دوستی کا ایمان پر اثر

Friendship plays a powerful role in shaping a person’s faith and character. دوستی کا ایمان پر اثر A believer is deeply influenced by his companions, whether they guide him toward righteousness or lead him away from it. Islam emphasizes choosing righteous friends who encourage good deeds, sincerity, and discipline. Good company strengthens ایمان, while bad company weakens it and leads to negligence and sin. A wise believer carefully selects friends who remind him of Allah and support his spiritual growth.

Dr. Wajidb Irshad

5/11/20261 min read

دوستی کا ایمان پر اثر
قسط نمبر 131
ڈاکٹر واجد ارشاد

تمہید
انسان کی شخصیت اور اس کے ایمان پر سب سے زیادہ اثر اس کے دوستوں کا ہوتا ہے۔ دوستی صرف ایک سماجی تعلق نہیں بلکہ ایک ایسی ہم نشینی ہے جو انسان کے خیالات، عادات اور عقائد تک کو بدل دیتی ہے۔ اچھے دوست انسان کو اللہ کے قریب کرتے ہیں جبکہ برے دوست آہستہ آہستہ ایمان کو کمزور کر دیتے ہیں۔
اسی لیے اسلام نے صحبت اور دوستوں کے انتخاب کو ایمان کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔

مرکزی نکتہ
انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ اچھی دوستی ایمان کو مضبوط کرتی ہے جبکہ بری صحبت انسان کو آہستہ آہستہ گمراہی کی طرف لے جاتی ہے، اس لیے دوستوں کا انتخاب انتہائی سوچ سمجھ کر کرنا ضروری ہے۔

قرآنِ کریم کی روشنی میں

ارشاد باری تعالیٰ
يَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
سورۃ الفرقان 27
اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔

ارشاد باری تعالیٰ
الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ
سورۃ الزخرف 67
اس دن دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے متقین کے۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

فرمان نبوی ﷺ
الْمَرْءُ عَلَىٰ دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ
سنن ترمذی 2378
انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔

فرمان نبوی ﷺ
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسُّوءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ
صحیح بخاری 5534 صحیح مسلم 2628
اچھے اور برے ساتھی کی مثال خوشبو بیچنے والے اور لوہار کی طرح ہے۔

واقعہ

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو بھی اسلام کی دعوت دی۔ ان کی نیک صحبت کا اثر یہ ہوا کہ حضرت عثمان بن عفان، حضرت زبیر بن عوام اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ایمان لے آئے۔
صحیح بخاری فضائل الصحابہ

یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اچھی صحبت نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی ہدایت کا راستہ دکھاتی ہے۔

اچھی دوستی کے اثرات

ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے
نیکی کی طرف رغبت بڑھتی ہے
عبادات میں استقامت آتی ہے
اخلاق میں بہتری پیدا ہوتی ہے
گناہوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے

بری دوستی کے اثرات

گناہوں کی طرف میلان بڑھ جاتا ہے
نماز اور عبادات میں سستی آتی ہے
ایمان کمزور ہونے لگتا ہے
غلط عادات پیدا ہو جاتی ہیں
آخرت سے غفلت بڑھ جاتی ہے

اچھے دوست کی علامات

اللہ کی یاد دلانے والا ہو
گناہ سے روکنے والا ہو
سچا اور خیر خواہ ہو
نیکی کی ترغیب دینے والا ہو
برے ماحول سے بچانے والا ہو

دوستی کی اصلاح کا طریقہ

دوستوں کا احتیاط سے انتخاب کرنا
نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا
دینی ماحول میں وقت گزارنا
غلط دوستوں سے آہستہ آہستہ دوری اختیار کرنا
خود بھی دوسروں کے لیے اچھا دوست بننا

عملی رہنمائی

اپنے قریبی دوستوں کا جائزہ لینا
ایسے دوستوں کے ساتھ وقت بڑھانا جو دین کی طرف لے جائیں
سوشل میڈیا کی دوستیوں میں بھی احتیاط کرنا
دوستوں کے ساتھ نیکی کے کاموں میں حصہ لینا
ایک دوسرے کو نصیحت کرنے کی عادت ڈالنا

اختتامیہ

دوستی انسان کے ایمان کو یا تو مضبوط کرتی ہے یا کمزور۔ جو شخص اپنی صحبت کو درست کر لیتا ہے وہ اپنی زندگی کو درست کر لیتا ہے۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان ایسے لوگوں کے ساتھ رہے جو اسے اللہ کے قریب کریں۔

دعا

اللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا صُحْبَةَ الصَّالِحِينَ وَبَاعِدْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رُفَقَاءِ السُّوءِ

ناشر:قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقۂ جاریہ ہے، اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں۔