دین پر چلنے میں رکاوٹیں کہاں سے آتی ہیں؟

Following Islam consistently is often challenged by both internal and external obstacles. دین پر چلنے میں رکاوٹیں کہاں سے آتی ہیں؟ These include personal desires, sinful habits, weak intentions, and negative environments. Islam teaches that true success lies in recognizing these barriers and actively working to overcome them. Through self-discipline, knowledge, righteous company, and sincere repentance, a believer can strengthen faith and remain steadfast. Overcoming these challenges leads to spiritual growth, clarity, and closeness to Allah.

Dr. Wajid Irshad

5/6/20261 min read

موضوع: دین پر چلنے میں رکاوٹیں کہاں سے آتی ہیں؟
قسط نمبر 126
ڈاکٹر واجد ارشاد

تمہید
دین اسلام حق، فطرت اور کامیابی کا راستہ ہے، مگر اس کے باوجود انسان کو اس راستے پر چلنے میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بظاہر انسان دین کو درست سمجھتا ہے، اس کی اہمیت کو بھی جانتا ہے، مگر عملی زندگی میں وہ اس پر قائم نہیں رہ پاتا۔

یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ دین پر چلنے کی رکاوٹیں صرف باہر سے نہیں آتیں بلکہ اکثر انسان کے اپنے اندر سے پیدا ہوتی ہیں۔ نفس کی کمزوریاں، دل کی حالت اور ماحول کے اثرات مل کر انسان کو آہستہ آہستہ دین سے دور کر دیتے ہیں۔ اگر ان رکاوٹوں کو بروقت نہ پہچانا جائے تو انسان دین سے عملی طور پر دور ہو جاتا ہے، چاہے وہ زبانی طور پر خود کو دین دار ہی کیوں نہ سمجھتا ہو۔

قرآنِ کریم کی روشنی میں

ارشادِ باری تعالیٰ
أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ
کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا۔
سورۃ الجاثیہ 23

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ سب سے بڑی رکاوٹ انسان کا اپنا نفس ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات کو ترجیح دیتا ہے تو وہ دین کے احکام کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ
فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا
پس خواہشات کی پیروی نہ کرو تاکہ تم انصاف پر قائم رہو۔
سورۃ النساء 135

یہاں اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ خواہشات کی پیروی انسان کو حق سے ہٹا دیتی ہے، اور یہی دین پر چلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

فرمانِ نبوی ﷺ
حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ
جنت مشکل کاموں سے گھری ہوئی ہے اور جہنم خواہشات سے گھری ہوئی ہے۔
صحیح مسلم 2822

یہ حدیث انسان کو حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ دین پر چلنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں نفس کے خلاف جانا پڑتا ہے، جبکہ گناہ اور خواہشات کا راستہ بظاہر آسان لگتا ہے۔

فرمانِ نبوی ﷺ
الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ
عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور آخرت کے لیے عمل کرے۔
سنن ترمذی 2459 حسن

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کامیاب انسان وہی ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو پہچان کر ان کی اصلاح کرتا ہے۔

واقعہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے نصیحت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا
لَا تَغْضَبْ
غصہ نہ کرو
صحیح بخاری 6116

وہ شخص بار بار نصیحت مانگتا رہا اور آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے رہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی بڑی رکاوٹیں اس کے اپنے اندر ہوتی ہیں، جیسے غصہ، نفس اور جذبات، جو اسے دین کے مطابق عمل کرنے سے روکتے ہیں۔

دین پر چلنے میں رکاوٹوں کے اسباب
دین پر عمل میں رکاوٹیں کئی صورتوں میں سامنے آتی ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ نفس کی خواہشات ہیں جو انسان کو آسانی اور لذت کی طرف لے جاتی ہیں۔ گناہوں کی عادت انسان کو کمزور کر دیتی ہے اور وہ نیکی کی طرف قدم نہیں بڑھا پاتا۔ غلط صحبت اور ماحول انسان کے خیالات اور اعمال دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔ دنیا کی محبت جب دل میں غالب آ جاتی ہے تو آخرت کی فکر کمزور ہو جاتی ہے۔ علم کی کمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ بغیر علم کے انسان درست راستہ پہچان نہیں پاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ شیطانی وسوسے انسان کو مایوسی اور سستی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

بیرونی رکاوٹیں
آج کے دور میں بیرونی رکاوٹیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ معاشرتی ماحول ایسا بن چکا ہے جہاں دین پر عمل کرنے والے کو عجیب سمجھا جاتا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا فحاشی اور بے حیائی کو عام کر رہے ہیں۔ مصروفیات اور وقت کی بے برکتی بھی انسان کو عبادات سے دور کر دیتی ہے۔

اندرونی رکاوٹیں
اندرونی رکاوٹیں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں کیونکہ وہ نظر نہیں آتیں۔ دل کی سختی انسان کو نصیحت سے دور کر دیتی ہے۔ نیت کی کمزوری عمل کو کمزور بنا دیتی ہے۔ توبہ میں تاخیر انسان کو گناہوں میں جکڑے رکھتی ہے، جبکہ تکبر اور خود پسندی انسان کو اپنی اصلاح سے روک دیتے ہیں۔

رکاوٹوں کا حل
ان رکاوٹوں سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے انسان کو اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ماحول انسان کو بدل دیتا ہے۔ علمِ دین حاصل کرنا انسان کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ گناہوں سے فوری توبہ کرنا دل کو صاف کرتا ہے۔ وقت کی درست تنظیم اور خود احتسابی انسان کو مسلسل بہتری کی طرف لے جاتی ہے۔

اختتامیہ
دین پر چلنے کی راہ حقیقت میں مشکل نہیں، بلکہ انسان اپنے نفس، ماحول اور غفلت کی وجہ سے اسے مشکل بنا لیتا ہے۔ جو شخص اپنی رکاوٹوں کو پہچان لیتا ہے اور ان پر قابو پا لیتا ہے، وہی حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اللہ کی رضا کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھے۔

دعا
اللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَأَعِنَّا عَلَى طَاعَتِكَ

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقۂ جاریہ ہے، اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں۔