دیانت داری: مشکل مگر ضروری راستہ - امانت، سچائی اور باطنی پاکیزگی | قسط 244 - ڈاکٹر واجد ارشاد
An inspiring article on the importance of honesty, integrity, and trustworthiness (Diyanat Dari) in Islam by Dr. Wajid Irshad.


دیانت داری: مشکل مگر ضروری راستہ - امانت، سچائی اور باطنی پاکیزگی
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 244)
1۔ تمہید
آج کے مادیت پرست دور میں جہاں ہر طرف شارٹ کٹ، عارضی فائدے اور ظاہری چمک دمک کا بول بالا ہے، دیانت داری اور امانت داری پر قائم رہنا ایک انتہائی کٹھن اور مشکل راستہ محسوس ہوتا ہے۔ اکثر لوگ یہ سوچ کر سمجھوتہ کر لیتے ہیں کہ "تھوڑا سا جھوٹ یا بددیانتی کے بغیر کام نہیں چلتا۔" لیکن اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دیانت داری صرف ایک اخلاقی صفت نہیں، بلکہ یہ مومن کے ایمان کی بنیاد اور اس کی شخصیت کا اصل معیار ہے۔ مشکلات، نقصان کے خدشے اور معاشرتی دباؤ کے باوجود دیانت داری کا راستہ اختیار کرنا ہی انسان کے کردار کی اصلی آزمائش ہے۔ اگرچہ یہ راستہ وقتی طور پر مشکل اور صبر آزما نظر آتا ہے، لیکن اس کا انجام عزت، باطنی سکون اور ابدی کامیابی کی صورت میں نکلتا ہے۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے اہل ایمان کو سچائی اور امانتوں کو ان کے حق داروں تک پہنچانے کا سخت حکم دیا ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا (سورۃ النساء: 58)
بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو۔
وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (سورۃ المؤمنون: 8)
اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کی پاسداری کرنے والے ہیں۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کا رہنما نچوڑ
رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ اور مبارک ارشادات میں دیانت داری کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے:
امانت داری اور ایمان کا گہرا تعلق:
عن أنس بن مالك رضی الله عنه قال: قلما خطبنا رسول الله ﷺ إلا قال: لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له (مسند احمد: 12383)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بھی خطبہ دیا تو یہ ضرور فرمایا: اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں، اور اس کا کوئی دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں ہے۔
دیانت داری اور رزق کی برکت:
عن حكيم بن حزام رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما (صحیح البخاری: 2079)
خریدار اور فروخت کنندہ کو جب تک وہ جدا نہ ہوں اختیارات حاصل ہیں، اگر وہ دونوں سچ بولیں اور (عیب) واضح کر دیں تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔
4۔ دیانت داری پر قائم رہنے کے بنیادی پہلو
1. باطنی خوفِ خدا اور احساسِ جواب دہی: دیانت داری اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان کو یہ یقین نہ ہو کہ اللہ اس کے ہر عمل، سوچ اور چھپے ہوئے معاملے کو دیکھ رہا ہے۔ یہی خوفِ خدا انسان کو اکیلے میں بھی بددیانتی سے روکتا ہے۔
2. رزقِ حلال پر قناعت: مادیت اور حرص کے اس دور میں تھوڑے اور حلال رزق پر راضی رہنا دیانت داری کا سب سے بڑا ستون ہے۔ حرام کے عارضی فائدے کے مقابلے میں حلال کا سکون انسان کو بلند مقام عطا کرتا ہے۔
3. معاشرتی دباؤ کا مقابلہ: جب پورا ماحول غلط راستے پر چل رہا ہو، تو اکیلے دیانت دار بنے رہنا ہمت کا کام ہے۔ نبوی اسوہ ہمیں یہ حوصلہ دیتا ہے کہ حق اور سچائی کا ساتھ ہر حال میں دینا ہے۔
5۔ اختتامیہ
دیانت داری وہ روشن چراغ ہے جو انسان کو دنیا کی ذلت اور آخرت کی رسوائی سے بچاتا ہے۔ اگرچہ یہ راستہ مشکل، کٹھن اور آزمائشوں سے بھرا ہے، لیکن اس کا ثمر باطنی اطمینان اور اللہ کی رضا کی صورت میں ملتا ہے۔ جب ایک فرد، تاجر یا ملازم اپنے معاملات میں دیانت داری کو اپنا شعار بناتا ہے تو وہ پورے معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔ آئیے! ہم سب مل کر یہ پختہ عزم کریں کہ حالات چاہے کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، ہم اپنی زبان، مال، نوکری اور تمام معاملات میں دیانت داری کا دامن کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
دعا:
اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى
اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی (دیانت داری) اور (لوگوں سے) بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
دیانت داری اور امانت داری کا یہ اہم اخلاقی پیغام آگے شیئر کر کے صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
