فکرِ آخرت: زندگی بدلنے کا ذریعہ - محاسبہ، ترجیحات کا انقلاب اور ابدی کامیابی | قسط 206 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Discover how the mindfulness of the Hereafter (Fikr-e-Akhirat) transforms life, purifies character, and grants inner peace and eternal success by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

7/25/20261 min read

فکرِ آخرت: زندگی بدلنے کا ذریعہ - محاسبہ، ترجیحات کا انقلاب اور ابدی کامیابی

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 206)

1۔ تمہید (Introduction)

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی فرد، معاشرے یا قوم کے اندر ایک عظیم اخلاقی اور روحانی انقلاب برپا ہوا، اس کے پیچھے سب سے بنیادی اور طاقتور محرک "فکرِ آخرت" (Hereafter-Mindset) رہا ہے۔ ایمان بالآخرت محض ایک نظریاتی عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے طرزِ فکر، اس کے اخلاق، اس کے معاملات اور اس کی پوری زندگی کے معمولات کو یکسر بدل دینے والا ایک انقلابی نظریہ ہے۔ جب انسان کو یہ پختہ یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی امتحان گاہ ہے اور اسے اپنے ہر قول، فعل، نیت اور کمائی کا اپنے رب کے سامنے ذرہ برابر حساب دینا ہے، تو اس کی پوری زندگی نظم، تقویٰ اور خوفِ خدا کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔

عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان دنیاوی مستقبل کی منصوبہ بندی، کیریئر، بینک بیلنس اور مادی جاہ و حشمت کے پیچھے اندھا دھند دوڑ رہا ہے مگر اپنے حقیقی، دائمی اور غیر فانی مستقبل یعنی آخرت سے مکمل غافل ہے۔ یہی غفلت انسان کو خود غرضی، ظلم، ناانصافی، لالچ اور اندرونی بے چینی میں مبتلا کرتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں فکرِ آخرت انسان کی سوچ اور کردار کو کس طرح بدلتی ہے؟ صحابہ کرام کی زندگیاں فکرِ آخرت سے کیسے تبدیل ہوئیں؟ اور ہم اپنی روزمرہ مصروف زندگی میں آخرت کی حقیقی فکر کو کیسے زندہ کر سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، ایمانی اور فکری جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے انسان کے شعور کو بیدار کرنے اور آخرت کے احتساب کی طرف متوجہ کرنے کے لیے پرتاثیر انداز اختیار فرمایا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ   (سورۃ الحشر: 18)

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر جان یہ دیکھے کہ اس نے کل (قیامت کے دن) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ اس سے باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ   (سورۃ الزلزال: 7-8)

پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات عقل مند انسان کا معیار یہی قرار دیتی ہیں کہ وہ آخرت کی فکر کو اپنی زندگی کا محور بنائے:

• حقیقی عقلمند اور دوراندیش انسان کون؟

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ"   (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2459)

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عقلمند اور ہوشیار وہ شخص ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے عمل کرے، اور ناتواں و بے بس وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگا دے اور پھر اللہ سے بے جا امیدیں باندھے۔

• دنیا اور آخرت کی فکر کا نبوی موازنہ

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ كَانَتِ الآخِرَةُ هَمَّهُ، جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ، جَعَلَ اللَّهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَفَرَّقَ عَلَيْهِ شَمْلَهُ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ"

(سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2465)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کی فکر اور مقصد آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کے دل میں بے نیازی اور غنا پیدا فرما دیتا ہے، اس کے بکھرے ہوئے معاملات کو سمیٹ دیتا ہے، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔ اور جس کا مقصد صرف دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اس کے معاملات کو منتشر کر دیتا ہے، اور دنیا سے اسے وہی ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا تھا۔

4۔ صرف دنیاوی سوچ اور فکرِ آخرت کے حامل انسان کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

محض دنیا کی فکر میں الجھے ہوئے انسان اور فکرِ آخرت سے سرشار مومن کے درمیان یہ نمایاں فرق ہے:

1۔ زندگی کا مقصد اور ترجیحات:

صرف دنیاوی سوچ: مال، شہرت، عارضی جاہ و جلال کا حصول اور ہر قیمت پر مادی مفاد۔

فکرِ آخرت کا حامل: رضائے الٰہی، دائمی جنت کی طلب اور ہر عمل میں اخلاص۔

2۔ اخلاق، دیانت اور معاملات:

صرف دنیاوی سوچ: موقع ملتے ہی دھوکہ، ناانصافی، جھوٹ اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا۔

فکرِ آخرت کا حامل: سچائی، امانت داری، عفو و درگزر اور مخلوق کے حقوق کی مکمل حفاظت۔

3۔ آزمائش اور تنگی میں ردِعمل:

صرف دنیاوی سوچ: شدید مایوسی، اینگزائٹی، خود کشی کے رجحانات اور قسمت پر شکوے۔

فکرِ آخرت کا حامل: صبرِ جمیل، اجرِ آخرت کی امید اور آزمائش کو گناہوں کا کفارہ سمجھنا۔

4۔ دولت اور وسائل کا استعمال:

صرف دنیاوی سوچ: عیاشی، نمود و نمائش، فضول خرچی یا کنجوسی کے ساتھ دولت جمع کرنا۔

فکرِ آخرت کا حامل: حلال کمائی، ضرورت مندوں پر خرچ اور صدقہ جاریہ کے کاموں میں رغبت۔

5۔ فکرِ آخرت کو دل میں بیدار کرنے اور زندگی بدلنے کے 5 عملی ذرائع (Strategies)

اپنے باطن میں فکرِ آخرت کی شمع جلانے اور زندگی میں مثبت انقلاب لانے کے لیے ان پانچ عملی اقدامات کو اختیار کریں:

الف) روزانہ شبینہ احتساب (Daily Self-Accountability): بستر پر جانے سے پہلے پانچ منٹ یہ سوچیں کہ اگر آج میری آخری رات ہو تو میرے نامہ اعمال میں کیا لکھا گیا ہے؟ اپنی کوتاہیوں پر معافی مانگیں۔

ب) زیارتِ قبور اور موت کی یاد: رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق کبھی کبھار قبرستان جائیں تاکہ یہ احساس پختہ ہو کہ بڑے بڑے نامور لوگ مٹی کے نیچے خاموش پڑے ہیں۔

ج) قرآنِ مجید کے انذار و بشارت کے مضامین پر تدبر: قرآنِ پاک کی ان آیات کا ترجمہ و تفسیر پڑھیں جن میں قیامت کے دن کا منظر، ترازو، پل صراط، جنت اور جہنم کے احوال بیان ہوئے ہیں۔

د) حقوق العباد کی فوری ادائی اور صفائی: کسی کا دل دکھایا ہو، کسی کا حق دبایا ہو یا غیبت کی ہو تو اسی دنیا میں معافی مانگ کر معاملہ صاف کر لیں تاکہ آخرت کا مقدمہ نہ بنے۔

ہ) فانی دنیا سے دلی بے رغبتی (زہدِ قلبی): دنیاوی وسائل کو ہاتھ میں رکھیں مگر دل میں نہ بسائیں؛ ہر وقت یہ ذہن میں رکھیں کہ جو کچھ ہے عارضی ہے اور اصل گھر آخرت ہے۔

6۔ فکرِ آخرت کا سچا معائری پیمانہ

عملی زندگی میں فکرِ آخرت کی بیداری کا حقیقی معیار یہ ہے کہ:

• انسان تنہائی اور جلوت دونوں میں گناہ کے موقع پر صرف اس لیے رک جائے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔

• دنیا کے نقصان پر اتنا رنج نہ ہو جتنا کسی ایک نماز یا نیکی کے چھوٹ جانے پر دل کو تکلیف ہو۔

• اس کی نظر ہمیشہ لوگوں کی تعریف پر نہیں بلکہ اللہ کی خوشنودی اور حشر کی پیشی پر لگی رہے۔

7۔ فکرِ آخرت کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان اپنی زندگی کو فکرِ آخرت کے تابع کر لیتا ہے، اللہ رب العزت اسے یہ عظیم انعامات عطا فرماتا ہے:

• قلبی بے نیازی اور ذہنی سکون: انسان دنیا کی لایعنی دوڑ، حسد اور لالچ سے آزاد ہو کر سچے سکون کا مالک بن جاتا ہے۔

• معاشرتی عدل اور اخلاقی وقار: ایسا انسان اپنے اہلِ خانہ، پڑوسیوں اور معاشرے کے لیے سراپا رحمت اور خیر کا باعث بنتا ہے۔

• قیامت کے دن کا امن اور جنت الفردوس: جو دنیا میں اللہ کے سامنے جوابدہی سے ڈرتا رہا، اللہ تعالیٰ اسے حشر کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھ کر ابدی باغات عطا فرمائے گا۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ فکرِ آخرت وہ پارس پتھر ہے جو انسان کی عام اور بے مقصد زندگی کو انمول، پرمعنی اور باکردار بنا دیتا ہے۔ دنیا کی محبت انسان کو اندھا اور غافل بنا دیتی ہے جبکہ آخرت کی فکر اس کی آنکھوں کو حقیقت شناسی کی بینائی عطا کرتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں سے گناہ کی رغبت ختم ہو، عبادات میں خشوع پیدا ہو اور ہماری زندگی میں حقیقی مثبت انقلاب آئے تو ہمیں فکرِ آخرت کو اپنی سانسوں اور سوچوں میں بسانا ہوگا۔ آئیے! ہم آج ہی اپنے سفرِ آخرت کی تیاری شروع کریں اور اپنے رب کے حضور سرخرو ہونے کی محنت کو اپنا مقصد بنائیں۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا إِلَى النَّارِ مَصِيرَنَا، وَاجْعَلِ الْجَنَّةَ هِيَ دَارَنَا، اللَّهُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا يَسِيرًا، وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ تَزِلُّ الْأَقْدَامُ۔

اے اللہ! دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد اور ہماری علمی انتہا نہ بنا، اور نہ ہی ہمارا ٹھکانہ جہنم کی آگ کو بنا، بلکہ جنت کو ہمارا ابدی گھر بنا۔ اے اللہ! ہمارا حساب آسان فرما، اور جس دن قدم ڈگمگا جائیں گے اس دن پل صراط پر ہمارے قدموں کو استقامت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

فکرِ آخرت اور زندگی میں مثبت انقلاب کا یہ پیغام کسی بھٹکے ہوئے راہی کو صحیح سمت دکھانے اور اس کی ابدی زندگی سنوارنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.