چھوٹے اعمال کی اہمیت - روح کی بالیدگی، قربِ الٰہی اور عظیم اجر کا نبوی اسوہ | قسط 251 - ڈاکٹر واجد ارشاد
An inspiring article on the spiritual significance of small good deeds (Chotay Amaal Ki Ahmiyat) in Islam, time management of virtues, and prophetic teachings by Dr. Wajid Irshad.


چھوٹے اعمال کی اہمیت - روح کی بالیدگی، قربِ الٰہی اور عظیم اجر کا نبوی اسوہ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 251)
1۔ تمہید
روحانیت اور تزکیہٴ نفس کی راہ میں اکثر لوگ یہ سوچ کر پریشان رہتے ہیں کہ شاید قربِ الٰہی صرف بڑے بڑے اور مشکل مجاہدوں، طویل عبادات یا بھاری صدقات سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں نیت کی اخلاص کے ساتھ کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے نیک اعمال انسان کی روح کو وہ تسکین اور روحانی بلندی عطا کرتے ہیں جو بظاہر بہت بڑے لیکن بے دلی سے کیے گئے کاموں سے نہیں ملتی۔
ہمارے معاشرے میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ دینِ اسلام کی روح یہ سکھاتی ہے کہ نیکی خواہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، خدا کے ہاں اس کا اجر و ثواب اور روحانی اثر بے حساب ہو سکتا ہے۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ مجید انسان کو یہ باور کرواتا ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں ذرہ برابر نیکی بھی ضائع نہیں ہوتی اور اس کا روحانی و اخروی وزن بہت زیادہ ہوتا ہے:
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ سورۃ الزلزال (آیت 7)
"پس جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا۔"
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ سورۃ المائدہ (آیت 9)
"اللہ نے ایمان والوں اور نیک اعمال کرنے والوں سے مغفرت اور عظیم اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔"
3۔ اسوہٴ حسنہ اور احادیثِ مبارکہ کا پیغام
سیرتِ طیبہ اور احادیثِ نبوی ﷺ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے امت کو چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھنے کی تلقین فرمائی ہے:
کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھنا:
عن أبي ذر رضی الله عنه قال: قال لي النبي ﷺ: لا تحقرن من المعروف شيئا، ولو أن تلقى أخاك بوجهطلق... (صحیح مسلم: 2626)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "کسی بھی نیکی کو ہرگز حقیر نہ سمجھو، خواہ وہ اپنے بھائی سے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو۔"
ہمیشگی والے عمل کی محبوبیت:
عن عائشة رضی الله عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: أحب الأعمال إلى الله أدومها وإن قل... (صحیح البخاری: 6465)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ہاں سب سے محبوب اعمال وہ ہیں جن پر ہمیشگی اختیار کی جائے، خواہ وہ تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں۔"
4۔ روحانی زندگی میں چھوٹے اعمال کے 4 بنیادی تقاضے
مسکراہٹ اور حسنِ اخلاق:
کسی سے خوش اخلاقی سے بات کرنا، سلام میں پہل کرنا اور مسکرا کر ملنا بظاہر چھوٹے عمل ہیں لیکن یہ دلوں سے بغض و کینہ ختم کر کے روح میں نرمی اور پاکیزگی پیدا کرتے ہیں۔
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا:
راستے سے پتھر، کانٹا یا گندگی ہٹانا ایمان کا شعبہ ہے۔ یہ عمل انسان کے اندر مخلوقِ خدا کی خدمت اور عاجزی کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔
ذکرِ الٰہی کا معمول:
زبانی ذکر جیسے الحمد للہ، سبحان اللہ يا استغفار کی مداومت رکھنا دل کے زنگ کو دور کرتا ہے اور بغیر کسی مشقت کے انسان کو ہر وقت خدا کے قریب رکھتا ہے۔
مخلوق پر رحم و شفقت:
کسی پیاسے جانور کو پانی پلانا، کسی پرندے کے لیے دانہ رکھنا یا کسی پریشان حال کی مختصر تسلی دینا انسان کو رحمان کی رحمت کا مستحق بنا دیتا ہے۔
5۔ اختتامیہ
روحانیت کا سفر یکبارگی کسی بڑے انقلاب سے زیادہ چھوٹے اور مسلسل نیک اعمال کی پابندی سے طے ہوتا ہے۔ قطرہ قطرہ مل کر ہی سمندر بنتا ہے۔ جب انسان اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹی نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے لیے بڑی نیکیوں کی توفیق کے دروازے کھول دیتا ہے۔
آئیے! یہ عزم کریں کہ ہم اپنے کسی بھی چھوٹے عمل کو حقیر نہیں سمجھیں گے، اخلاصِ نیت کو اپنائیں گے اور چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی مداومت سے اپنی روح کو پاکیزہ اور زندگی کو ببرکت بنائیں گے۔
دعا:
اللهم اعنا على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك، واجعل اعمالنا كلها صالحة ولمرضاتك خالصة
اے اللہ! ہمیں اپنے ذکر، شکر اور بہترین عبادت کی توفیق عطا فرما، اور ہمارے تمام اعمال کو نیک اور اپنی رضا کے لیے خالص بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
روحانیت اور چھوٹے اعمال کی اہمیت کا یہ فکری پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
