رمضان اور دعوتِ دین: عملی ذمہ داریاں

Ramadan is not only a month of personal worship but also a great opportunity for inviting others towards the teachings of Islam. This article highlights the importance of Da'wah during Ramadan in the light of the Qur’an and Hadith, and explains the practical responsibilities of every Muslim in spreading goodness and guidance in society.

RAMADAN

Dr. Wajid Irshad

3/13/20261 min read

رمضان اور دعوتِ دین: عملی ذمہ داریاں

ڈاکٹر واجد ارشاد

تمہید

رمضان المبارک صرف انفرادی عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ اصلاحِ امت اور دعوتِ دین کا بھی بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں دل نرم ہوتے ہیں، قرآن کی طرف توجہ بڑھتی ہے اور لوگ نیکی کی بات سننے کے لیے زیادہ آمادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق دین کی دعوت کو عام کرے اور لوگوں کو خیر و بھلائی کی طرف بلائے۔ اگر رمضان میں مسلمان اپنے عمل اور کردار کے ذریعے دین کا پیغام پہنچائیں تو معاشرے میں بڑی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔

قرآن کی روشنی میں

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

آل عمران 104

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ

النحل 125

اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔

حدیث کی روشنی میں

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله ﷺ

مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ

صحیح مسلم 1893

جو شخص کسی نیکی کی طرف رہنمائی کرے اسے اس نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال قال رسول الله ﷺ

بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً

صحیح البخاری 3461

میری طرف سے (لوگوں تک دین کی بات) پہنچاؤ اگرچہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو۔

فقہی آراء اور تجزیہ

اہلِ علم کے نزدیک دعوتِ دین امتِ مسلمہ کی ایک اہم اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہر مسلمان کو اپنے علم اور استطاعت کے مطابق اس کام میں حصہ لینا چاہیے۔ رمضان میں اس ذمہ داری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس مہینے میں قرآن کی تلاوت، دینی مجالس اور نیکیوں کی طرف رغبت عام ہو جاتی ہے۔ اس لیے حکمت، نرم مزاجی اور اچھے اخلاق کے ساتھ لوگوں تک دین کا پیغام پہنچانا بہت بڑی خدمت ہے۔

عملی پہلو

رمضان میں دعوتِ دین کے کئی آسان طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ قرآن کی تعلیمات کو عام کرنا، مساجد میں دینی دروس کا اہتمام کرنا، سوشل میڈیا کے ذریعے مفید پیغام پہنچانا اور اپنے گھر و خاندان میں دینی ماحول پیدا کرنا اس کی مثالیں ہیں۔ اسی طرح اپنے عمل اور کردار سے بھی دین کی دعوت دینا نہایت مؤثر طریقہ ہے کیونکہ اچھا کردار خود ایک خاموش دعوت بن جاتا ہے۔

دعا
اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الدُّعَاةِ إِلَى الْخَيْرِ، وَوَفِّقْنَا لِنَشْرِ دِينِكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْإِخْلَاصِ، وَاجْعَلْ أَعْمَالَنَا خَالِصَةً لِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ۔

اے اللہ! ہمیں خیر کی طرف دعوت دینے والوں میں شامل فرما، ہمیں اخلاص اور حکمت کے ساتھ تیرے دین کو پھیلانے کی توفیق عطا فرما اور ہمارے اعمال کو اپنے لیے خالص بنا دے۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے۔ اس تحریر کو شیئر کر کے خیر کے کاموں میں ہمارا ساتھ دیں۔