عید کی تیاری: شکر، سادگی اور سنت کی پیروی

This article highlights the true spirit of preparing for Eid after Ramadan, emphasizing gratitude, simplicity, and adherence to the Sunnah. It explains how Eid is not merely a cultural celebration but a day of thankfulness for the blessings of worship, spiritual growth, and divine guidance. The article provides Quranic insights, authentic Hadith references, scholarly analysis, and practical steps to help Muslims celebrate Eid in a balanced and meaningful way while avoiding extravagance and un-Islamic customs. A valuable read for anyone seeking to observe Eid in a spiritually fulfilling manner.

Dr. Wajid Irshad

3/17/20261 min read

عید کی تیاری: شکر، سادگی اور سنت کی پیروی

ڈاکٹر واجد ارشاد

قسط نمبر: 75

تمہید

رمضان المبارک اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ اختتام کی طرف بڑھتا ہے تو مسلمانوں کے دل عیدالفطر کی خوشیوں کی طرف متوجہ ہونے لگتے ہیں۔ عید دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے رمضان کی عبادات پر انعام کا دن ہے۔ یہ محض ظاہری خوشی، لباس اور کھانے پینے کا نام نہیں بلکہ شکرگزاری، سادگی اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق مسرت منانے کا دن ہے۔ اگر عید کی تیاری میں اسلامی تعلیمات کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ خوشی عبادت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور انسان دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرتا ہے۔

قرآن کی روشنی میں

وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (البقرة 185)

تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔

قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا (يونس 58)

آپ کہہ دیجیے کہ لوگ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشی منائیں، یہی سب سے بہتر ہے۔

حدیث کی روشنی میں

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال قدم رسول الله ﷺ المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما فقال قد أبدلكم الله بهما خيرًا منهما يوم الأضحى ويوم الفطر (سنن أبي داود 1134)

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ دو دن کھیل کود میں گزارتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے تمہیں ان کے بدلے دو بہتر دن عطا فرمائے ہیں، عیدالاضحی اور عیدالفطر۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله ﷺ كان يلبس أحسن ثيابه في العيدين (السنن الكبرى للبيهقي 6143)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کے موقع پر اپنے بہترین کپڑے زیب تن فرمایا کرتے تھے۔

فقہی آراء اور تجزیہ

فقہائے امت کے نزدیک عید کے دن خوشی منانا، اچھا لباس پہننا، خوشبو لگانا اور اہل و عیال کے ساتھ مسرت کا اظہار کرنا مستحب اور باعثِ اجر ہے، بشرطیکہ اس میں اسراف، نمود و نمائش اور غیر شرعی رسومات شامل نہ ہوں۔ شریعت عید کو سادگی اور وقار کے ساتھ منانے کی تعلیم دیتی ہے۔ موجودہ دور میں عید کا اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے اور فضول اخراجات، مقابلہ بازی اور نمود و نمائش کو ترجیح دی جاتی ہے، جو اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔ اصل عید وہ ہے جس میں اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کیا جائے اور محتاجوں کو خوشیوں میں شریک کیا جائے۔

عملی پہلو

عید کی تیاری کرتے وقت چند امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے صدقۂ فطر کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے تاکہ غرباء بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ عید کی نماز سے قبل تکبیرات کا اہتمام کیا جائے اور مسنون طریقے سے عیدگاہ جانا سنت ہے۔ نئے یا صاف ستھرے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا اور اہل خانہ کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا بھی سنت ہے۔ عید کے دن رشتہ داروں سے ملاقات، بیماروں کی عیادت اور محتاجوں کی مدد کرنا حقیقی خوشی کا ذریعہ ہے۔ اس طرح عید محض تہوار نہیں بلکہ عبادت اور سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

دعا

اللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ صِيَامَنَا وَقِيَامَنَا وَاجْعَلْ عِيدَنَا عِيدَ شُكْرٍ وَطَاعَةٍ وَاجْعَلْنَا فِيهِ مِنَ الْفَائِزِينَ

اے اللہ! ہمارے روزے اور قیام قبول فرما، ہماری عید کو شکر اور اطاعت والی عید بنا دے اور ہمیں اس دن کامیاب لوگوں میں شامل فرما۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات پھیلانا صدقۂ جاریہ ہے۔ اس تحریر کو شیئر کر کے خیر کے کاموں میں ہمارا ساتھ دیں