استقامت: سب سے بڑی کرامت

Istiqamah: The Greatest Miracle highlights that true spiritual excellence lies not in extraordinary events but in steadfastness upon faith. This scholarly yet accessible article by Dr. Wajid Irshad explains the importance of consistency in worship through Qur’anic guidance, authentic Prophetic teachings, and the insights of classical Islamic scholars. It presents practical steps for maintaining religious commitment, identifies common obstacles to steadfastness, and emphasizes that lasting devotion is the real sign of closeness to Allah. A valuable read for anyone seeking spiritual stability after Ramadan and throughout life.

Dr. Wajid Irshad

3/22/20261 min read

تمہید

روحانیت کا حقیقی حسن وقتی جذبات میں نہیں بلکہ مستقل مزاجی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کی سب سے بڑی فضیلت یہ نہیں کہ وہ غیر معمولی کرامات دکھائے بلکہ اصل کرامت یہ ہے کہ وہ دین پر ثابت قدم رہے۔امام راغب اصفہانی کے نزدیک استقامت کا مطلب "صراطِ مستقیم پر دوام اختیار کرنا ہے"۔ (المفردات فی غریب القرآن)

قرآنِ کریم کی روشنی میں

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ

(سورة هود: 112)

پس آپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ

(سورة فصلت: 30)

بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر جم گئے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

ثابت قدمی کی اہمیت:

سفیان بن عبداللہ الثقفی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتائیں کہ آپ کے بعد کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ

(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر: 38)

کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔

عمل میں تسلسل:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ

(صحیح بخاری: 6465 / صحیح مسلم: 783)

اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

اقوالِ سلف و ائمہ (بطورِ حجت)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ:

الاستقامة أعظم الكرامة

(الفرقان بین اولیاء الرحمن، ص: 120)

(سب سے بڑی کرامت استقامت کا مل جانا ہے)۔

سیدنا صدیقِ اکبرؓ سے استقامت کی تفسیر:

آپ سے جب استقامت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: "استقامت یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ (یعنی توحید پر مرتے دم تک جمے رہو)۔

(تفسیر ابن کثیر)

امام ابن القیمؒ:

استقامت کا تعلق نیت، قول اور عمل کی درستی سے ہے۔

(مدارج السالکین)

فقہی و تربیتی تجزیہ

فقہاء کے نزدیک استقامت کا مطلب فرائض کی پابندی اور حرام سے اجتناب میں ہمیشگی اختیار کرنا ہے۔

نکتہ: کرامت صوفیاء کے نزدیک "خَرْقِ عَادَت" (عادت کے خلاف کام) ہے، لیکن استقامت "نفس کی اصلاح" ہے، اور نفس کی اصلاح ہوا میں اڑنے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔

استقامت کی اہمیت

* ایمان مضبوط ہوتا ہے

* نیکی عادت بن جاتی ہے

* دل کو سکون نصیب ہوتا ہے

* گناہوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے

* اللہ کی نصرت شامل حال ہوتی ہے

استقامت میں رکاوٹیں

* نفس کی کمزوری

* شیطانی وسوسے

* دنیاوی مشاغل

* نیک صحبت سے دوری

* عبادت میں بے اعتدالی

استقامت پیدا کرنے کے عملی طریقے

تھوڑا مگر مستقل عمل

نمازوں کی پابندی

روزانہ تلاوتِ قرآن

ذکر و اذکار کا اہتمام

نیک لوگوں کی صحبت

گناہ کے بعد فوری توبہ

حصولِ استقامت کے ذرائع

علمِ نافع: دین کا صحیح علم ہی انسان کو شکوک و شبہات سے بچاتا ہے۔

محاسبہ نفس: روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا۔

صحبتِ صالحین: نیک لوگوں کی محفل استقامت کا سب سے بڑا ایندھن ہے۔

استقامت کے عملی ثمرات

خوف اور غم سے نجات: ( لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون)

خاتمہ بالخیر: جو استقامت سے جیا، وہ ایمان پر مرا۔

استجابتِ دعا: اللہ اپنے ثابت قدم بندوں کی پکار رد نہیں فرماتا۔

استقامت کا روحانی مقام

استقامت انسان کو اللہ کا محبوب بنا دیتی ہے۔ یہ دلوں میں نور، اعمال میں اخلاص اور زندگی میں برکت پیدا کرتی ہے۔ ایسے لوگ آزمائشوں میں بھی ثابت قدم رہتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق اللہ سے مضبوط ہوتا ہے۔

اختتامیہ

کرامت کا معیار شریعت کی نظر میں روحانی استقامت ہے، نہ کہ حیران کن واقعات۔ جو شخص زندگی بھر دین پر قائم رہا، وہی کامیاب ہے۔ استقامت ہی بندگی کا حسن، ولایت کی پہچان اور قربِ الٰہی کا راستہ ہے۔

دعا

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ

(سنن ترمذی: 2140)

نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے خیر کے کاموں میں ہمارا ساتھ دیں۔

استقامت: سب سے بڑی کرامت

قسط نمبر: 81

ڈاکٹر واجد ارشاد