ایامِ تشریق میں ذکر کی روح | قسط 150 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Discover the spiritual importance of Dhikr and gratitude during the Days of Tashreeq (11, 12, 13 Dhul Hijjah) in Islam based on Quran and Hadith."

Dr. Wajid Irshad

5/30/20261 min read

ایامِ تشریق میں ذکر کی روح

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ: روحانیت( قسط نمبر: 150)

1۔ تمہید (Introduction)

عید الاضحیٰ کی گہما گہمی اور قربانی کے مبارک فریضے کی ادائیگی کے بعد آنے والے تین دن، یعنی 11، 12 اور 13 ذوالحجہ، اسلامی کیلنڈر میں "ایامِ تشریق" کے نام سے جانے جاتے ہیں اور یہ خصوصی فضیلت و برکت کے حامل ہیں۔ دینِ اسلام کی خوبصورتی دیکھیے کہ یہ ایام جہاں کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مادی و جسمانی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے دن ہیں، وہاں اپنی اصل روح کے اعتبار سے یہ کثرتِ ذکر اور شکر گزاری کے ایام بھی ہیں۔

افسوس کا مقام ہے کہ عام طور پر بہت سے مسلمان ان مبارک دنوں کی اصل روح اور ان کی اصل روحانی فضیلت سے بالکل ناواقف رہتے ہیں۔ عید کی گہما گہمی گزرتے ہی لوگ اسے محض عام تعطیلات یا گوشت کھانے کے دن سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ ایام بندے کے مرجھائے ہوئے دل کو اللہ تعالیٰ کی دائمی یاد سے دوبارہ آباد کرنے، نفسانی غفلت کو دور کرنے اور روحانی زندگی کو نئی تازگی و توانائی بخشنے کا ایک نادر اور بہترین موقع ہوتے ہیں۔

2۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں (Quranic Guidance)

قرآنِ مجید کی متعدد آیاتِ مبارکہ میں ان مخصوص دنوں کا تذکرہ کر کے ایمان والوں کو غفلت کے پردے چاک کرنے اور ذکرِ الٰہی سے دلوں کو منور کرنے کا حکم دیا گیا ہے:

وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ (سورۃ البقرہ: 203)

"اور گنے ہوئے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو۔"

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سمیت جمہور مفسرینِ کرام نے اس آیت میں مذکور "أيام معدودات" (گنے ہوئے دن) سے مراد ایامِ تشریق ہی لیے ہیں۔ یہ ربانی حکم واضح کرتا ہے کہ ان تین دنوں میں ذکرِ الٰہی کی اہمیت عام دنوں سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (سورۃ البقرہ: 152)

"پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔"

ایامِ تشریق میں جب انسان لذیذ کھانوں اور گوشت کی صورت میں اللہ کا رزق استعمال کرتا ہے، تو اس پر واجب ہو جاتا ہے کہ وہ کفرِ نعمت یا غفلت کے بجائے زبان اور دل سے رب کا شکر ادا کرے۔ بندے کا یاد کرنا ادنیٰ عمل ہے، جبکہ مالک کا بندے کو یاد کرنا کائنات کا سب سے بڑا انعام ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (سورۃ الأحزاب: 41)

"اے ایمان والو! اللہ کا کثرت سے ذکر کرو۔"

ذکر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، اور خاص طور پر فضیلت والے زمانوں اور دنوں میں ذکر کی کثرت ہی مؤمن کا اصل سرمایہ ہوتی ہے جو اسے منافقین کی صفت (قلیل ذکر) سے دور کرتی ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں (Hadith and Sayings)

احادیثِ مبارکہ میں ایامِ تشریق کا پورا فلسفہ اور بندگی کا وہ توازن سکھایا گیا ہے جو مادی ضروریات اور روحانی بالیدگی کا احاطہ کرتا ہے:

• کھانے پینے اور ذکر کا خوبصورت توازن

أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1141)

"ایامِ تشریق کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔"

یہ حدیثِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ اسلام رہبانیت (دنیا چھوڑنے) کا نام نہیں ہے۔ ان دنوں میں اللہ کی نعمتوں سے پیٹ بھی بھریں، جائز خوشی بھی منائیں، مگر شرط یہ ہے کہ جسم کو طاقت دینے والا یہ کھانا خالق کی یاد سے غافل نہ کر دے، بلکہ زبان پر شکر اور تکبیرات جاری رہیں۔

• ان دنوں کا سب سے محبوب وظیفہ

مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ، فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ (مسند احمد، رقم الحدیث: 5446، حسن)

"اللہ کے نزدیک ان (ذوالحجہ کے) دنوں سے بڑھ کر کوئی دن عظیم نہیں اور نہ ہی کسی دن کا عمل اس کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہے۔ پس ان دنوں میں تہلیل (لا إله إلا الله)، تکبیر (الله أكبر) اور تحمید (الحمد لله) کی کثرت کیا کرو۔"

رسول اللہ ﷺ کا یہ تاکیدی حکم ہمیں ان دنوں کا پکا شیڈول فراہم کرتا ہے کہ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ہماری زبانیں ان کلمات سے تر رہنی چاہئیں۔

• کثرتِ ذکر کرنے والوں کی سبقت

سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ، قَالُوا: وَمَا الْمُفَرِّدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2676)

"مفردون سبقت لے گئے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مفردون کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی عورتیں۔"

دنیا کی اس مختصر زندگی کی دوڑ میں اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں کامیاب اور آگے نکل جانے والا ہے، تو وہ وہ ہے جس کا دل اور زبان ہر لمحہ رب کی یاد سے آباد ہے۔

4۔ ایامِ تشریق کی حقیقی روح کیا ہے؟ (The True Essence)

ایامِ تشریق کا اصل اور گہرا پیغام یہ ہے کہ انسان دنیا کی مادی لذتوں (اچھے کھانے، لباس اور تفریح) میں گم ہو کر اپنے اصل محسن اور خالق کو فراموش نہ کر دے۔ یہ دن ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتے ہیں:

"قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کر کے گوشت کے فریزر بھرنا یا دعوتیں اڑانا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل حاصل یہ ہے کہ جس طرح جانور ذبح کر کے اس کا خون بہایا گیا، اسی طرح انسان اپنے دل کے اندر موجود غفلت، انا اور دنیا پرستی کو ذبح کر کے اپنے دل کو اللہ کے قریب تر کر لے اور ہر لقمے پر شکر گزار بنے۔"

ان مبارک دنوں میں مسنون اذکار (Recommended Dhikr)

ان دنوں میں کسی بھی وقت، خصوصاً فرض نمازوں کے بعد درج ذیل اذکار کی کثرت کرنی چاہیے:

  • تکبیرِ تشریق:٭اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْد٭ (9 ذوالحجہ کی فجر سے 13 ذوالحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے کہنا مردوں پر واجب اور عورتوں پر آہستہ کہنا مشروع ہے)۔

  • تسپیح و تحمید: سبحان اللہ اور الحمد للہ کی کثرت۔

  • تہلیل و استغفار: ٭لا إله إلا اللہ٭ کا ورد، کثرت سے توبہ اور نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کا نذرانہ۔

5۔ ذکرِ الٰہی کے روحانی و نفسیاتی فوائد (Spiritual Benefits)

جدید دور کے انسان کو، جو ذہنی تناؤ اور بے سکونی کا شکار ہے، ذکرِ الٰہی درج ذیل انمول فوائد فراہم کرتا ہے:

1. دل کا حقیقی سکون: قرآن کے مطابق دلوں کا سکون صرف اللہ کی یاد میں ہے، ذکر سے دباؤ اور بے چینی ختم ہوتی ہے۔

2. ایمان کی تجدید: جس طرح لوہے کو زنگ لگتا ہے، دلوں کو بھی غفلت کا زنگ لگتا ہے جسے ذکر کا نور صاف کر کے ایمان تازہ کر دیتا ہے۔

3. شیطانی وسوسوں سے قلعہ: عید کے دنوں میں انسان جب کھانے پینے میں مست ہوتا ہے تو شیطان حملے کرتا ہے۔ ذکرِ الٰہی انسان کے گرد ایک حفاظتی ڈھال بنا دیتا ہے۔

4. محبتِ الٰہی کا حصول: انسان جس کا کثرت سے ذکر کرتا ہے، اس کی محبت دل میں راسخ ہو جاتی ہے۔ کثرتِ ذکر سے رب کی سچی محبت ملتی ہے۔

5. آخرت کی فکر کا بیدار ہونا: ذکر کرنے والا انسان کبھی یہ نہیں بھولتا کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اسے ایک دن اپنے مالک کے سامنے پیش ہونا ہے۔

6۔ ایامِ تشریق کا عملی منصوبہ (Practical Action Plan)

ان دنوں کو غفلت کی نذر ہونے سے بچانے کے لیے ہمیں درج ذیل چار عملی کام لازمی کرنے چاہئیں:

  • تکبیرات کا سخت اہتمام: ہر فرض نماز کے فوراً بعد خود بھی بلند آواز سے تکبیرِ تشریق پڑھیں اور گھر والوں کو بھی یاد دلائیں۔

  • گھر کے ماحول کی تبدیلی: گھروں میں ٹی وی، گانے بجانے یا لایعنی گپ شپ کے بجائے ماحول کو تسبیح و استغفار سے معطر بنائیں۔

  • بچوں کی تربیت: عید کے ان دنوں میں اپنے بچوں کو تکبیراتِ تشریق زبانی سکھائیں اور انہیں بتائیں کہ ہم یہ کیوں پڑھ رہے ہیں۔

  • فارغ اوقات کا درست استعمال: کچن میں کام کرتے ہوئے، گوشت تقسیم کرتے ہوئے یا سفر کے دوران زبان کو بند رکھنے کے بجائے سبحان اللہ وبحمدہ یا درود شریف کا ورد جاری رکھیں۔

7۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ایامِ تشریق دراصل ذکر، شکر، عاجزی اور قربِ الٰہی کے سنہری دن ہیں۔ جو شخص ان دنوں کو غفلت اور محض دنیاوی لذتوں میں ضائع کرنے کے بجائے اللہ کی یاد میں گزارتا ہے، وہ نہ صرف اندرونی و روحانی سکون حاصل کرتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں اور مغفرت کا بھی مستحق بن جاتا ہے۔ آئیے عزم کریں کہ ہم ان مبارک دنوں کی قدر کریں گے اور ذکرِ الٰہی کے نور سے اپنے دلوں اور اپنی زندگیوں کو منور کر کے سچے مؤمن ہونے کا ثبوت دیں گے۔

دعا (Supplication)

اللّٰهُمَّ اجْعَلْ أَلْسِنَتَنَا رَطْبَةً بِذِكْرِكَ، وَقُلُوبَنَا مُتَعَلِّقَةً بِطَاعَتِكَ، وَارْزُقْنَا شُكْرَ نِعَمِكَ وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ

"اے اللہ! ہماری زبانوں کو اپنے ذکر سے تر، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت سے وابستہ، اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور بہترین عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات کو آگے پہنچانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں اور اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.