عید الاضحیٰ: خوشی، شکر اور حدود | قسط 146 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Explore the spiritual and social essence of Eid al-Adha in the light of Quran and Hadith. Learn about the importance of sacrifice, gratitude, and keeping celebrations within Islamic limits while avoiding social evils."


عید الاضحیٰ: خوشی، شکر اور حدود
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ: معاشرت(قسط نمبر146)
1۔ تمہید (Introduction)
عید الاضحیٰ محض ایک روایتی تہوار یا عام خوشی کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر قربانی، شکرگزاری، اور اطاعتِ الٰہی کا ایک عظیم الشان معاشرتی و روحانی پیغام لے کر آتی ہے۔ اسلام ایک ایسا فطری اور متوازن دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ مبارک موقع جہاں ہمیں جائز حدود میں رہ کر خوشیاں منانے کی بھرپور اجازت دیتا ہے، وہاں ہمارے لیے کچھ اخلاقی اور شرعی ضابطے بھی مقرر کرتا ہے۔
آج کے مادی دور میں عید الاضحیٰ کے آداب کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ہماری خوشی غفلت، گناہوں، فضول خرچی اور بے راہ روی کی نذر نہ ہو جائے۔ ایک سچے مؤمن کی حقیقی عید وہی ہے جس کا آغاز اللہ کی بڑائی سے ہو، جس کا مرکز اخلاص ہو اور جس کا اختتام بندوں کے حقوق کی ادائیگی پر ہو۔
2۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں (Quranic Guidance)
قرآنِ پاک کی مختلف آیاتِ مبارکہ عید الاضحیٰ کے دن نماز، سنتِ ابراہیمی (قربانی) کی اہمیت اور شکرگزاری کے حقیقی تصور کو واضح کرتی ہیں:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (سورۃ الکوثر، آیت: 2)
"پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔"
یہ آیتِ کریمہ اس بنیادی عقیدے کو راسخ کرتی ہے کہ عید الاضحیٰ کے دن نمازِ عید ادا کرنا اور قربانی کرنا ایک خالص مالی و جانی عبادت ہے، جو صرف اور صرف کائنات کے مالک کی رضا، توحید کے اقرار اور شکرِ نعمت کے لیے کی جانی چاہیے۔ اس میں کسی غیر کا تصور بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے۔
وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُون (سورۃ البقرہ، آیت: 185)
"تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس ہدایت پر جو اس نے تمہیں دی اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔"
عید کے ایام (ایامِ تشریق) میں تکبیرات بلند کرنا زبان اور دل سے اللہ کی عظمت کا اعتراف ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ بندہ اپنے رب کی دی ہوئی ہدایت اور توفیق پر دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہے۔
كُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ (سورۃ الحج، آیت: 28)
"اس میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔"
قرآنِ کریم کا یہ حکم قربانی کے معاشی اور معاشرتی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ عمل محض اپنے فریزر بھرنے یا خاندانی ضیافتوں تک محدود رہنے کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد معاشرے کے پسے ہوئے، غریب، یتیم اور سفید پوش طبقے کو اپنی خوشیوں میں عملی طور پر شامل کرنا ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں (Hadith and Sayings)
احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ عید الاضحیٰ (یوم النحر) کا دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سال کے تمام دنوں میں سب سے زیادہ عظمت اور فضیلت والا ہے:
• عیدِ مسلم کا منفرد تصور
إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 952)
"ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔"
یہ فرمانِ نبوی ﷺ واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں کے تہوار دنیاوی قوموں کے تہواروں کی طرح لہو و لعب، ناچ گانے اور فحاشی کے بجائے پاکیزگی، عاجزی، اللہ کی یاد اور باہمی ہمدردی سے عبارت ہیں۔
• قربانی کے دن کی فضیلت
أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 1765، صحیح)
"اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے۔"
یہ حدیث اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ عید الاضحیٰ (۱۰ ذوالحجہ) کا دن کتنا بابرکت ہے۔ اس عظیم دن کے قیمتی لمحات کو غفلت، دیر تک سونے یا گناہوں کی محفلوں میں ضائع کرنے کے بجائے ذکر اور تقویٰ میں گزارنا چاہیے۔
• مخلوقِ خدا پر رحم کا جذبہ
مَنْ لَمْ يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6013)
"جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔"
عید الاضحیٰ کا ایک اہم ترین سبق "رحم دلی" ہے۔ یہ رحم دلی جانور کو ذبح کرتے وقت بھی تیز چھری اور نرمی کے ساتھ ظاہر ہونی چاہیے، اور گوشت کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے غریبوں کی دلجوئی کر کے بھی۔
4۔ عید کی حقیقی روح (The Core Essence of Eid)
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عید اور قربانی بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت حاصل کرے، تو ہمیں عید کی حقیقی روح کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا:
خالص نیت اور تقویٰ: اللہ تعالیٰ کو جانور کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ قربانی کرتے وقت نیت صرف اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔
مستحقین کی تلاش: عید کا اصل حسن یہ ہے کہ ہم اپنے آس پاس کے غریبوں، بیواؤں، یتیموں اور خصوصاً ان سفید پوش رشتہ داروں کو ڈھونڈیں جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔
صلہ رحمی اور معاشرتی اتحاد: عید کا دن دلوں کی دوریوں کو مٹانے کا دن ہے۔ رشتہ داروں کے گھر جانا، پرانی رنجشیں ختم کرنا اور آپس میں محبتیں بانٹنا عید کے بنیادی آداب میں سے ہے۔
صفائی ستھرائی اور شہری ذمہ داری: قربانی کے بعد جانوروں کے خون اور آلائشوں کو فوری اور صحیح طریقے سے دفن کرنا یا ٹھکانے لگانا ایمان کا حصہ ہے۔ راستوں کو گندا چھوڑنا مسلمانوں کو تکلیف دینے کے مترادف ہے، جس سے سختی سے بچنا لازم ہے۔
5۔ معاشرتی غلط رجحانات اور برائیاں (Social Evils to Avoid)
افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں عید الاضحیٰ کے حوالے سے کئی غلط رجحانات نے جنم لے لیا ہے، جن کا خاتمہ ضروری ہے:
1. فضول خرچی اور نمود و نمائش: جانوروں کی قیمتوں پر فخر کرنا، سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنا کر مہنگے جانوروں کا دکھاوا کرنا اور ریاکاری کے ذریعے قربانی کے عظیم ثواب کو ضائع کرنا ایک بدترین فتنہ بن چکا ہے۔
2. غیر شرعی رسومات اور بے پردگی: عید کی خوشی کے نام پر مخلوط محفلیں (مکس گیدرنگز)، فیشن کی نمائش، گانے باجے اور وی لاگز کی مستی میں فرض نمازوں سے غفلت برتنا عام ہو چکا ہے۔
3. گوشت کی تقسیم میں ناانصافی: اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ گوشت کا بہترین اور لذیذ حصہ اپنے لیے یا امیر و بااثر دوستوں کے لیے فریز کر لیا جاتا ہے، جبکہ غریبوں کے حصے میں صرف ہڈیاں، چربی یا ردی گوشت آتا ہے۔ یہ سراسر ظلم اور شریعت کے خلاف ہے۔
4. عید کو محض ایک تفریحی تعطیل سمجھنا: اس عظیم دن کی روحانیت، تکبیرات، نماز اور ذکرِ الٰہی کو پسِ پشت ڈال کر اسے محض گھومنے پھرنے، سونے یا فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کی نذر کر دینا عید کی روح کو مار دیتا ہے۔
6۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ عید الاضحیٰ ہمیں یہ ابدی اور آفاقی سبق دیتی ہے کہ ایک مؤمن کی خوشی، تفریح اور غمی غرض ہر حالت اللہ رب العزت کی اطاعت اور شریعت کے دائرے کے اندر ہونی چاہیے۔ جب عید کو دکھاوے، فخر اور روایتی رسم و رواج کے بجائے اخلاص، شکرِ نعمت، سچی بندگی اور مخلوقِ خدا کی خدمت کے جذبے کے ساتھ منایا جائے تو وہ محض ایک روایتی تہوار نہیں رہتی بلکہ روح کو پاکیزگی بخشنے والی اور معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے والی حقیقی عید بن جاتی ہے۔
دعا (Supplication)
اللّٰهُمَّ اجْعَلْ عِيدَنَا عِيدًا مُبَارَكًا مَقْبُولًا، وَتَقَبَّلْ مِنَّا صَلَاتَنَا وَقُرْبَانَنَا
"اے اللہ! ہماری اس عید کو ہمارے لیے مبارک اور مقبول بنا دے، اور ہماری نمازوں، نیک اعمال، جذبوں اور قربانیوں کو اپنی بارگاہِ عالی میں شرفِ قبولیت عطا فرما۔ آمین۔"
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات کو آگے پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں اور اسے شیئر کریں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
