دین پر اعتماد اور فخر - ایمانی غیرت، فکری پختگی اور نبوی اسوہ | قسط 258 - ڈاکٹر واجد ارشاد
An inspiring article on taking pride and confidence in Islam (Deen Par Etemad Aur Fakhr), Islamic identity, and prophetic examples by Dr. Wajid Irshad.


دین پر اعتماد اور فخر - ایمانی غیرت، فکری پختگی اور نبوی اسوہ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 258)
1۔ تمہید
اسلام ایک کامل، عالمگیر اور فکری طور پر غالب دینِ فطرت ہے۔ ایک سچے مؤمن کے دل و دماغ کی سب سے بڑی طاقت یہ ہوتی ہے کہ اسے اپنے دین، عقیدے اور اسلامی شناخت پر کامل اعتماد اور عزت کا احساس ہو۔ "ایمانی اعتماد اور فخر" کا مطلب تکبر یا دوسروں کی تحقیر نہیں، بلکہ اس حق کی سچائی پر پختہ یقین، اطمینانِ قلب اور فکری غیرت ہے جو اللہ تعالی نے ہمیں اسلام کی صورت میں عطا فرمایا ہے۔
آج کے دور میں فکری مغلوبیت، کمتری کے احساس (Inferiority Complex) اور مغربی یا غیر اسلامی تہذیبوں کی نابینا تقلید نے مسلمان کی ایمانی خودمختاری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بعض لوگ معاشی، سائنسی يا مادی دنیا میں دوسروں سے مرعوب ہو کر اپنے دینی شعائر، اخلاقی اقدار اور عبادات کو اپنانے میں ہچکچاہٹ يا شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ اسلام ہمیں یہ فکری بالیدگی عطا کرتا ہے کہ عزّت اور سربلندی صرف اور صرف اسلام سے وابستگی میں ہے۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے اہل ترین ایمانی جماعت کو کائنات کی بہترین امت قرار دیا ہے اور انہیں یاد دلایا ہے کہ حقیقی عزّت صرف خدا، اس کے رسول اور مؤمنین کے لیے ہے:
وَلَا تَهِنوُا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ سورۃ آل عمران (آیت 139)
"اور تم سستی نہ کرو اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب اور سر بلند رہو گے اگر تم مؤمن ہو۔"
وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ سورۃ المنافقون (آیت 8)
"اور عزّت تو صرف اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور مؤمنین کے لیے ہے، لیکن منافق لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے۔"
3۔ اسوہٴ حسینہ اور احادیثِ مبارکہ کا پیغام
رسولِ اکرم ﷺ اور صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیاتِ طیبہ اس ایمانی اعتماد کا روشن نمونہ ہے جہاں کسی بھی خوف، لالچ يا مرعوبیت کے بغیر حق کو سربلند رکھا گیا:
اسلام کی عزّت پر سیدنا عمر کا تاریخی فرمان:
عن طارق بن شهاب قال: خرج عمر بن الخطاب إلى الشام... فقال له أبو عبيدة: لقد صنعت اليوم صنيعا عظيما... فلطم عمر في صدره وقال: أوَلو غيرك يقولها يا أبا عبيدة! إنكم كنتم أذل الناس، وأحقر الناس، وأقل الناس، فأعزكم الله بالإسلام، فمهما تطلبوا العزة بغير ما أعزكم الله به يذلكم الله... (المستدرك للحاكم: 214)
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام تشریف لے گئے اور نعلین مبارک اتار کر کندھے پر رکھ لیے تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ نے آج بڑا عجیب کام کیا (لوگ کیا کہیں گے)! اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے ابو عبیدہ! کاش یہ بات تمہارے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی! ہم دنیا میں سب سے ذلیل، حقیر اور کمزور لوگ تھے، پھر اللہ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزّت عطا فرمائی۔ پس جب بھی ہم اس کے علاوہ کسی اور چیز میں عزّت تلاش کریں گے جس کے ذریعے اللہ نے ہمیں عزّت دی ہے، تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا..."
دین کا غلبہ اور اعتماد:
عن خباب بن الأرت رضی الله عنه قال: شكونا إلى رسول الله ﷺ وهو متوسد بردة له في ظل الكعبة... فقال: والله ليتمن هذا الأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرموت لا يخاف إلا الله... (صحیح البخاری: 3612)
حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (کفار کے مظالم کی) شکایت کی... تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! اللہ اس دین کے کام کو ضرور مکمل فرمائے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا..."
4۔ ایمانی زندگی میں دینی اعتماد کے 4 بنیادی تقاضے
اسلامی شناخت پر فخر اور عمل:
اپنے لباس، وضع قطع، نماز، روزے اور اسلامی شعائر کو بغیر کسی جھجک يا شرمندگی کے فخر کے ساتھ اپنائیں۔ اپنی دینی شناخت کو قائم رکھنا ایمانی غیرت کا پہلا تقاضا ہے۔
فکری و تہذیبی مرعوبیت کا خاتمہ:
مغربی یا غیر اسلامی تہذیب کے فاسد افکار اور لایعنی رسم و رواج سے مرعوب ہونے کے بجائے قرآن و سنہ کے روشن اور پاکیزہ اصولوں کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائیں۔
اسلام کے نظام پر کامل یقین:
یہ پختہ عزم رکھیں کہ دنیا کے تمام تر معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مسائل کا حل صرف اور صرف اسلامی تعلیمات اور نبوی اسوہ میں موجود ہے۔
علم اور حلم سے دین کا دفاع:
اپنے دین کو دلیل، علم، اور اچھے اخلاق کے ساتھ دوسروں کے سامنے پیش کریں۔ اعتراضات يا تنقید سے گھبرانے کے بجائے حکمت سے دین کی سچائی اور خوبصورتی کو واضح کریں۔
5۔ اختتامیہ
دین پر اعتماد اور فخر مؤمن کے اندر غیرت، عزتِ نفس اور بلند حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ جب ہم اپنی اصل ایمانی بنیادوں کی طرف لوٹتے ہیں اور اسلام پر افتخار محسوس کرتے ہیں، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں فکری يا اخلاقی طور پر مغلوب نہیں کر سکتی۔
آئیے! یہ عہد کریں کہ ہم ہر قسم کی فکری کمتری کو اپنے ذہن سے نکالیں گے، اپنے دین اور رسول اکرم ﷺ کی سنتوں پر کامل اعتماد اور فخر کے ساتھ عمل پیرا ہوں گے اور اسلام کا پاکیزہ پیغام دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔
دعا:اللهم أعزنا بالإسلام، وأعز الإسلام بنا، واجعلنا من عبادك المؤمنين الأذلة على المؤمنين الأعزة على الكافرين
اے اللہ! ہمیں اسلام کے ذریعے عزّت عطا فرما، اور ہمارے ذریعے اسلام کو سربلندی بخش، اور ہمیں اپنے ان مؤمن بندوں میں شامل فرما جو مؤمنوں کے لیے نرم اور باطل کے سامنے باوقار اور سر بلند رہتے ہیں۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
دین پر اعتماد اور ایمانی غیرت کا یہ فکری پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
