دین پر چلنے میں استقامت کیسے آئے؟ | قسط 156 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"How to remain steadfast and consistent on the path of Islam? Discover the reasons for weakening faith and practical solutions by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

6/5/20261 min read

دین پر چلنے میں استقامت کیسے آئے؟

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ: استقامت (قسط نمبر: 156)

1۔ تمہید (Introduction)

دینِ اسلام کے احکامات کو گلے سے لگانا اور زندگی کے بدلتے ہوئے گرم و سرد حالات میں اللہ رب العزت کی بندگی پر مستقل مزاجی سے قائم رہنا "استقامت" کہلاتا ہے۔ یہ کوئی وقتی یا عارضی جذباتی ابال نہیں ہے، بلکہ آخری سانس تک جاری رہنے والا ایک پائیدار اور صابرانہ سفر ہے۔ معاشرے میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ خلوصِ دل سے نیکی کی طرف مائل ہوتے ہیں، نمازوں اور دیگر عبادات کا آغاز بھی کرتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سستی، باطنی کمزوری یا اردگرد کے ماحول کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر دوبارہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

حقیقی کامیابی اور دانشمندی کا معیار یہی ہے کہ انسان حالات کے رخ اور مادی آزمائشوں کے باوجود دینِ حق پر مضبوطی سے جما رہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت میں استقامت کو ایمان کی معراج اور بندگی کا جوہر قرار دیا گیا ہے۔

2۔ قرآنِ مجید کی ابدی ہدایات (Quranic Paradigm)

کلامِ الٰہی ہمیں واضح پیغام دیتا ہے کہ جو لوگ حق کے راستے کو چننے کے بعد اس پر ڈٹ جاتے ہیں، کائنات کی غیبی طاقتیں ان کی نصرت کے لیے پیش پیش رہتی ہیں:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ (سورۃ فصلت: 30)

بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔

خالقِ کائنات کا یہ وعدہ سکھاتا ہے کہ ایمان کا اقرار کرنے کے بعد ثابت قدمی دکھانے والوں کو دنیا اور آخرت کے خوف سے نجات دلانے کے لیے فرشتے سکینت بن کر اترتے ہیں۔

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ (سورۃ ہود: 112)

پس آپ اسی طرح ثابت قدم رہیں جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں۔

یہ الٰہی حکم ہمیں بتاتا ہے کہ توبہ کے بعد نیکی کی راہ پر استوار رہنا کوئی اختیاری معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک لازمی فریضہ ہے جس پر کاربند رہنا ہر مؤمن کی ذمہ داری ہے۔

إِنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ (سورۃ الأنعام: 153)

بے شک یہی میرا سیدھا راستہ ہے، پس اسی کی پیروی کرو۔

حق کا راستہ بالکل واضح اور سیدھا ہے، اس سے دائیں بائیں نکلنے والی پگڈنڈیاں انسان کو گمراہی کی وادیوں میں بھٹکا دیتی ہیں، اس لیے صراطِ مستقیم پر جمے رہنا ہی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔

3۔ احادیثِ مبارکہ کا حکیمانہ اسلوب (Prophetic Traditions)

نبی کریم ﷺ کے ارشاداتِ عالیہ ہمیں عارضی جوش کے بجائے نیکیوں میں تسلسل قائم کرنے اور مضبوط ایمان اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں:

• فلاح کا جامع نسخہ

قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 38)

کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔

اس مختصر مگر جامع ترین فرمانِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی پوری روح دو ہی لفظوں میں سمٹ آئی ہے؛ ایک سچا ایمان لانا اور دوسرا اس ایمان کے تقاضوں پر پہاڑ کی طرح جم جانا۔

• پسندیدہ ترین عمل کا معیار

أَحَبُّ الْأَعْمَالُ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 6464)

اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو مستقل ہو، اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو۔

باری تعالیٰ کے ہاں اس بڑے عمل کی اتنی قدر نہیں جو چند دن جوش میں کر کے چھوڑ دیا جائے، بلکہ وہ چھوٹا سا نیک عمل زیادہ محبوب ہے جسے انسان اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا لے۔

• مؤمن کی باطنی طاقت

الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2664)

طاقتور مؤمن کمزور مؤمن سے بہتر اور اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔

باطنی اور اخلاقی طور پر مضبوط مؤمن وہ ہے جو حالات کے سرد و گرم اور برے ماحول کے تھپیڑوں کے سامنے اپنے نظریات اور عبادات کا سودا نہیں کرتا۔

4۔ استقامت کا حقیقی مفہوم (What is Steadfastness)

استقامت محض چند روایتی عبادات کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ کار انسان کے پورے وجود پر محیط ہے:

  • احکامِ الٰہی کی ابدی پابندی: زندگی کا کوئی بھی موڑ ہو، تنگی ہو یا آسانی، خوشی ہو یا غمی، اللہ کی فرماں برداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔

  • برائیوں سے مستقل کنارہ کشی: گناہ کی ترغیب چوبیس گھنٹے موجود ہونے کے باوجود اپنے دامن کو معصیت کی آلائشوں سے بچا کر رکھنا۔

  • آزمائشوں میں پامردی: معاشی نقصان، بیماری یا سماجی دباؤ آنے پر بھی اپنے ایمان اور توکل میں لغزش نہ آنے دینا۔

  • نیکی کو مزاج بنانا: اچھے اعمال کو عارضی سرگرمی کے بجائے اپنی روزمرہ کی عادت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ بنا لینا۔

5۔ ثابت قدمی کمزور پڑنے کے اسباب (Why Consistency Fades)

انسان کے قدم نیکی کی راہ پر لڑکھڑانے کے پیچھے درج ذیل چار بڑے باطنی اور ظاہری اسباب ہوتے ہیں:

الف) نیت کا خالص نہ ہونا

اگر کسی اصلاح یا نیکی کا آغاز محض وقتی جذبات، لوگوں کو دکھانے، یا کسی دنیاوی مفاد کے تحت ہو، تو مادی مقصد پورا ہوتے ہی یا جوش ٹھنڈا پڑتے ہی وہ نیکی دم توڑ دیتی ہے۔

ب) منفی اور برے ماحول کی صحبت

انسان اپنے دوستوں اور ماحول سے شدید متاثر ہوتا ہے۔ اگر اٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں میں ہو جن کے دل خوفِ خدا سے خالی ہوں، تو انسان کا اپنا جذبۂ ایمان بھی آہستہ آہستہ سرد پڑ جاتا ہے۔

ج) صغیرہ گناہوں کو ہلکا سمجھنا

گناہوں پر مداومت اختیار کرنا دل کو بنجر کر دیتا ہے۔ انسان جب چھوٹے گناہوں کو معمولی سمجھ کر مسلسل کرتا ہے، تو دل پر ایسی سیاہی چھا جاتی ہے جو عبادت کی لذت اور نیکی کی تڑپ کو چھین لیتی ہے۔

د) عبادات کا بے روح اور غافل ہونا

بغیر سمجھے اور بغیر دل کی حاضری کے ادا کی جانے والی عبادات انسان کے باطن کی تربیت نہیں کر پاتیں، جس کی وجہ سے باطنی ڈھانچہ کمزور رہتا ہے اور معمولی سی آزمائش انسان کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔

6۔ استقامت کے حصول کا عملی لائحہ عمل (Pathways to Stability)

اگر ہم چاہتے ہیں کہ صراطِ مستقیم پر ہمارے قدم ہمیشہ جمے رہیں، تو ہمیں ان چھ امور کا مستقل اہتمام کرنا ہوگا:

1. نیت کی بار بار تجدید: اپنے ہر نیک عمل کے پیچھے صرف اور صرف اللہ کی رضا کی نیت کو پختہ کریں۔

2. پنجگانہ نمازوں کی حفاظت: باجماعت اور وقت پر نماز کی ادائیگی انسان کو برائیوں سے بچانے اور نیکی پر قائم رکھنے کا سب سے بڑا قلعہ ہے۔

3. قرآنِ مجید سے روزانہ کا فکری تعلق: تلاوتِ قرآن اور اس کے احکامات پر غور و فکر روح کو مستحکم رکھتا ہے۔

4. صالح اور نیک ماحول کا انتخاب: ایسے دوستوں کی صحبت اختیار کریں جو آپ کو خدا کی یاد دلائیں اور نیکی کے کاموں میں آپ کا حوصلہ بڑھائیں۔

5. توبہ اور استغفار کی کثرت: روزانہ کی بنیاد پر گناہوں سے معافی مانگنا دل کے زنگ کو صاف کرتا ہے اور ایمان کو نئی زندگی دیتا ہے۔

6. دعا کو ہتھیار بنانا: مقلب القلوب رب سے ہر نماز کے بعد اپنے دل کو دین پر ثابت قدم رکھنے کی التجا کرنا۔

7۔ استقامت کی نمایاں علامات (Signs of a Firm Believer)

جس خوش نصیب انسان کو اللہ تعالیٰ استقامت کی دولت سے نواز دیتا ہے، اس کی شخصیت میں یہ نشانیاں جھلکنے لگتی ہیں:

  • وہ زمانے کے فیشن، رنگ ڈھنگ یا منفی ماحول کو دیکھ کر اپنے دینی شعار اور اخلاقیات سے پیچھے نہیں ہٹتا۔

  • نیکی کے کاموں میں اس کا تسلسل قائم رہتا ہے، خواہ اس کا دل چاہے یا نہ چاہے۔

  • گناہوں اور نافرمانی کے کاموں سے اس کے دل میں ایک سچی اور فطری نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔

  • زندگی کے تمام تر معاشی اور سماجی فیصلوں پر آخرت کی جوابدہی کا احساس مستقلاً غالب رہتا ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

لبِ لباب یہ ہے کہ ایمان لانا گویا حق کے سفر کا آغاز ہے اور استقامت اس سفر کی معراج ہے۔ اللہ کے ہاں سرخروئی کا تاج اس کے سر پر نہیں سجتا جو صرف چند دن کے لیے نیکی کی دوڑ میں شامل ہوا، بلکہ اس کے حصے میں آتا ہے جو آخری سانس تک تمام تر رکاوٹوں کے باوجود حق کے پرچم کو تھامے رہا۔ جو بندہ نیکی پر قائم رہنے کا عزم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسباب بھی آسان فرما دیتا ہے اور دنیا و آخرت دونوں جہانوں کو کامیابی کے نور سے منور کر دیتا ہے۔

دعا (Supplication)

اللّٰهُمَّ ثَبِّتْنَا عَلَى الدِّينِ وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُسْتَقِيمِينَ عَلَى صِرَاطِكَ الْمُسْتَقِيمِ

(دعائیہ کلمات)

"اے ہمارے مہربان اور رحیم رب! ہمیں اپنے پسندیدہ دین پر ہمیشہ ثابت قدمی عطا فرما، اور ہمیں ان مخلص بندوں میں شامل فرما جو تیرے دکھائے ہوئے سیدھے راستے پر مضبوطی سے جمے رہتے ہیں۔ آمین یا رب العالمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

حق کی آواز کو پھیلانا کارِ خیر ہے، اس تحریر کو اپنے عزیزوں کے ساتھ شیئر کر کے اس علمی و اصلاحی سفر میں ہمارا ساتھ دیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.