چھوٹے مواقع: بڑی نیکیاں اور اخروی کامیابی | قسط 176 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Explore the spiritual value of small daily good deeds and minor opportunities that lead to immense rewards in Islam by Dr. Wajid Irshad."


چھوٹے مواقع: بڑی نیکیاں
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 176)
1۔ تمہید (Introduction)
اکثر انسان یہ سوچتا ہے کہ دین میں بڑا مقام، قربِ الٰہی اور اخروی کامیابی صرف بڑے بڑے مہم جویانہ اعمال، کثیر مال کی قربانی یا دن رات کے زہد و تقویٰ ہی سے ممکن ہے۔ اس سوچ کے نتیجے میں وہ روزمرہ زندگی میں سامنے آنے والے چھوٹے چھوٹے نیک اعمال اور مواقع کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ دورِ حاضر کا یہ ایک بڑا باطنی المیہ ہے کہ ہم بڑی نیکیوں کے انتظار میں ان سینکڑوں چھوٹے مواقعوں کو گنوا دیتے ہیں جو ہر لمحہ ہمارے نامۂ اعمال کا وزن بڑھا سکتے ہیں۔
اسلام کا روحانی نظام ہمیں یہ بصیرت عطا کرتا ہے کہ رب العزت کے ہاں کسی عمل کا حجم (Size) نہیں، بلکہ اس کے پیچھے چھپا ہوا خلوص، نیت کی پاکیزگی اور محبتِ الٰہی دیکھی جاتی ہے۔ بظاہر ایک معمولی سا نظر آنے والا عمل، اگر وہ صحیح وقت پر اور سچے دل سے کیا جائے، تو بندے کی بخشش اور باطنی ترقی کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روزمرہ زندگی کے ان چھوٹے مواقعوں کو پہچان کر انہیں بڑی نیکیوں میں کیسے بدلا جائے؟ اور اپنے اندر وہ روحانی حساسیت کیسے پیدا کی جائے جو ہر لمحے کو غنیمت سمجھے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی روحانی حقیقت کا علمی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'anic Solace)
کلامِ الٰہی ہمیں یہ قانون سکھاتا ہے کہ اللہ کے ہاں اعمال کے وزن میں کوئی بھی چیز چھوٹی یا حقیر نہیں ہوتی:
فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (سورۃ الزلزال: 7-8)
پس جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی برائی کرے گا وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا۔
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ (سورۃ الانبیاء: 47)
اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو قائم کریں گے، پھر کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، اور اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے حاضر کر دیں گے، اور ہم حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کے ارشاداتِ عالیہ ہمیں روزمرہ کے چھوٹے اعمال کی غیر معمولی روحانی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں:
• کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھنا
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ: "لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ" (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2626)
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم نیکی کے کسی بھی کام کو ہرگز حقیر نہ سمجھو، خواہ وہ (اپنے مسلمان) بھائی سے خندہ پیشانی (مسکراہٹ) کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو۔
• ایک چھوٹے عمل پر مغفرت کا انعام
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّريقِ فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 652 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1914)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص راستے پر چل رہا تھا کہ اس نے راستے میں کانٹے دار ٹہنی دیکھی تو اسے (لوگوں کی تکلیف کے ڈر سے) پیچھے ہٹا دیا، اللہ نے اس کے اس عمل کو قبول فرمایا (شکر ادا کیا) اور اس کی مغفرت فرما دی۔
4۔ چھوٹے مواقعوں کو ضائع کرنے کے باطنی اسباب (Why We Miss Minor Deeds)
ہم روزمرہ زندگی میں نیکی کے ان سنہری اور چھوٹے مواقعوں کو ان چار باطنی غفلتوں کی وجہ سے کھو دیتے ہیں:
1. اعمال کی مادی پیمائش (Materialistic View): جب انسان نیکیوں کو صرف تعداد یا ظاہری حجم سے ناپتا ہے، تو وہ چھوٹے اعمال (جیسے سلام کرنا، پانی پلانا) کو کم رتبہ سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔
2. کثرتِ مصروفیت اور ذہنی انتشار: زندگی کی تیز رفتاری اور موبائل اسکرین میں گم رہنے کی وجہ سے انسان اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں اور نیکی کے مواقع سے اندھا ہو جاتا ہے۔
3. اخلاص کی کمی اور نمائش کی چاہ: نفس کو ان نیکیوں میں زیادہ مزہ آتا ہے جہاں لوگوں کی واہ واہ ہو، جبکہ چھوٹے مواقع عام طور پر خاموش اور گمنام ہوتے ہیں۔
4. تسویف (کل پر ٹالنا): "پھر کبھی بڑا کام کر لوں گا" کا دھوکہ انسان کو اس وقت موجود چھوٹے اور نقد موقع سے محروم کر دیتا ہے۔
5۔ چھوٹے مواقع کو بڑی نیکی بنانے کے پانچ عملی طریقے (Practical Strategies)
اپنی روزمرہ زندگی کو نیکیوں کا گلدستہ بنانے اور روحانیت کے حصول کے لیے ان پانچ طریقوں پر عمل کریں:
الف) نیت کا انمول نسخہ (Multiplication of Intentions):
کسی بھی عام دنیاوی عمل سے پہلے نیت کو خالص کر لیں۔ مثلاً، گھر والوں کے لیے حلال کمانا، مسکرا کر ملنا، یا کسی کی بات کو غور سے سننا؛ یہ سب محض نیت بدلنے سے بڑی عبادت بن جاتے ہیں۔
ب) راستے کے حقوق کی پاسداری:
چلتے پھرتے راستے سے پتھر، کچرا یا تکلیف دہ چیز ہٹا دینا، کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ بتا دینا، یا ٹریفک میں کسی کو راستہ دے دینا؛ یہ وہ گمنام نیکیاں ہیں جو رب کو بہت پسند ہیں۔
ج) زبان کا صدقہ (ذکرِ خفی و جلی):
فارغ اوقات میں، گاڑی چلاتے، یا پیدل چلتے ہوئے زبان کو سبحان اللہ، الحمدللہ اور استغفار سے تر رکھیں۔ یہ چند سیکنڈز کا عمل ترازو کو نیکیوں سے بھر دیتا ہے۔
د) حسنِ اخلاق اور خیر سگالی کا چھوٹے پیمانے پر آغاز:
اپنے ماتحتوں، ملازموں یا گھر کے افراد کو پانی کا گلاس پیش کر دینا، ان کے کام میں ہاتھ بٹا دینا، یا کسی دکاندار سے نرمی سے بات کرنا؛ یہ اعمال باطنی روحانیت کو جلا دیتے ہیں۔
ہ) کسی کے دل میں خوشی داخل کرنا (ادخالِ سرور):
کسی پریشان حال بھائی کو حوصلہ دینا، کسی کی چھوٹی سی مدد کر دینا، یا کسی کی غیبت ہو رہی ہو تو وہاں اس کا دفاع کرنا؛ یہ عرشِ الٰہی پر مقبول ہونے والے اعمال ہیں۔
6۔ چھوٹے مواقع کا حقیقی روحانی معیار کیا ہے؟
روزمرہ زندگی میں ان مواقع کو پہچاننے کا سچا معیار یہ ہے کہ:
جب آپ کا نفس کسی غریب یا کمزور شخص کو دیکھ کر تکبر کرنے لگے، تو آپ آگے بڑھ کر خود اسے سلام کریں اور اس کا حال پوچھیں۔
جب گھر یا دفتر میں کوئی آپ کو غصہ دلائے، تو آپ بدلہ لینے کی طاقت کے باوجود صرف اللہ کے لیے خاموشی اختیار کر لیں اور غصہ پی جائیں۔
جب واٹس ایپ یا سوشل میڈیا پر کوئی اچھی اور اصلاحی بات سامنے آئے، تو اسے لایعنی سمجھ کر چھوڑنے کے بجائے اس نیت سے آگے شیئر کریں کہ شاید کسی ایک کا بھلا ہو جائے۔
7۔ ان گمنام نیکیوں کے انمول روحانی ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو بندہ روزمرہ کے چھوٹے مواقع کی قدر کرتا ہے، اسے یہ لازوال باطنی انعامات ملتے ہیں:
نفس کی عاجزی اور انکساری: چھوٹے اور گمنام اعمال انسان کے اندر سے تکبر، خود پسندی اور ریاکاری کا جڑ سے خاتمہ کر دیتے ہیں۔
محبتِ الٰہی کا حصول: جب بندہ رب کی رضا کے لیے ہر چھوٹی چیز کا خیال رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف فرما کر اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔
نامۂ اعمال کی مسلسل کشادگی: اس حفاظتی نظام کی بدولت بندے کا کوئی بھی دن نیکی سے خالی نہیں جاتا، اور اس کا باطن ہر وقت نورِ الٰہی سے لادیر رہتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ نیکی کا کوئی بھی موقع حقیر نہیں ہوتا، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ رب العزت کو ہمارا کون سا چھوٹا سا عمل پسند آ جائے اور وہی ہماری بخشش کا بہانہ بن جائے۔ بڑی نیکیاں کرنے کے مواقع زندگی میں کبھی کبھار آتے ہیں، لیکن یہ چھوٹے مواقع ہر روز، ہر گھنٹے ہمارے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ دانشور مؤمن وہی ہے جو بڑے مواقع کے انتظار میں ان چھوٹے، نقد اور انمول ہیروں کو ضائع نہیں کرتا۔ آئیے آج ہی سے اپنے رویوں کو بدلیں، اپنے اردگرد نیکی کے مواقع تلاش کریں اور اپنے نامۂ اعمال کو ان چھوٹے مگر وزنی اعمال سے بھر دیں، کیونکہ یہی حقیقی روحانیت اور باطنی ارتقا کا راستہ ہے۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے اللہ! میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کروں، تیرا شکر ادا کروں اور بہترین طریقے سے تیری عبادت (اور نیکی کے مواقع کی قدر) کروں۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
چھوٹی نیکیوں کی بڑی اہمیت کا یہ پیغام غافل دلوں کو بیدار کر سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
