں سے پناہ مانگنے کو اپنی عادت بنائیں۔
ہ) لایعنی اور اختلافی بحثوں سے دوری
سوشل میڈیا یا عام محافل میں ہونے والی لاحاصل مذہبی، سیاسی اور فکری بحثوں سے خود کو دور رکھیں۔ یہ بحثیں دل کو سخت کرتی ہیں اور انسان کو فتنوں میں ملوث کر دیتی ہیں۔
6۔ فتنوں سے بچنے کا حقیقی اور سچا معیار کیا ہے؟
عصرِ حاضر میں فتنوں کے خلاف خود کو بچانے کا سچا معیار یہ ہے کہ:
جب سوشل میڈیا پر کوئی گناہ یا سستی شہرت کا موقع سامنے آئے، تو انسان "خوفِ خدا" کے تحت اپنے انگوٹھے کو روک لے اور اسے سکرول کر کے آگے بڑھ جائے۔
جب معاشرے میں کسی برائی کو "جدید لائف اسٹائل" کا نام دے کر جائز قرار دیا جا رہا ہو، تب بھی بندہ سنتِ نبوی ﷺ پر ڈٹ جائے اور اسے پسماندگی نہ سمجھے۔
تنہائی میں جب گناہ کا پورا موقع ہو اور دنیا کا کوئی قانون پکڑنے والا نہ ہو، تب بندہ یہ سوچ کر رک جائے کہ "میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے"۔
7۔ فتنوں کے دور میں ثابت قدمی کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو بندہ اس پرآشوب دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کر لیتا ہے، اسے رب کریم کی طرف سے یہ غیر معمولی انعامات ملتے ہیں:
پچاس صحابہ کے برابر اجر کا مستحق: جیسا کہ حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ فتنوں کے دور میں سنت پر عمل کرنے والے کو پچاس صحابہ کرام کے برابر اجر ملے گا۔
قلبی یکسوئی اور باطنی نور: فتنوں کی دھند سے دور رہنے والے بندے کو اللہ تعالیٰ وہ بصیرت عطا کرتا ہے جس سے وہ حق اور باطل کو صاف دیکھ سکتا ہے۔
دنیا و آخرت کی رسوائی سے تحفظ: جو شخص خود کو فتنوں سے بچاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی عزت، آبرو اور ایمان کی حفاظت فرماتا ہے اور اس کا خاتمہ بالخیر کرتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ فتنوں کا یہ دور دراصل ایمان کی آزمائش کا دور ہے۔ یہ دور غفلت کی نیند سونے کا نہیں بلکہ بیدار مغز ہو کر اپنے ایمان کا پہرہ دینے کا ہے۔ فتنوں کا سیلاب کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اگر ہم وحی الٰہی کو تھام لیں، اپنے اعمال کی فکر کریں اور اپنی تنہائیوں کو پاکیزہ بنا لیں، تو باطل کا کوئی بھی وار ہمارے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آج ہی سے اپنی زندگی کا لائحہ عمل بدلیں اور اپنے آپ کو فتنوں کی محافل سے دور کر لیں۔ رب العزت سے مسلسل ہدایت اور ثابت قدمی کی دعا مانگتے رہیے، کیونکہ اس کے کرم کے بغیر کوئی بھی فتنوں کے اس سمندر کو پار نہیں کر سکتا۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنوں سے، اور کانے دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
فتنوں کے اس دور میں ایمان کی حفاظت کا یہ پیغام کسی بھٹکے ہوئے راہی کے لیے مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
