دعوتِ دین کا نبوی انداز - حکمت، موعظۂ حسنا، تدریج اور داعیِ اسلام کے بنیادہ اوصاف | قسط 224 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Comprehensive Islamic guide on the Prophetic methodology of Dawah (inviting to Islam). Practical lessons on wisdom, gentleness, gradualism, and effective preaching by Dr. Wajid Irshad."


دعوتِ دین کا نبوی انداز - حکمت، موعظۂ حسنا، تدریج اور داعیِ اسلام کے بنیادہ اوصاف
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: دعوت (قسط نمبر: 224)
1۔ تمہید (Introduction)
اسلام ایک عالمگیر اور متحرک دین ہے جس کی بقا، اشاعت اور لوگوں کے دلوں میں نفاذ کا تمام تر دارومدار "دعوتِ دین" (Dawah / Islamic Preaching) پر ہے۔ دعوتِ دین انبیاء کرام علیہ السلام کا بنیادی مشن اور امتِ مسلمہ کے منصبی فرائض میں شامل ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ تاہم، دعوت صرف کسی پیغام کو پہنچا دینے کا نام نہیں، بلکہ اس بات کی انتہائی اہمیت ہے کہ وہ پیغام کس انداز، کس اسلوب اور کس حکمتِ عملی کے تحت پہنچایا جا رہا ہے۔ دعوت کی تاثیر اور مقبولیت کا بڑا انحصار داعی کے اسلوب اور اس کے طرزِ تعامل پر ہوتا ہے۔
عصرِ حاضر کا ایک شدید المیہ یہ ہے کہ ہم نے دعوتِ دین کو نبوی اصولوں، حکمت اور نرمی سے کاٹ کر سختی، مناظرے، تنقید اور فتوے بازی کا میدان بنا دیا ہے۔ آج کلام میں تلخی، دوسروں کی تحقیر، اور جلد بازی نے ہمارے دعوتی کام کی تاثیر کو ختم کر کے لوگوں میں نفرت اور دوری پیدا کر دی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں "دعوتِ دین کا نبوی انداز" کیا تھا؟ رسولِ اکرم ﷺ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے وقت کن بنیادی حکمتوں، اخلاقیات اور تدریجی مراحل کا خیال رکھتے تھے؟ اور ہم آج کے اس تفرقہ انگیز دور میں نبوی اسلوبِ دعوت کو اپنا کر دین کی حقیقی اور مؤثر خدمت کیسے کر سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، فکری اور تربیتی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
قرآنِ مجید نے دعوتِ دین کے بنیادی اصول، حکمت اور نرم گفتاری کو اللہ کا واضح حکم قرار دیا ہے:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (سورۃ النحل: 125)
(اے حبیب!) آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت (تدبیر) اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلائیے، اور ان سے اس طریقے سے بحث (و گفتگو) کیجیے جو سب سے احسن (اور شائستہ) ہو۔
فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ (سورۃ طٰہٰ: 44)
پس تم دونوں (موسیٰ و ہارون) اس (فرعون) سے نرم بات کہنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا (اللہ سے) ڈر جائے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے دعوتِ دین میں آسانیاں پیدا کرنے، نرمی اختیار کرنے اور نفرتوں سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے:
• بشارت اور آسانی کا نبوی اصول
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 69 / صحیح مسلم)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور تنگی نہ پیدا کرو، اور انہیں خوشخبری دو اور (نفرت دلا کر) دور نہ کرو۔"
• ہدایتِ انسانی کی عظیم قدر و قیمت
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "...فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3701 / صحیح مسلم)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "...پس اللہ کی قسم! اگر اللہ تمہارے ذریعے ایک بھی انسان کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں (عرب کے سب سے قیمتی مال) سے بھی بہتر ہے۔"
4۔ دعوتِ دین کے 4 بنیادی نبوی اسلوب (Prophetic Methodology)
سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرنے سے دعوتِ دین کے چار بنیادی نبوی اصول اور اسالیب سامنے آتے ہیں:
1۔ عمل کی طاقت (Personal Example / Qudwah):
نبی کریم ﷺ کی دعوت زبان سے پہلے آپ ﷺ کی پاکیزہ سیرت اور سچی شخصیت (الصادق و الامین) پر مبنی تھی۔ لوگ آپ ﷺ کے اخلاق اور کردار کو دیکھ کر دین کی طرف راغب ہوتے تھے۔
2۔ تدریج اور مرحلہ واری (Gradual Approach):
آپ ﷺ نے عقائد، اخلاق اور احکام کو یکمشت ٹھونسنے کے بجائے تدریجاً پہنچایا۔ پہلے ایمان اور عقیدہ توحید کو دلوں میں راسخ کیا، پھر عبادات اور دیگر احکام کو فرض کیا۔
3۔ مخاطب کی عقل اور نفسیات کی رعایت:
آپ ﷺ ہر شخص سے اس کے علمی اور نفسیاتی درجے کے مطابق بات فرماتے تھے۔ اعرابی (بدوی) کے ساتھ اس کی زبان میں نرمی سے پیش آتے اور حکمرانوں کو ان کے منصب کے مطابق احترام سے خطوط لکھتے۔
4۔ نرمی اور معافی کا رویہ:
مسجد میں پیشاب کرنے والے اعرابی کا واقعہ ہو یا جاہلانہ سوالات کرنے والے افراد، آپ ﷺ نے کبھی ڈانٹ ڈپٹ یا سختی نہیں کی بلکہ شفقت اور محبت سے اصلاح فرمائی۔
5۔ نبوی دعوت کے مقابلے میں ہمارا موجودہ انداز (The Core Difference)
دعوتِ نبوی ﷺ کے روشن آئینے میں اگر ہم اپنے موجودہ دعوتی رویوں کا جائزہ لیں تو یہ واضح تضاد نظر آتا ہے:
1۔ دعوت کا بنیادی مقصد:
ہمارا رویہ: بحث جیتنا، دوسرے کو زبردستی غلط ثابت کرنا اور فکری طور پر نیچا دکھانا۔
نبوی اسوہ: انسان کی خیر خواہی، اس کی آخرت کی نجات اور شفقت سے ہدایت کی طرف بلانا۔
2۔ اسلوب اور زبان:
ہمارا رویہ: سخت اور کڑوے الفاظ، گمراہی اور کفر کے فتوے جلدی لگانا۔
نبوی اسوہ: موعظۂ حسنا (اچھی نصیحت)، نرم کلامی اور اصلاحِ احوال کے لیے گداز دل۔
3۔ مخاطب کا احترام:
ہمارا رویہ: لوگوں کی خامیوں کا برملا تذکرہ کرنا اور مجلس میں ان کی رسوائی کرنا۔
نبوی اسوہ: عیب پوشی کرنا، عام انداز میں "مَا بَالُ أَقْوَامٍ" (لوگوں کو کیا ہو گیا ہے) کہہ کر کسی کا نام لیے بغیر اصلاح فرمانا۔
6۔ نبوی اسلوبِ دعوت کو اپنا نے کے 5 عملی قدم (Practical Steps)
اپنی روزمرہ زندگی، گفتگو اور دعوتی کاموں میں نبوی انداز کو نافذ کرنے کے لیے ان ۵ اقدامات کو اپنائیں:
الف) "قبل الدعوۃ الاخلاق" (دعوت سے پہلے اخلاق): زبان سے بات کرنے سے پہلے اپنے معاشی لین دین، سچائی اور خانگی اخلاق کو نبوی سانچے میں ڈھالیں تاکہ آپ کا کردار مؤثر دعوت بن جائے۔
ب) خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرنا: جس شخص کو آپ دین کی بات بتا رہے ہیں، اس سے سچی محبت اور اس کی آخرت کی فکر اپنے دل میں پیدا کریں۔
ج) بحث و مباحثے (Debates) سے پرہیز: لایعنی مناظروں اور تجرح سے بچ کر بات کو دلیل، پیار اور شائستگی سے پیش کریں۔
د) نرمی اور آسانی کا انتخاب: لوگوں پر یکمشت تمام شرعی سختیاں لادنے کے بجائے آسان باتوں سے شروعات کریں اور امید و مغفرت کا پہلو نمایاں رکھیں۔
ہ) انفرادی اصلاح (1-on-1 Approach): کسی کی غلطی پر بھرپور مجلس میں ٹوکنے کے بجائے تنہائی میں محبت سے اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے بات کریں۔
7۔ نبوی اندازِ دعوت اپنانے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان اور تنظیم نبوی اندازِ دعوت کو اپنا اول و آخر بناتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم برکات عطا فرماتا ہے:
• دلوں کی تسخیر: نرم اور بااخلاق داعی کا پیغام لوگوں کے دلوں میں اتر جاتا ہے اور نفرتیں ختم ہوتی ہیں۔
• صدقہ جاریہ اور عظیم اجر: ایک انسان کا بھی آپ کی دعوت سے ہدایت پا جانا دنیا و مافیہا سے بہتر اجر کا باعث بنتا ہے۔
• امت میں اتحاد اور الفت: نبوی حکمت سے تفرقہ بازی ختم ہوتی ہے اور امت مسلمہ کی صفوں میں یکجہتی پیدا ہوتی ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ دعوتِ دین اسلام کی روح ہے، لیکن یہ روح صرف اسی وقت زندہ رہ سکتی ہے جب اسے "نبوی اسلوب" کے پیراہن میں پیش کیا جائے۔ آج اگر دنیا یا ہمارے اپنے نوجوان دین سے دور ہو رہے ہیں، تو اس کی بڑی وجہ اسلام کی تعلیمات نہیں بلکہ ہمارا سخت اور غیر حکمت آمیز اندازِ پیشکش ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دین کا پیغام ہر دل کی آواز بنے، تو ہمیں اپنے لہجے سے تلخی، دلوں سے کینہ اور انداز سے سختی کو نکال کر نبوی شفقت، حکمت اور موعظۂ حسنا کا علم بلند کرنا ہوگا۔ آئیے! ہم سب یہ عزم کریں کہ ہم اپنی ذات کو نبوی اخلاق کا نمونہ بنائیں گے اور عاجزی، پیار اور حکمت سے دین کا روشن پیغام گھر گھر پہنچائیں گے۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ اهْدِنَا وَاهْدِ بِنَا وَاجْعَلْنَا سَبَبًا لِمَنِ اهْتَدَى، اللَّهُمَّ آتِنَا الْحِكْمَةَ فِي الدَّعْوَةِ إِلَى دِينِكَ، وَارْزُقْنَا اللِّينَ وَالشَّفَقَةَ عَلَى خَلْقِكَ، وَاجْعَلْ أَعْمَالَنَا خَالِصَةً لِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ۔
اے اللہ! ہمیں ہدایت عطا فرما، ہمارے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے اور ہمیں ہدایت کا ذریعہ بنا۔ اے اللہ! ہمیں اپنے دین کی دعوت میں نبوی حکمت، نرمی اور خلقِ خدا پر شفقت عطا فرما، ہمارے کلام میں تاثیر پیدا کر اور ہماری تمام کوششوں کو اپنی رضا کے لیے قبول فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
دعوتِ دین کے نبوی اسلوب کا یہ پیغام ہر داعیِ دین، معلم اور اصلاحِ معاشرہ کی فکر رکھنے والے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
