باطنی سکون کی تلاش اور نفس کا اضطراب: شرعی محاکمہ | سلسلہ نفس قسط 171 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Discover the spiritual causes of inner anxiety and the ultimate path to peace of mind (Qalb-e-Saleem) through Quran and Sunnah by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

6/20/20261 min read

باطنی اطمینان: اضطرابِ نفس کا شرعی محاکمہ اور قلبِ سلیم کی تلاش

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: نفس (قسط نمبر: 171)

1۔ تمہید (Introduction)

عصرِ حاضر کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ انسان نے اپنے باہر کی دنیا کو تو مادی آسائشوں، ٹیکنالوجی کی جدت اور سائنسی ترقی سے پوری طرح سجا لیا ہے، مگر اس کے اندر کی دنیا ویران، تاریک اور شدید اضطراب کا شکار ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، بینک بیلنس، اور پرتعیش زندگی کے اسباب موجود ہونے کے باوجود آج کا انسان راتوں کی نیند اور دل کے سکون سے محروم ہے۔ وہ اس باطنی خلا اور اینگزائٹی (Anxiety) کو مٹانے کے لیے دنیاوی لذتوں، تفریحات اور مادی محفلوں کا سہارا لیتا ہے، مگر یہ سب عارضی تسکین تو فراہم کرتے ہیں، روح کی پیاس نہیں بجھا پاتے۔

حقیقت یہ ہے کہ باطنی سکون کا تعلق جسم کی مادی ضرورتوں سے نہیں، بلکہ روح کی تسکین سے ہے۔ جب تک انسان اپنے باطن کے اضطراب کو نہیں سمجھتا اور اس کا رخ اپنے خالق کی طرف نہیں موڑتا، وہ دنیا کے کسی کونے میں بھی حقیقی اطمینان نہیں پا سکتا۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم نفس کے اسی باطنی اضطراب اور قلبِ سلیم کی تلاش کا شرعی و نفسیاتی محاکمہ کریں گے۔

2۔ الٰہی میزان اور قرآنی حقائق (The Qur'anic Reality)

قرآنِ حکیم نے دلوں کے سکون، نفس کے اطمینان اور باطنی بے چینی کے اسباب کو نہایت گہرے نظریاتی اسلوب میں واضح فرمایا ہے:

الف) دلوں کے حقیقی سکون کا واحد مرکز

الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (سورۃ الرعد: 28)

جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں، سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

یہ کائنات کا آفاقی سچ ہے کہ انسانی قلب کی ساخت ہی ایسی بنائی گئی ہے جو اپنے خالق کی یاد کے بغیر پرسکون ہو ہی نہیں سکتی۔

ب) الٰہی غفلت کا باطنی و معاشی انجام

وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ (سورۃ طٰہٰ: 124)

اور جس نے میری یاد (اور احکام) سے منہ موڑا، تو یقیناً اس کے لیے دنیا کی زندگی بہت تنگ (اور بے سکون) ہوگی، اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ باطنی اضطراب اور اندرونی تنگی دراصل اللہ سے دوری کی ایک دنیاوی سزا ہے۔

ج) نفسِ مطمئنہ کے لیے ابدی بشارت

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (سورۃ الفجر: 27-28)

اے اطمینان پانے والے نفس! تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو۔

کامیابی کا آخری معیار یہ ہے کہ انسان کا باطن دنیاوی فتنوں کے درمیان بھی الٰہی رضا پر پرسکون رہے۔

3۔ ارشاداتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں باطنی غنا (Prophetic Insights)

احادیثِ مبارکہ میں رسولِ اکرم ﷺ نے انسان کو مادی سرمائے کے بجائے باطنی سرمائے یعنی دل کے سکون اور غنا کی طرف متوجہ فرمایا ہے:

الف) حقیقی امیری کا اسلامی معیار

لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6446)

مال و اسباب کی کثرت کا نام امیری (اور خوشحالی) نہیں ہے، بلکہ حقیقی امیری تو نفس کا غنی (اور پرسکون) ہونا ہے۔

اگر دل کے اندر قناعت اور سکون نہیں، تو دنیا بھر کے خزانے بھی انسان کے باطنی فقر کو دور نہیں کر سکتے۔

ب) دنیاوی حرص اور باطنی پراپوگینڈا

مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ جَعَلَ اللَّهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَفَرَّقَ عَلَيْهِ شَمْلَهُ (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2465، علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے)

جس شخص کا (سب سے بڑا) مقصد صرف دنیا بن جائے، اللہ تعالیٰ اس کا فقر (محتاجی) اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اس کے معاملات کو منتشر (بے سکون) کر دیتا ہے۔

دنیا کی اندھی دوڑ انسان کے اندرونی سکون کو شیرازۂ مفلوج کر دیتی ہے۔

4۔ باطنی اضطراب کے 4 بڑے باطنی اسباب

اگر ہم انسانی باطن میں لگی اس بے چینی کی آگ کا تجزیہ کریں، تو درج ذیل چار بڑے باطنی فتنے نظر آتے ہیں:

1. حسد اور موازنہ (The Toxic Comparison): دوسروں کی نعمتوں، گاڑی، گھر یا سٹیٹس کو دیکھ کر کڑھتے رہنا۔ یہ فتنہ انسان کے اندر موجود شکر گزاری کے جذبے کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے اور باطن کو مستقل جہنم بنا دیتا ہے۔

2. کثرتِ گناہ کی وجہ سے دل کا زنگ (Heart's Corrosion): جب انسان مسلسل گناہوں، جھوٹ اور اخلاقی پستی کا شکار ہوتا ہے، تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے۔ یہ زنگ روح کی لطافت کو ختم کر کے اسے مستقل بے چین رکھتا ہے۔

3. مستقبل کا خوف اور ماضی کا پچھتاوا: شیطان انسان کو ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے اندیشوں میں الجھا کر "حال کے لمحے" سے غافل کر دیتا ہے، جس سے توکل کا خاتمہ ہوتا ہے اور اینگزائٹی جنم لیتی ہے۔

4. خواہشاتِ نفس کی لامتناہی غلامی: نفس کا یہ خاصہ ہے کہ اسے ایک وادی ملے تو وہ دوسری کی تمنا کرتا ہے۔ خواہشات کے پیچھے اندھا دھند بھاگنا دل کو کبھی ٹکنے اور پرسکون ہونے نہیں دیتا۔

5۔ باطنی سکون کی بحالی کا عملی و شرعی علاج (The Spiritual Therapy)

اپنے اندر کی دنیا کو پرسکون اور دل کو مطمئن کرنے کے لیے ان چار بنیادی باطنی اصولوں کو اپنائیں:

اول: تفکر اور ذکرِ قلبی کا روزانہ اہتمام

صرف زبان سے نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے اللہ کی عظمت کا اعتراف کریں۔ دن میں کم از کم 15 منٹ دنیا کے تمام سکرینوں (موبائل، لیپ ٹاپ) کو بند کر کے تنہائی میں بیٹھیں اور اپنے خالق سے محوِ گفتگو ہوں (نماز اور دعا کے ذریعے)۔ یہ باطنی مراقبہ روح کو سکون دیتا ہے۔

دوم: قناعت اور راضی برضا رہنے کی مشق

رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر عمل کریں کہ دنیاوی معاملات میں ہمیشہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھیں تاکہ آپ کے اندر اللہ کی نعمتوں کی قدر پیدا ہو اور شکوے کا دروازہ بند ہو۔ جو ملا ہے اس پر "الحمد للہ" کہنا باطنی سکون کی کنجی ہے۔

سوم: استغفار کے ذریعے باطنی بوجھ کی صفائی

سید الانبیاء ﷺ دن میں ستر سے سو مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔ استغفار دراصل روح کا واشنگ پاؤڈر ہے۔ جب گناہوں کا بوجھ توبہ کے آنسوؤں سے دھل جاتا ہے، تو دل ہلکا اور پرسکون ہو جاتا ہے۔

6۔ اختتامیہ (Conclusion)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ باطنی سکون مارکیٹ سے خریدی جانے والی کوئی مادی جنس نہیں ہے، اور نہ ہی یہ عارضی تفریحات کے پیالوں میں چھپا ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ایک خاص نور ہے جو وہ اپنے ان بندوں کے دلوں میں اتارتا ہے جو اس کی رضا کے سامنے اپنے نفس کو جھکا دیتے ہیں۔

جب تک آپ اپنے باطن کے چور (نفسِ امارہ) کو لگام نہیں دیں گے اور اپنے دل کا تعلق عرش والے سے قائم نہیں کریں گے، دنیا کی کوئی مادی آسائش آپ کو مطمئن نہیں کر سکتی۔ آئیے! آج ہی سے اپنے باہر کی مصنوعی چمک دمک سے نظریں ہٹا کر اپنے اندر کے اندھیروں کو ذکرِ الٰہی، توکل اور قناعت کے نور سے روشن کرنے کا مخلصانہ عزم کریں۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ نَفْسِي مُطْمَئِنَّةً بِقَضَائِكَ

(دعائیہ کلمات)

"اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری آنکھوں میں نور اور میرے کانوں میں نور فرما دے، اور میرے نفس کو اپنے فیصلے پر مطمئن اور پرسکون کر دے۔ آمین یا رب العالمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

تزکیۂ نفس اور فکری اصلاح کے اس پیغام کو شیئر کر کے انسانیت کی رہنمائی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.