دباؤ میں آکر سمجھوتہ (Compromise) کرنا: اسلام کی نظر میں | سلسلہ عصرِ حاضر قسط 168 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Read the comprehensive research by Dr. Wajid Irshad on the Islamic perspective regarding social and financial compromises under societal pressure. Stay firm on Shariah principles."

Dr. Wajid Irshad

6/17/20261 min read

اصولوں کی بقا: دباؤ میں آکر سمجھوتہ (Compromise) کرنے کا شرعی محاکمہ

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: عصرِ حاضر (قسط نمبر: 168)

1۔ تمہید (Introduction)

ہم ایک ایسے مادی، مرعوب کن اور پُرآشوب دورِ حیات سے گزر رہے ہیں جہاں ایک عام مسلمان کو اپنے روزمرہ کے معاملات میں شدید قسم کے سماجی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کارپوریٹ کلچر کی مصنوعی چمک دمک ہو، برادری اور خاندان کے فرسودہ رسم و رواج ہوں، یا عارضی دنیاوی مفادات کا حصول— ہر موڑ پر انسان کا پاؤں پھسلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ گناہ، رشوت، سود، بے حیائی، ملاوٹ یا ناانصافی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کو "وقت کی ضرورت"، "مصلحت پسندی" یا "حالات کا جبر" کہہ کر خوبصورت نام دے دیے جاتے ہیں، اور انسان بڑی آسانی سے اپنے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ (Compromise) کر بیٹھتا ہے۔ دینِ اسلام ہمیں معاشرے میں لچک، اخلاق اور حکمت سکھاتا ہے، لیکن وہ ہمیں اپنے ایمان اور ضمیر کا سودا کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ جب بیرونی دباؤ حد سے بڑھ جائے، تو ایک مؤمن کو اپنی حدِ فاصل کہاں کھینچنی چاہیے؟ اور وہ کون سے محرکات ہیں جو ایک مسلمان کو مصلحت پسندی کے نام پر اخلاقی دیوالیہ پن کی طرف لے جاتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی اہم ترین عصری مسئلے کا تفصیلی، نفسیاتی اور شرعی محاکمہ کریں گے۔

2۔ الٰہی میزان اور قرآنی نکتۂ نظر (The Qur'anic Stand)

قرآنِ مجید دنیاوی دباؤ کے سامنے جھکنے اور مفادات کی خاطر دین کے احکامات میں نرمی پیدا کرنے کی روش کو سخت ترین الفاظ میں رد کرتا ہے اور مؤمنین کو عزیمت کا راستہ سکھاتا ہے:

الف) باطل کی سمجھوتہ پسندانہ خواہش کا رد

وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ (سورۃ القلم: 9)

وہ تو اس بات کے خواہشمند ہیں کہ کسی طرح آپ (اپنے اصولی مؤقف میں) کچھ نرمی یا سمجھوتہ اختیار کریں، تو وہ بھی نرم پڑ جائیں۔

باطل کا سب سے بڑا حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ حق کے علمبرداروں کو مصلحت کی چادر اڑھا کر ان کے نظریاتی قلعے کو کھوکھلا کر دے اور دین کے واضح احکامات کو لچکدار بنا دے۔

ب) انسانی خوف بمقابلہ خشیتِ الٰہی

فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا (سورۃ المائدہ: 44)

پس تم لوگوں سے مت ڈرو بلکہ صرف مجھ سے ڈرو، اور میری آیات کے بدلے (دنیا کا) حقیر معاوضہ مت وصول کرو۔

جب سوسائٹی کا خوف انسان کو الٰہی حدود پامال کرنے پر مجبور کر دے، تو یہ باطنی زوال کی سب سے بڑی نشانی ہے جس سے قرآن سختی سے منع کرتا ہے۔

ج) خاندانی و سماجی دباؤ پر حق کی بالادستی

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (سورۃ النساء: 135)

اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ، خواہ وہ گواہی خود تمہاری اپنی ذات، تمہارے والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

سماجی اور خاندانی دباؤ کا سب سے بڑا توڑ یہ الٰہی حکم ہے جو سچائی کو رشتوں کے اثر اور قریبی لوگوں کے اصرار سے بالاتر رکھتا ہے۔

3۔ ارشاداتِ نبوی ﷺ کی انقلابی ہدایات (Prophetic Standards)

رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور آپ ﷺ کے فرامین ہمیں سکھاتے ہیں کہ ایک سچے مسلمان کا سر صرف خالق کے سامنے جھک سکتا ہے، مخلوق کی خوشنودی کی خاطر وہ کبھی اپنے دین کا سودا نہیں کرتا:

الف) اطاعت کا حقیقی شرعی دائرہ کار

لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 7257)

اللہ کی نافرمانی پر مبنی کسی کام میں (کسی مخلوق کی) کوئی اطاعت اور فرمانبرداری نہیں ہے، اطاعت تو صرف نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ہے۔

چاہے مینیجر کا آرڈر ہو، برادری کا اصرار ہو یا سماج کا چلتا ہوا ٹرینڈ، اگر وہ کام شریعت کے واضح احکامات کے خلاف ہے تو وہاں صاف انکار کرنا مؤمن کا شرعی فریضہ ہے۔

ب) الٰہی رضا بمقابلہ عوامی خوشنودی

مَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللَّهُ مُؤْنَةَ النَّاسِ وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2414، علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

جس نے لوگوں کی ناراضی کے باوجود اللہ کی رضا کو تلاش کیا، اللہ اسے لوگوں کی تکلیفوں (اور شر) سے بچانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے، اور جس نے اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کی خوشنودی چاہی، اللہ اسے لوگوں کے ہی رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔

لوگوں کو عارضی طور پر خوش کرنے کے لیے کیا گیا کوئی بھی شرعی سمجھوتہ انسان کو بالآخر ذلت اور تنہائی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔

4۔ سمجھوتہ پسندی کے نفسیاتی و معاشرتی محرکات (Why We Compromise)

عصرِ حاضر میں ایک مسلمان ان چار بنیادی کمزوریوں اور نفسیاتی حربوں کے باعث حالات کے سامنے اپنے اصولوں کی قربانی دیتا ہے:

  • معاشی خوف (Economic Insecurity): نوکری چلی جانے کا ڈر، کاروبار میں عارضی نقصان کا اندیشہ، یا کارپوریٹ سیکٹر میں پروموشن رک جانے کا خوف انسان کو جھوٹ بولنے، فائلوں میں ہیرا پھیری کرنے اور سود و رشوت پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

  • برادری اور خاندانی بائیکاٹ کا ڈر (Social Pressure): شادی بیاہ کی غیر شرعی رسومات، مخلوط محافل، بے جا اسراف اور نمود و نمائش پر لوگ صرف اس لیے خاموش رہتے ہیں اور ان کا حصہ بنتے ہیں کہ "اگر انکار کیا تو خاندان کیا کہے گا؟"

  • معذرت خواہانہ ذہنیت (Inferiority Complex): لبرل اور جدید مادی ماحول سے مرعوب ہو کر اپنے مذہبی تشخص، داڑھی، حجاب، حلال و حرام کی تمیز اور اوقاتِ نماز جیسے شعائر کو دباؤ میں آکر چھپانا یا جدید بننے کی دوڑ میں انہیں ترک کر دینا۔

  • عزیمت کے راستے سے فرار: رخصت، فتووں اور تاویلوں کا سہارا لے کر ہر مشکل مقام پر اپنے لیے کوئی نہ کوئی چور دروازہ تلاش کر لینا اور حق پر ڈٹنے کی تکلیف اور محنت سے بچنے کی کوشش کرنا۔

5۔ دباؤ کا مقابلہ کرنے کی عملی و دفاعی حکمتِ عملى (Practical Guide)

اگر آپ اپنی کام کی جگہ پر، تعلیمی ادارے میں یا خاندان میں کسی ایسے دباؤ کا شکار ہیں جہاں آپ کے دین کا سودا ہو رہا ہو، تو ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں:

اول: مصلحت (Wisdom) اور سمجھوتے (Compromise) کا فرق سمجھیں

حکمتِ عملی کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے اخلاق کو بلند رکھیں، نرم گفتگو کریں اور بہترین طریقے سے بات کو سنبھالیں، لیکن اپنے اصولی مؤقف (مثلاً حلال حرام، نماز، پردہ، سچائی) سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹیں۔ حکمتِ عملی اختیار کرنا جائز ہے، لیکن نظریاتی اور شرعی سودے بازی بالکل حرام ہے۔

دوم: "شائستہ انکار" کرنے کی جرات (The Power of Saying No)

جب بھی کوئی غیر شرعی مطالبہ کیا جائے، تو ابتدا میں ہی انتہائی شائستگی مگر مضبوطی کے ساتھ برائی کو "خیر باد" کہہ دیں۔ جب آپ پہلی بار دباؤ میں آکر تھوڑا سا جھک جاتے ہیں، تو باطل آپ کو کمزور سمجھ کر اگلی بار مزید بڑا دباؤ ڈالتا ہے۔ آپ کا پہلا واضح انکار آپ کی ایمانی رعب اور شخصیت کا وقار قائم کرتا ہے۔

سوم: رازق صرف اللہ ہے، اس عقیدے کی تجدید

اپنے دل کو بار بار یہ یقین دلائیں کہ کوئی مینیجر، کوئی سیٹھ، کوئی چوہدری یا کوئی حکومت آپ کا رزق نہ تو بند کر سکتی ہے اور نہ ہی اس میں کمی کر سکتی ہے۔ جب رزق کا مالک عرش پر موجود ہے، تو فرش والوں کے دباؤ میں آکر اس پاک ذات کے احکامات کو کیسے توڑا جا سکتا ہے؟

6۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اسلام ہمیں حالات سے لڑنا، طوفانوں کا رخ موڑنا اور ان میں راستے بنانا سکھاتا ہے، لیکن وہ ہمیں حالات کا غلام بننا ہرگز نہیں سکھاتا۔ دباؤ میں آکر اپنے اصولوں، حلال کی کمائی اور شرعی حدود پر سمجھوتہ کر لینا عافیت نہیں بلکہ باطنی اور ایمانی موت ہے۔

تاریخِ اسلام کے شاندار ابواب امام احمد بن حنبل کی فتنۂ خلقِ قرآن کے خلاف استقامت اور امام ابو حنیفہ کے کوڑوں سے سجائے گئے ہیں کیونکہ انہوں نے وقت کے جابر سلاطین کے دباؤ کے سامنے شریعت کا سودا کرنے اور جھکنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ آج ہمیں بھی اپنے اپنے دائرہ کار میں اصولوں پر قائم رہنا ہوگا، کیونکہ دنیا کی یہ آزمائشیں چند روزہ ہیں، لیکن ان کے مقابلے میں دکھائی گئی ایمانی شجاعت کا صلہ ابدی، لازوال اور جنت کی صورت میں مستقل ہے۔

دعا (Supplication)

اللّٰهُمَّ اعْصِمْنَا مِنَ الْفِتَنِ، وَأَعِزَّنَا بِالطَّاعَةِ وَلَا تُذِلَّنَا بِالْمَعْصِيَةِ، وَاجْعَلْ خَشْيَتَكَ فِي قُلُوبِنَا أَعْظَمَ مِنْ خَشْيَةِ النَّاسِ

(دعائیہ کلمات)

"اے کائنات کے شہنشاہ! ہمیں فتنوں سے محفوظ فرما، اپنی اطاعت کے ذریعے ہمیں عزتِ نفس عطا کر اور اپنی نافرمانی کے سبب ہمیں ذلیل نہ ہونے دے۔ ہمارے دلوں میں اپنا خوف اور اپنی عظمت لوگوں کے خوف سے کہیں زیادہ بڑھا دے۔ آمین یا رب العالمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

فکری بیداری اور ایمانی استقامت کے اس پیغام کو آگے بڑھانا صدقہ جاریہ ہے۔ اس کارِ خیر میں ہمارے معاون بنیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.