دین میں آسانی پیدا کرنا - اعتدال، فکری وسعت اور نبوی اسوہ | قسط 254 - ڈاکٹر واجد ارشاد
An insightful article on the concept of ease in Islam (Deen Mein Aasani), moderation, and prophetic teachings of middle path by Dr. Wajid Irshad.


دین میں آسانی پیدا کرنا - اعتدال، فکری وسعت اور نبوی اسوہ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 254)
1۔ تمہید
اسلام ایک ایسا دینِ فطرت ہے جس کی بنیاد آسانی، نرمی اور اعتدال پر رکھی گئی ہے۔ خالقِ کائنات نے انسان کی فطری صلاحیتوں اور ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا شریعت کا نظام دیا ہے جس میں مشقت اور تنگی کے بجائے سہولت اور کشادگی ہے۔
آج کے دور میں ہماری فکری سطح کا ایک بڑا مسئلہ دین کو سخت، دشوار اور بوجھل بنا کر پیش کرنا ہے۔ بعض لوگ اپنی کم علمی یا سخت مزاجی کی وجہ سے دین کے فروعی اور اختیاری مسائل میں ایسی سختی برتتے ہیں جس سے عام انسان، خاص طور پر نوجوان نسل، دین سے دور ہونے لگتی ہے۔ اسلام کی فکری روح یہ سکھاتی ہے کہ دین میں سہولت پیدا کی جائے، تاکہ لوگ رغبت اور محبت کے ساتھ احکامِ الٰہی پر عمل پیرا ہو سکیں۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے متعدد مقامات پر یہ واضح فرمایا ہے کہ احکامِ دین کا مقصد انسانوں کو کسی تنگی میں ڈالنا نہیں بلکہ ان کی زندگی کو آسان بنانا ہے:
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ سورۃ البقرہ (آیت 185)
"اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تمہارے ساتھ سختی اور تنگی کا ارادہ نہیں فرماتا۔"
وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ سورۃ الحج (آیت 78)
"اور اس (اللہ) نے دین میں تم پر کسی قسم کی تنگی اور حرج نہیں رکھی۔"
3۔ اسوہٴ حسنہ اور احادیثِ مبارکہ کا پیغام
رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ دین میں آسانی پیدا کرنے اور سخت گیری سے بچنے کی روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ کا اسوہٴ حسینہ ہمیں ترغیب و محبت کا راستہ دکھاتا ہے:
آسانی کا نبوی حکم:
عن أنس بن مالك رضی الله عنه عن النبي ﷺ قال: يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا... (صحیح البخاری: 69)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو اور سختی نہ کرو، اور انہیں خوشخبری سناؤ اور (نفرت دلا کر) دور نہ کرو۔"
دو راستوں میں سے آسان تر کا انتخاب:
عن عائشة رضی الله عنها أنها قالت: ما خير رسول الله ﷺ بين أمرين إلا أخذ أيسرهما، ما لم يكن إثما... (صحیح البخاری: 3560)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا جاتا، تو آپ ﷺ ان میں سے آسان بات کو اختیار فرماتے، بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔
4۔ فکری و عملی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے 4 بنیادی تقاضے
دعوت و اصلاح میں نرمی کا اسلوب:
لوگوں کو دین کی طرف بلاتے وقت اور ان کی اصلاح کرتے وقت حکمت، نرمی اور محبت کا اسلوب اپنائیں۔ سخت رویہ اور طعنہ زنی انسان کو دین سے دور کر دیتی ہے۔
اعتدال اور میانہ روی کا قیام:
عبادات ہوں یا روزمرہ زندگی کے معاملات، شدت پسندی اور حد سے تجاوز سے پرہیز کریں۔ اتنی ہی ذمہ داری اور عبادات کا مکلف خود کو بنائیں جتنی استطاعت اور مسلسل پابندی ممکن ہو۔
فروعی مسائل میں فکری وسعت:
دین کے اختلافی اور اجتہادی مسائل میں دوسروں کی رائے کا احترام کریں۔ سختی کے بجائے فقہی رخصتوں اور آسان حل پر عمل پیرا ہو کر معاشرے میں اتحاد پیدا کریں۔
عبادات میں رخصتوں سے فائدہ اٹھانا:
اسلام نے سفر، بیماری يا معذوری کی حالت میں جو رخصتیں (مثلاً نماز قصر کرنا، تیمم، يا روزے کی قضا) عطا کی ہیں، انہیں خوش دلی سے قبول کرنا بھی سنت اور اتباعِ شریعت ہے۔
5۔ اختتامیہ
دین میں آسانی پیدا کرنا شریعت کے حدود توڑنے کا نام نہیں، بلکہ یہ شریعت کی اصل روح اور نبوی حکمت کو اپنانے کا نام ہے۔ جب ہم اپنی فکر میں وسعت اور رویوں میں نرمی لاتے ہیں، تو دین ایک بوجھ کے بجائے زندگی کا سب سے خوبصورت اور پرسکون نظام نظر آنے لگتا ہے۔
آئیے! یہ عہد کریں کہ ہم اپنی فکر اور رویوں سے اسلام کا آسان، خوبصورت اور پرجذب صورتِ حال کا رخ دنیا کے سامنے پیش کریں گے، سخت گیری کا خاتمہ کریں گے اور مخلوقِ خدا کے لیے دین کی راہوں کو آسان بنائیں گے۔
دعا:
اللهم يسر امورنا، واشرح صدورنا، واجعلنا من الميسرين لا من المعسرين
اے اللہ! ہمارے امور کو آسان فرما، ہمارے سینوں کو کھول دے، اور ہمیں آسانی پیدا کرنے والا بنا، سختی کرنے والا نہ بنا۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
دین میں آسانی اور فکری اعتدال کا یہ پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
