دین کے لیے قربانی کا جذبہ کیسے پیدا ہو؟ علمی و عملی طریقے | سلسلہ نفس قسط 164 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Learn how to develop a sincere spirit of sacrifice for Islam. Discover effective methods to overcome worldly desires and gain inner peace, by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

6/13/20261 min read

معراجِ بندگی: دین کے لیے قربانی کا جذبہ ابھارنے کے ذرائع

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: نفس (قسط نمبر: 164)

1۔ تمہید (Introduction)

دینِ اسلام محض زبانی دعووں، خشک فلسفوں یا چند سطحی جذباتی نعروں کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ بنیادی طور پر ایثار، فدا کاری، عملی تضحیہ اور غیر مشروط قربانی کا دوسرا نام ہے۔ کسی بھی بندۂ مؤمن کے ایمان کی سچائی اور باطنی گہرائی کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب اس کی اپنی ذاتی خواہشات، عارضی مفادات، نیند، آرام، مال اور وقت ربِ ذوالجلال کے احکامات کے متقابل آ کھڑے ہوں اور وہ خوشی سے اپنی ہر عزیز ترین شے کو شریعت کی حدوں پر نچھاور کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ دورِ حاضر کا ایک تشویشناک المیہ یہ ہے کہ دلوں میں دین کی محبت اور گہری عقیدت پائے جانے کے باوجود، جب عملی قربانی کا وقت آتا ہے تو قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم گہرائی میں جا کر ان اسباب کا جائزہ لیں جو قربانی کے اس بنیادی جذبے کو سرد کر دیتے ہیں، اور ان عملی طریقوں کو دریافت کریں جو دل میں ایثار کی شمع روشن کر سکیں۔

2۔ قرآنی حقائق اور الٰہی سودا (The Qur'anic Premise)

قرآنِ مجید کی آیاتِ بینات ہمیں واضح کرتی ہیں کہ ربِ کریم کے ہاں نیکی کا سچا معیار اور اخروی سودے کی حقیقت کیا ہے:

إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (سورۃ التوبہ: 111)

بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے بدلے خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے۔

یہ آیہ مبارکہ کائنات کے سب سے بڑے تجارتی سودے کو بیان کرتی ہے، جہاں مؤمن اپنا فانی اثاثہ بیچ کر بقائے دوام کی جنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (سورۃ آل عمران: 92)

تم لوگ ہرگز کمالِ نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم ان چیزوں میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔

الٰہی قانون کے مطابق، نیکی کی روح اسی وقت بیدار ہوتی ہے جب انسان اپنی من پسند اور دل کے قریب ترین شے کو قربان کرنے کا حوصلہ پیدا کرے۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ (سورۃ البقرہ: 218)

یقیناً جو لوگ ایمان لائے، اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں (جان و مال سے) جہاد کیا، وہی اللہ کی رحمت کے سچے امیدوار ہیں۔

رحمتِ الٰہی کی امید صرف زبانی تمناؤں پر نہیں، بلکہ ایمان، ہجرت اور پیہم جدوجہد کی قربانیوں پر موقوف ہے۔

3۔ ارشاداتِ نبوی ﷺ کی شاندار ہدایات (Prophetic Guidance)

احادیثِ مبارکہ ہمیں قربانی کی باطنی حقیقت، اس کے ابدی انعامات اور انسانی وجود پر اس کے تعمیری اثرات سے آگاہ کرتی ہیں:

• رب کے لیے چھوڑنے کا ابدی صلہ

مَنْ تَرَكَ شَيْئًا لِلَّهِ عَوَّضَهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ (مسند احمد، رقم الحدیث: 23074، محدثین نے اسے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا ہے)

جو شخص بھی اللہ کی رضا کی خاطر کسی چیز (یا گناہ) کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس کے بدلے اس سے کہیں زیادہ بہتر چیز عطا فرما دیتا ہے۔

قربانی کا یہ نبوی اصول ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں دیا گیا کوئی بھی نقصان دراصل خسارہ نہیں، بلکہ عظیم ترین نفع ہے۔

• منزلِ مقصود کا کٹھن راستہ

الْجَنَّةُ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ وَالنَّارُ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2822)

جنت کو مشقتوں اور ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے، جبکہ دوزخ کو نفسانی خواہشات اور لزتوں سے گھیر دیا گیا ہے۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نیکی اور قربانی کا راستہ بظاہر کٹھن ہوتا ہے، مگر اس کا انجام ابدی راحت کی شکل میں نکلتا ہے۔

• الٰہی محبت کا اصل معیار

أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ (المعجم الأوسط للطبرانی، رقم الحدیث: 5787، علامہ البانی نے السلسلة الصحيحة [رقم: 906] میں اسے حسن قرار دیا ہے)

اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسانوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو دوسرے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش اور فائدہ مند ہو۔

دین کے لیے قربانی کا ایک بڑا رخ مخلوقِ خدا کی خدمت اور اپنے مفاد کو دوسروں پر ترجیح دینا ہے۔

4۔ قربانی کا جذبہ سست پڑنے کے مخفی اسباب (Why the Spirit Weakens)

انسانی باطن میں قربانی کی رمق مدہم پڑنے کے پیچھے درج ذیل چار بڑے اسباب کارفرما ہوتے ہیں:

  • حبِ دنیا کا غلبہ: جب دل مادی کائنات کی چمک دمک، جائیداد، اور عارضی آسائشوں کا اسیر ہو جائے، تو دین کے تقاضوں کے لیے مال یا وقت نکالنا ایک بھاری بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔

  • آخرت کے تصور سے بے پروائی: جب بندے کا یہ یقین کمزور پڑ جائے کہ اس فانی زندگی کے بعد ایک ابدی حساب کتاب کی دنیا قائم ہونے والی ہے، تو وہ فوری دنیاوی فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔

  • نفسِ امارہ کی اسیری: انسانی نفس ہمیشہ سہولت پسندی، سستی، آرام اور عیاشی کی طرف مائل کرتا ہے، جو قربانی کی ضد ہیں۔

  • دین کا محدود فہم: جب شریعت کو صرف چند روایتی رسوم یا عبادات کا مجموعہ سمجھ لیا جائے اور اس کے اجتماعی و اخلاقی نفاذ سے آنکھیں موند لی جائیں، تو تضحیہ کا تصور مٹ جاتا ہے۔

5۔ باطن میں ایثار کی شمع جلانے کے عملی راستے (Practical Steps)

اپنے اندر نیکی اور دین کے لیے قربانی کا سچا ولولہ پیدا کرنے کے لیے ان پانچ اصولوں پر کاربند ہوں:

الف) فکرِ آخرت اور موت کا کثرت سے استحضار

اپنے ذہن کو بار بار یہ یاد دلائیں کہ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے۔ قبر کی تنہائی اور رب کے حضور پیشی کا تصور انسان کے اندر سے مادی لالچ کو ختم کر کے اسے ایثار پسند بناتا ہے۔

ب) سیرتِ صحابہ و اسلاف کا گہرا مطالعہ

ان عظیم نفوس کی زندگیوں کا مطالعہ کریں جنہوں نے فقر و فاقہ کے باوجود اسلام کی شمع کو اپنے خون سے روشن رکھا۔ ان کا اسوہ ہمارے مرجھائے ہوئے جذبات کو نئی زندگی بخشتا ہے۔

ج) چھوٹی اور روزمرہ قربانیوں سے مشق کا آغاز

یکدم کسی بڑی قربانی کے بجائے روزمرہ کی زندگی سے شروعات کریں۔ صبح کی نیند قربان کر کے فجر کے لیے اٹھنا، فضول خرچی چھوڑ کر کسی غریب کی مدد کرنا، اور اپنے غصے کو پی جانا— یہ چھوٹی قربانیاں بڑے جذبوں کی نرسری ہیں۔

د) سچے تعلق باللہ کے لیے دعاؤں کا اہتمام

دلوں کا پھیرنا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ تنہائی میں رو رو کر ربِ کریم سے یہ التجا کی جائے کہ وہ ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال کر اپنے راستے کی سچی فدا کاری عطا فرمائے۔

ہ) مخلص اور قربانی دینے والے انسانوں کی صحبت

ایسے سنجیدہ اور دین دار لوگوں کی رفاقت اختیار کریں جو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر دین کے کاموں کے لیے وقت اور مال صرف کر رہے ہوں؛ صحبت کا اثر باطن کو بدل دیتا ہے۔

6۔ تضحیہ اور قربانی کا حقیقی معیار کیا ہے؟

یاد رکھیے، قربانی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان سال میں ایک بار کچھ مال صدقہ کر دے، بلکہ اس کا حقیقی معیار یہ ہے کہ:

1. جہاں نفس گناہ کی طرف تڑپ رہا ہو، وہاں اللہ کے خوف سے اپنی خواہش کا گلا گھونٹ دیا جائے۔

2. چوبیس گھنٹوں کے مصروف ترین شیڈول میں سے دین سیکھنے اور سکھانے کے لیے وقت نکالا جائے۔

3. شدید معاشی بحران کے باوجود حلال کمانے پر سمجھوتہ نہ کیا جائے اور حرام کے مواقع کو ٹھکرا دیا جائے۔

4. معاشرتی دباؤ اور اپنوں کی ناراضی کے باوجود حق بات پر ڈٹ جایا جائے۔

7۔ ایثارِ نفس کے ابدی ثمرات (The Divine Fruits)

جو بندہ خلوصِ دل کے ساتھ اللہ کے دین کی خاطر اپنے آرام یا مفاد کی قربانی دیتا ہے، الٰہی عدالت سے اسے یہ چار انعامات حاصل ہوتے ہیں:

  • قلبی سکون و اطمینان: دنیا کی کوئی مادی چیز اس اندرونی سرور کا مقابلہ نہیں کر سکتی جو رب کی خاطر کوئی چیز چھوڑنے سے ملتا ہے۔

  • ایمان کی حلاوت و پختگی: بندے کا ایمان روایتی دائرے سے نکل کر یقینِ کامل کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔

  • رزق و عمر میں غیبی برکت: بظاہر جو چیز کم ہوتی نظر آتی ہے، اللہ تعالیٰ اس میں اپنی برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔

  • اخروی درجات کی بلندی: آخرت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کی رفاقت ایسے ہی صابر و مخلص نفوس کا مقدر بنے گی۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ دین کے لیے قربانی کا جذبہ کوئی ایسی کیفیت نہیں ہے جو خود بخود یا وقتی جوش سے پیدا ہو جائے، بلکہ یہ ایک مسلسل تربیتی اور باطنی عمل کا نتیجہ ہے۔ جب انسان اپنے دل کے سنگھاسن سے دنیا کی محبت کا بت مسمار کر دیتا ہے اور آخرت کی پائیدار کامیابی کو اپنا نصب العین بنا لیتا ہے، تو پھر اسلام کی خاطر کوئی بھی مشقت اٹھانا اس کے لیے بوجھ نہیں رہتا، بلکہ وہ اسے اپنے لیے ایک عظیم سعادت اور اعزاز تصور کرنے لگتا ہے۔ اصل اور ابدی کامیابی اسی میں پنہاں ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو بدلیں اور اپنے نفس کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے تابع کر دیں۔

دعا (Supplication)

اللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا الصِّدْقَ فِي ضْحِيَةِ فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ أَعْمَالَنَا خَالِصَةً لِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ

(دعائیہ کلمات)

"اے کائنات کے پروردگار! ہمیں اپنے پاکیزہ راستے میں سچے دل کے ساتھ قربانی اور ایثار کرنے کا ولولہ عطا فرما، اور ہمارے تمام ظاہری و باطنی اعمال کو خالص اپنی رضا اور خوشنودی کے لیے قبول فرما۔ آمین یا رب العالمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

حق اور اصلاح کی اس آواز کو دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے، نیکی کے اس پیغام کو پھیلانے میں ہمارے مددگار بنیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.