چھوٹی خوشیوں پر شکر ادا کرنا: باطنی سکون، قناعت کا نور اور الٰہی برکات | قسط 210 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Discover the spiritual power of finding joy in small blessings and practicing daily micro-gratitude (Shukr) for inner peace and divine contentment by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

7/29/20261 min read

چھوٹی خوشیوں پر شکر ادا کرنا: باطنی سکون، قناعت کا نور اور الٰہی برکات

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 210)

1۔ تمہید (Introduction)

انسانی زندگی کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ ہر لمحہ ان گنت الٰہی نعمتوں اور پرمسرت لمحوں سے گھری ہوئی ہے۔ صبح کی بیداری کے ساتھ تازہ ہوا کا ایک سانس، پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی کا ایک گھونٹ، جسم کے تمام اعضاء کی درست کارکردگی، اہلِ خانہ کی مسکراہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ اور امن و سلامتی سے گزرنے والا ایک عام دن—یہ سب وہ عظیم اور انمول نعمتیں ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی اور عام سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ عصرِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ انسان بڑی بڑی مادی کامیابیوں، عالیشان گھروں، گاڑیوں اور بینک بیلنس کے حصول کے نشے میں اس قدر محو ہو چکا ہے کہ وہ اپنے اردگرد بکھری ہوئی روزمرہ کی چھوٹی خوشیوں کو محسوس کرنے اور ان پر شکر ادا کرنے کی حس سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔

اسلامی روحانیت اور قرآنی تعلیمات کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ انسان ہر حال میں اپنے رب کا شکر گزار بنے اور چھوٹی سے چھوٹی نعمت کو بھی اللہ کا انعام جان کر قدردانی کرے۔ جب دل میں قناعت اور شکر کا چشمہ پھوٹتا ہے تو ایک عام سا لمحہ بھی غیر معمولی روحانی مسرت اور اطمینان میں بدل جاتا ہے۔ دوسری طرف شکر گزاری کی کمی انسان کو ناشکری، احساسِ محرومی، اینگزائٹی اور حرص کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں چھوٹی خوشیوں اور روزمرہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی روحانی حقیقت کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنی مبارک زندگی میں روزمرہ کے چھوٹے احسانات پر شکر گزاری کا کیا عملی نمونہ دکھایا؟ اور ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مائیکرو گریٹیٹیوڈ (Micro-Gratitude) کی عادت کیسے اپنا سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، روحانی اور عملی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے انسان کو اس کے باطن اور کائنات میں پھیلی ان گنت نعمتوں کی طرف متوجہ کر کے شکر گزاری کا حکم دیا ہے:

وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ  (سورۃ النحل: 18)

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکو گے، بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ   (سورۃ ابراہیم: 7)

اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں ضرور مزید نوازوں گا، اور اگر تم نے ناشکری کی تو بیشک میرا عذاب بہت سخت ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات نے واضح کیا ہے کہ روزمرہ کی بنیادی نعمتیں مل جانا دراصل پوری کائنات مل جانے کے برابر ہے:

• بنیادی روزمرہ نعمتوں کو پوری دنیا کی دولت قرار دینا

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا بِحَذَافِيرِهَا"   (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2346 / سنن ابن ماجہ)

حضرت عبید اللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان و مال کے اعتبار سے پُرامن ہو، اس کا جسم تندرست ہو، اور اس کے پاس صرف ایک دن کی خوراک موجود ہو، تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ کر جمع کر دی گئی ہے۔

• کھانے پینے کے ایک لقمے اور گھونٹ پر شکر کی فضیلت

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا"   (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2734)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے اس عمل سے راضی اور خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے تو اس پر اللہ کا شکر (الحمد للہ) ادا کرے، یا پانی کا ایک گھونٹ پئے تو اس پر اللہ کی حمد و شکر بجا لائے۔

4۔ شکر گزار باطن اور ناشکرے ذہن کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

چھوٹی خوشیوں پر شکر ادا کرنے والے متقی انسان اور ہمیشہ ناشکری کے شکوے کرنے والے کے درمیان یہ نمایاں فرق ہے:

1۔ زندگی کی نعمتوں پر نگاہ کا زاویہ:

شکر گزار باطن: جو کچھ موجود ہے (صحت، کھانا، چھت، سانس) اس پر دل سے ممنون ہونا۔

ناشکر ذہن: جو میسر نہیں صرف اس کی حسرت میں جلنا اور موجود نعمتوں کو بے وقعت سمجھنا۔

2۔ قلبی طمأنینت اور نفسیاتی حالت:

شکر گزار باطن: قناعت، باطنی مسرت، چہرے پر بشاشت اور سکونِ قلب۔

ناشکر ذہن: مستقل اینگزائٹی، حسد، ڈپریشن اور محرومی کا احساس۔

3۔ دوسروں کے ساتھ تعلق اور برتاؤ:

شکر گزار باطن: دوسروں کے چھوٹے احسانات کی قدر، خندہ پیشانی اور محبت کی تقسیم۔

ناشکر ذہن: ہر کسی سے شکوہ، ہر بات میں تنقید اور احسان فراموشی۔

4۔ رب العزت سے تعلق:

شکر گزار باطن: ہر لقمے اور راحت پر "الحمد للہ" کہہ کر قربِ الٰہی کا حصول۔

ناشکر ذہن: ہمیشہ قسمت اور حالات کا رونا رو کر اللہ کے فیصلوں پر ناگواری کا اظہار۔

5۔ چھوٹی خوشیوں کو محسوس کرنے اور شکر کی عادت بنانے کے 5 عملی اصول (Strategies)

اپنے اندر روزمرہ کی چھوٹی خوشیوں پر شکر ادا کرنے کی روحانی حس بیدار کرنے کے لیے ان پانچ عملی طریقوں کو اختیار کریں:

الف) "شکر گزاری کی فہرست" (Daily Gratitude Journal): روزانہ رات کو سونے سے پہلے کم از کم ایسی تین چھوٹی باتوں کو یاد کر کے اللہ کا شکر ادا کریں جو اس دن آپ کے ساتھ اچھی ہوئیں (جیسے گرم کھانا، کسی کی خیر خیریت، پرسکون نیند)۔

ب) کھانے پینے اور جاگنے کی مسنون دعاؤں کا التزام: پانی پینے، کھانا کھانے، لباس پہننے اور نیند سے بیدار ہونے پر مسنون دعائیں خشوع اور معنی پر غور کرتے ہوئے پڑھیں تاکہ دل بیدار ہو۔

ج) نیچے والوں پر نظر رکھنے کا نبوی فارمولا: دنیاوی مال و دولت کے معاملے میں ہمیشہ اپنے سے نچلے طبقے کے غریبوں اور مریضوں کو دیکھیں تاکہ آپ کو اپنی نعمتوں کی قدر ہو۔

د) مائیکرو مومنٹس (Micro-Moments) کا احساس: راستے میں کسی بچے کی مسکراہٹ، کسی پودے کی تازگی، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے پر رک کر ایک سیکنڈ دل ہی دل میں رب کی حمد بیان کریں۔

ہ) انسانوں کا شکریہ ادا کرنا: جو انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتا؛ گھر والوں، ملازمین اور دوستوں کے چھوٹے چھوٹے تعاون پر دل سے "جزاک اللہ خیراً" کہیں۔

6۔ سچی شکر گزاری کا روحانی معائری پیمانہ

عملی زندگی میں شکر گزاری کی سچی کیفیت کا حقیقی معیار یہ ہے کہ:

• انسان کے دل سے ہر قسم کا لالچ اور حسد رخصت ہو جائے اور وہ جو کچھ میسر ہے اس پر راضی رہے۔

• زبان پر ہر تنگی اور آسانی میں شکوے کے بجائے "الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ" جاری ہو۔

• اللہ کی دی ہوئی نعمتوں اور طاقت کو اس کی نافرمانی میں استعمال کرنے سے مکمل پرہیز کیا جائے۔

7۔ چھوٹی خوشیوں پر شکر کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان چھوٹی خوشیوں پر شکر ادا کرنے کو اپنی باطنی عادت بنا لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم برکات عطا فرماتا ہے:

• غیر مشروط باطنی مسرت اور انشراحِ صدر: ایسا انسان مادی اشیاء کا غلام نہیں بنتا بلکہ ہر حال میں بادشاہوں جیسا سکون پاتا ہے۔

• نعمتوں میں مسلسل اضافہ اور برکت: اللہ کے قرآنی وعدے کے مطابق شکر گزاری سے رزق، صحت اور راحتوں میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔

• رضائے الٰہی اور مغفرت: اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہو کر اسے دنیا میں عزت اور آخرت میں شاکرین کا اعلیٰ مقام عطا فرماتا ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ حقیقی خوشی اور روحانی سکون کا تعلق بینک بیلنس کی زیادتی یا بڑے محلات سے نہیں ہے، بلکہ اس کا سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کا دل موجود نعمتوں کو کس طرح دیکھتا اور ان پر اپنے رب کا شکر کیسے ادا کرتا ہے۔ زندگی کا ہر ایک لمحہ، ہر سانس اور ہر راحت اللہ تعالیٰ کا ایک خاص عطیہ ہے۔ جو انسان چھوٹی خوشیوں پر شکر ادا کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ دنیا کا سب سے امیر اور پرسکون انسان بن جاتا ہے۔ شکر گزاری دراصل دل کی بینائی اور روح کی غذا ہے۔ آئیے! ہم شکوہ و شکایت کا انداز ترک کر کے ہر چھوٹے بڑے لمحے پر اپنے کریم رب کا شکر ادا کرنے والے بنیں تاکہ ہماری زندگیاں نور اور برکت سے معمور ہو جائیں۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي شَكُورًا، وَاجْعَلْنِي صَبُورًا، وَاجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا، وَارْزُقْنَا قَلْبًا شَاكِرًا وَلِسَانًا ذَاكِرًا۔

اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔ اے اللہ! مجھے بکثرت شکر کرنے والا بنا، اور مجھے بہترین صبر کرنے والا بنا، اور مجھے میری اپنی نظر میں عاجز و چھوٹا بنا اور لوگوں کی نظروں میں باوقار بنا، اور ہمیں شکر گزار دل اور ذکر کرنے والی زبان عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

چھوٹی خوشیوں پر شکر اور باطنی قناعت کا یہ پیغام کسی مایوس اور بے سکون انسان کے دل میں شکر گزاری اور حقیقی خوشی کا چراغ جلا سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.