دین کو آسانی سے اپنانا: اسلام کی فطری آسانی، میانہ روی اور عملی نفاذ | قسط 207 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Discover how to adopt Islam with ease (Tayseer) and balance (Itidal). Learn practical ways for consistent worship and living a balanced Islamic life by Dr. Wajid Irshad."


دین کو آسانی سے اپنانا: اسلام کی فطری آسانی، میانہ روی اور عملی نفاذ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 207)
1۔ تمہید (Introduction)
دینِ اسلام ایک فطری، متوازن اور سراپا رحمت دین ہے جس کی بنیاد انسانوں کے لیے آسانی اور خیر خواہی پر رکھی گئی ہے۔ رب العزت نے اپنے بندوں کو کسی ایسے عمل یا مشقت کا مکلف نہیں بنایا جو ان کی استطاعت اور انسانی طاقت سے باہر ہو۔ اسلام نہ تو راہبانہ طرزِ زندگی کا علمبردار ہے جہاں دنیاوی تقاضوں کو یکسر ترک کر دیا جائے اور نہ ہی یہ ایسی بے لگام آزادی کی اجازت دیتا ہے جس سے اخلاقی و روحانی حدود پامال ہوں۔ یہ ایک مکمل اور عملی ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں میانہ روی اور اعتدال کا درس دیتا ہے۔
عصرِ حاضر میں بعض اوقات غلط فہمیوں، لا علمی یا غیر متوازن رویوں کی وجہ سے دین کو ایک مشکل، کٹھن اور ناقابلِ عمل نظام سمجھ لیا جاتا ہے، یا پھر بعض لوگ دینداری میں اس قدر غلو اور سختی اختیار کرتے ہیں کہ خود بھی اکتاہٹ کا شکار ہو کر چھوڑ بیٹھتے ہیں اور دوسروں کو بھی دین سے دور کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ آسانی کے نام پر احکامِ شرعیہ سے غفلت برتتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں "دین کی آسانی" (تیسیر فی الدین) کا اصل مفہوم کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے عملی زندگی میں دینداری کے اندر اعتدال کا کیا طریقہ سکھایا؟ اور ایک عام انسان اپنی روزمرہ مصروفیات کے ساتھ دین کو آسانی اور مستقل مزاجی سے کیسے اپنا سکتا ہے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، فقہی اور فکری جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
قرآنِ مجید نے مختلف مقامات پر واضح فرمایا ہے کہ شریعت کا بنیادی مقصد انسانوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے نہ کہ تنگی:
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (سورۃ البقرۃ: 185)
اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی و دشواری نہیں چاہتا۔
وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ (سورۃ الحج: 78)
اور اس نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی یا تنگی کا سبب نہیں بنایا۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات نے امت کو دینداری میں آسانی، بشارت اور اعتدال کا راستہ دکھایا ہے:
• دین کا فطری طور پر آسان ہونا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 39)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بیشک دین آسان ہے، اور جو شخص بھی دین میں بے جا سختی اور غلو کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا (وہ عاجز آ کر عمل چھوڑ دے گا)، لہٰذا تم میانہ روی اختیار کرو، حق کے قریب رہو، خوشخبری سناؤ، اور صبح، شام اور رات کے کچھ حصے (کی عبادت) سے مدد حاصل کرو۔
• آسانی پیدا کرنے اور تنگی نہ ڈالنے کا نبوی حکم
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلاَ تُنَفِّرُوا"
(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 69 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1734)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو اور تنگی میں نہ ڈالو، اور خوشخبری دو اور نفرت مت پھیلاؤ۔
4۔ متوازن دینداری اور غلو پسندی کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)
دین کو اعتدال اور آسانی کے ساتھ اپنانے والے اور دین میں بے جا غلو کرنے والے کے درمیان یہ نمایاں فرق ہے:
1۔ طاعات اور معمولات کا انداز:
غلو پسند انسان: یکدم اتنی زیادہ عبادات اپنے اوپر لازم کر لینا جن پر دوام نہ ہو سکے اور بالاخر سب چھوٹ جائے۔
متوازن مومن: چھوٹے مگر مسلسل اعمال اختیار کرنا، فرائض کی مکمل ادائی کے ساتھ استقامت رکھنا۔
2۔ دوسروں کے ساتھ رویہ:
غلو پسند انسان: دوسروں پر سخت فتاویٰ لگانا، حقارت سے دیکھنا اور دین کو مشکل بنا کر پیش کرنا۔
متوازن مومن: نرمی، شفقت، عفو و درگزر اور حکمت و دانائی کے ساتھ نیکی کی دعوت دینا۔
3۔ دنیاوی و اخروی حقوق میں توازن:
غلو پسند انسان: اہلِ خانہ، جسم کے حقوق اور معاشرتی فرائض کو دین کے نام پر نظر انداز کرنا۔
متوازن مومن: دین، دنیا، اہلِ خانہ اور اپنی ذات کے حقوق کو شریعت کے مطابق ادا کرنا۔
4۔ شرعی رخصتوں کا استعمال:
غلو پسند انسان: بیماری، سفر یا مجبوری میں شرعی رخصتوں کو قبول کرنے میں تامل کرنا۔
متوازن مومن: اللہ کی دی ہوئی رخصتوں (جیسے تیمم، قصر، بیٹھ کر نماز) کو خوش دلی سے اپنانا۔
5۔ دین کو روزمرہ زندگی میں آسانی سے اپنانے کے 5 عملی اصول (Strategies)
دین کے راستے پر مستقل مزاجی اور آسانی سے چلنے کے لیے ان پانچ اصولوں کو عملی جامہ پہنائmove:
الف) مرحلہ وار نفاذ (Gradual Progress): تمام مستحبات اور نوافل کو ایک ہی دن میں شروع کرنے کے بجائے پہلے فرائض و واجبات کو مضبوط کریں اور پھر آہستہ آہستہ نوافل کی عادت ڈالیں۔
ب) تھوڑے مگر دائمی عمل کا اصول: روزانہ مختصر وقت کے لیے قرآن کی تلاوت یا تسبیح کریں لیکن اسے ناغہ نہ ہونے دیں؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو خواہ تھوڑا ہو۔
ج) روزمرہ جائز کاموں کو نیت سے عبادت بنانا: رزقِ حلال کمانا، اہلِ خانہ سے حسنِ سلوک، سچائی اور صفائی کو رضائے الٰہی کی نیت سے کریں تاکہ ہر معمول عبادت بن جائے۔
د) شرعی رخصتوں پر عمل: حالتِ سفر، بیماری یا معذوری میں شریعت کی دی ہوئی آسانیوں اور رعایتوں سے بلا جھجھک فائدہ اٹھائیں کیونکہ اللہ اپنی رخصتوں پر عمل کو پسند فرماتا ہے۔
ہ) مستند و معتدل صحبت اور علم کا حصول: ایسے اہلِ علم اور نیک ساتھیوں کی صحبت اختیار کریں جو دین کو آسان، پُرکشش اور معتدل انداز میں سکھاتے ہوں، تاکہ دینداری کا خوف دل سے نکلے۔
6۔ دین کو آسانی سے اپنانے کا سچا معائری پیمانہ
عملی زندگی میں دین کی سچی آسانی کا حقیقی معیار یہ ہے کہ:
• انسان فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی یا سستی نہ کرے۔
• دین پر عمل کرتے ہوئے دل میں بوجھ یا تنگی کے بجائے خوشی، طمانینت اور انشراحِ صدر ہو۔
• انسان کے اخلاق اور رویے سے اس کے اردگرد کے لوگ (اہلِ خانہ، ملازمین، دوست) امن اور راحت محسوس کریں۔
7۔ دین کو آسانی سے اپنانے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان دین کو اعتدال اور آسانی کے ساتھ اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم برکات عطا فرماتا ہے:
• استقامت اور طویل المدتی دوام: ایسا انسان کبھی دین سے اکتا کر پیچھے نہیں ہٹتا بلکہ زندگی کے آخری سانس تک نیکی پر قائم رہتا ہے۔
• خاندانی اور معاشرتی امن: گھر اور معاشرے میں محبت، الفت اور نرمی پیدا ہوتی ہے کیونکہ دین کا اصل حسن اس کے اخلاق ہیں۔
• رب العزت کی رضا اور حیاتِ طیبہ: اللہ تعالیٰ اس بندے کی زندگی کو برکت اور آخرت کو مغفرت و جنت سے سرفراز فرماتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اسلام کوئی بوجھل یا پیچیدہ مذہب نہیں بلکہ ایک آسان، روشن اور قابلِ عمل شاہراہِ حیات ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں سرخروئی عطا کرتی ہے۔ دینداری کا کمال یہ نہیں کہ انسان خود کو یا دوسروں کو غیر ضروری مشقتوں میں ڈالے، بلکہ کمال یہ ہے کہ وہ خلوصِ نیت، میانہ روی اور مستقل مزاجی کے ساتھ اللہ کے احکام اور سنتِ نبوی ﷺ کو اپنے معمولات میں سمو لے۔ جب ہم دین کو اس کی فطری آسانی کے ساتھ اپنائیں گے تو ہماری عبادات اور معاملات دونوں میں نور اور برکت پیدا ہوگی۔ آئیے! ہم سب مل کر دین کو محبت، اعتدال اور آسانی کے ساتھ اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کا عزم کریں۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ يَسِّرْ لَنَا الْيُسْرَىٰ، وَجَنِّبْنَا الْعُسْرَىٰ، وَاهْدِنَا صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ۔
اے اللہ! ایمان کو ہمارے لیے محبوب بنا دے اور اسے ہمارے دلوں میں مزین فرما دے، اور کفر، نافرمانی اور گناہوں کو ہمارے لیے ناپسندیدہ بنا دے، اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمارے لیے آسانی کا راستہ آسان فرما، اور ہمیں تنگی و دشواری سے محفوظ رکھ، اور ہمیں اپنے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
دین کی فطری آسانی اور میانہ روی کا یہ معتدل پیغام کسی ناواقف انسان کے لیے دین سے محبت اور عملی زندگی کا راستہ کھولنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
