فیصلوں میں آخرت کو شامل کرنا: ایمانی بصیرت اور الٰہی جواب دہی کا شعور | قسط 184 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Learn how to include the Hereafter (Aakhirah) in your life decisions, build Eman-centric choices, and gain spiritual peace by Dr. Wajid Irshad."


فیصلوں میں آخرت کو شامل کرنا: ایمانی بصیرت اور الٰہی جواب دہی کا شعور
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 184)
1۔ تمہید (Introduction)
انسان کی زندگی اس کے فیصلوں کا مجموعہ ہے۔ صبح سے شام تک ہم جتنے بھی انتخاب کرتے ہیں—خواہ وہ کیریئر کا ہو، کاروبار کا، رشتے ناطوں کا ہو یا اخلاقی رویوں کا—انہی کے نتائج ہماری دنیا اور آخرت کی سمت متعین کرتے ہیں۔ دورِ حاضر کا ایک بڑا فکری المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے فیصلے کرتے وقت صرف دنیاوی نفع و نقصان، عارضی فائدے اور فوری پسند و ناپسند کو پیشِ نظر رکھتے ہیں، جبکہ اس کا سب سے اہم پہلو یعنی "آخرت کا انجام" ہمارے حساب کتاب سے یکسر خارج ہوتا ہے۔ اس مادیت پسندانہ طرزِ فکر کو "دنیاداری" کہتے ہیں، جہاں انسان نقد دنیا کے لیے ادھار آخرت کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔
اس کے برعکس، سچے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کا ہر چھوٹا بڑا فیصلہ فکرِ آخرت (Hereafter-Centric Mindset) کے تابع ہو۔ مؤمن جب بھی کوئی قدم اٹھاتا ہے، تو اس کا پہلا اور بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ "اس فیصلے سے میرا رب مجھ سے راضی ہوگا یا ناراض؟" اور "قیامت کے دن جب مجھ سے اس کا حساب مانگا جائے گا، تو میرے پاس کیا جواب ہوگا؟" جب فیصلوں کی بنیاد میں آخرت شامل ہو جائے، تو انسان کے معاملات میں شفافیت، دیانت اور قلبی طمأنینت پیدا ہو جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیاوی فیصلوں میں آخرت کے وزن کو کیسے شامل کیا جائے؟ اور اس فکری بیداری کے عملی ثمرات کیا ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی ایمانی پہلو کا تفصیلی محاکمہ کریں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
کلامِ الٰہی ہمیں ہر فیصلے سے قبل آخرت کی جواب دہی اور دنیا کے مقابلے میں آخرت کی ترجیح کو یاد دلاتا ہے:
وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖ (سورۃ القصص: 77)
اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے آخرت کے گھر کی تلاش کرو، اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ نہ بھولو، اور (لوگوں کے ساتھ) احسان کرو جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے...
فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا (سورۃ الکہف: 110)
پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کی امید (اور خوف) رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث ہمیں یہ شعور بخشتی ہیں کہ فکرِ آخرت کو ترجیح بنانے والے کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتی ہیں:
• فکرِ آخرت سے تمام پریشانیوں کا حل
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ، فَرَّقَ اللَّهَ عَلَيْهِ أَمْرَهُ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ، وَمَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ، جَمَعَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَهُ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ"
(سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث: 4105، علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کی نیت اور مقصد صرف دنیا ہو، اللہ اس کے کاموں کو منتشر کر دیتا ہے اور اس کی فقر (محتاجی) کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے، اور اسے دنیا سے صرف وہی ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہو، اور جس کی نیت اور مقصد آخرت ہو، اللہ اس کے کاموں کو مجتمع (آسان) کر دیتا ہے، اس کے دل میں غنا (بے نیازی) پیدا کر دیتا ہے، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔
• ہشیار اور عقلمند انسان کون ہے؟
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ" (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2459، امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے)
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دانشمند (عقلمند) وہ شخص ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے، اور عاجز (بیوقوف) وہ شخص ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ سے امیدیں لگائے رکھے۔
4۔ محض دنیاوی اور آخرت پر مبنی فیصلوں کا تقابلی جائزہ (The Strategic Contrast)
زندگی کے اہم موڑ پر فیصلوں کے طریقۂ کار کو سمجھنے کے لیے یہ موازنہ انتہائی اہم ہے:
1۔ بنیادی معیار:
دنیا پر مبنی فیصلے (Materialistic Decisions): عارضی فائدہ، نقد منافع، اور نفسانی تسکین۔
آخرت کو شامل کر کے فیصلے (Hereafter-Centric): الٰہی رضا، جائز و ناجائز کی تمیز، اور اخروی نجات۔
2۔ دباؤ میں رویہ:
دنیا پر مبنی فیصلے (Materialistic Decisions): مقصد حاصل کرنے کے لیے جھوٹ، دھوکا اور رشوت کا استعمال۔
آخرت کو شامل کر کے فیصلے (Hereafter-Centric): سخت مالی یا دنیاوی نقصان کے باوجود سچائی اور حلال پر قائم رہنا۔
3۔ معاملات کی حالت:
دنیا پر مبنی فیصلے (Materialistic Decisions): دوسروں کے حقوق مار کر صرف اپنا ذاتی فائدہ سوچنا۔
آخرت کو شامل کر کے فیصلے (Hereafter-Centric): کسی کا حق نہ مارنے کی خاطر اپنا حق بھی چھوڑ دینا۔
4۔ حتمی نتیجہ:
دنیا پر مبنی فیصلے (Materialistic Decisions): باطنی بے چینی، حریصانہ دوڑ اور آخرت میں شدید حسرت۔
آخرت کو شامل کر کے فیصلے (Hereafter-Centric): قلبی سکون، الٰہی غنا، اور قیامت کے دن کی کامیابی۔
5۔ فیصلوں میں آخرت کو شامل کرنے کے 5 عملی طریقے (Strategies)
اپنے ہر فیصلے کو ایمانی فریم ورک میں ڈھالنے کے لیے ان پانچ اصلاحی اصولوں پر عمل کریں:
الف) فیصلے سے قبل 10 سیکنڈ کا وقفہ (Pause & Ponder):
جب بھی کوئی بڑا یا چھوٹا فیصلہ کرنے لگیں، فوراً ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے پوچھیں: "کیا یہ کام مجھے رب کے قریب کرے گا یا دور؟"
ب) "حساب کا دن" تصوُّر میں لانا:
ملازمت، کاروبار یا رشتوں کے معاملے میں کوئی معاہدہ کرتے وقت یہ سوچیں کہ اگر اس میں کوئی ناانصافی ہوئی، تو قیامت کی عدالت میں میری کیا حالت ہوگی۔
ج) استخارہ مسنونہ کا التزام:
ہر جائز اور اہم فیصلے سے قبل مسنون استخارہ کریں، تاکہ آپ اپنے محدود علم پر تکیہ کرنے کے بجائے معاملہ علام الغیوب کے سپرد کر دیں۔
د) عارضی بمقابلہ دائمی کا موازنہ:
جب بھی حلال و حرام میں کشمکش ہو، تو ذہن میں یہ حقیقت تازہ کریں کہ دنیا کی لذت یا نفع چند سال کا ہے جبکہ آخرت کا عذاب یا انعام دائمی ہے۔
ہ) آخرت کی فکر رکھنے والے اہل علم و صلاح سے مشورہ:
اپنی زندگی کے اہم فیصلے ایسے لوگوں کے مشورے سے کریں جو خود متقی ہوں اور آپ کو آخرت کے نقصان سے بچنے کا مشورہ دیں۔
6۔ آخرت کو شامل کرنے کا سچا اور عملی معیار کیا ہے؟
روزمرہ کی عملی زندگی میں آخرت کو پیشِ نظر رکھنے کا سچا معیار یہ ہے کہ:
جب کاروبار میں جھوٹ بول کر یا ملاوٹ کر کے لاکھوں کا فائدہ ہو رہا ہو، تو انسان صرف اس لیے اس فائدے کو لات مار دے کہ "میں رب کی ناراضگی خرید کر یہ پیسہ نہیں کما سکتا۔"
جب کسی سے رشتہ قائم کرتے وقت صرف مال و دولت اور ظاہری خوبصورتی دیکھنے کے بجائے اس کے دین، اخلاق اور فکرِ آخرت کو ترجیح دی جائے۔
جب کسی تنازعے یا اختلاف میں اپنی انا کو تسکین دینے کے بجائے اللہ کی رضا کے لیے درگزر کا فیصلہ کیا جائے۔
7۔ فیصلوں میں آخرت کو شامل کرنے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان اپنی زندگی کے ہر فیصلے میں فکرِ آخرت کو شامل کرتا ہے، اسے یہ لازوال باطنی و ظاہری برکات حاصل ہوتی ہیں:
حقیقی قلبی غنا اور بے نیازی: اللہ تعالیٰ اس کے دل کو دنیا کی حرص اور بے چینی سے پاک کر کے بے مثال قلبی سکون عطا فرماتا ہے۔
دنیا کا ذلیل ہو کر آنا: جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا، جب انسان کی ترجیح آخرت بن جاتی ہے تو دنیاوی ضروریات اور رزق اس کے پیچھے خود آتے ہیں۔
قیامت کے دن کا آسان حساب: جو دنیا میں اپنے فیصلوں کا خود احتساب کرتا رہا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا حساب آسان فرما دے گا اور اسے جنتی نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ انسان کا ہر فیصلہ اس کے ایمانی گراف کا عکس ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے فیصلوں کو صرف دنیا کے عارضی ترازو میں تولتے رہیں گے، تو بالآخر موت کے وقت اور آخرت کی عدالت میں سوائے حسرت اور پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ سچی ایمانی زندگی کا حسن یہی ہے کہ ہم اپنے فیصلے کرتے وقت قبر، حشر اور رب کے سامنے حاضری کو اپنے ذہن و دل میں منور رکھیں۔ آئیے آج ہی سے عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کا ہر قدم، ہر سودا اور ہر فیصلہ شریعت کے حدود اور فکرِ آخرت کے تابعدار بنائیں گے۔ جب آخرت ہمارا معیار بن جائے گی، تو ہماری دنیا بھی با برکت اور پرسکون ہو جائے گی۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا، اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي
اے اللہ! دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد اور ہمارے علم کی انتہا نہ بنا، اور ہم پر ایسے لوگوں کو مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کریں۔ اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو سنوار دے جو میرے معاملے کی حفاظت کا ذریعہ ہے، اور میرے لیے میری دنیا کو سنوار دے جس میں میرا معاش ہے، اور میرے لیے میری آخرت کو سنوار دے جس میں میرا لوٹنا ہے۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
فیصلوں میں فکرِ آخرت کو شامل کرنے اور ایمانی بیداری کا یہ پیغام کسی گمراہ کن فیصلے سے بچا سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
