عاشوراء: تاریخ نہیں، پیغام ہے | حق و باطل کا ابدی معرکہ | سلسلہ تاریخ و فکر قسط 165 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Explore the eternal message of Ashura beyond historical events. Learn the values of truth, sacrifice, and standing against injustice, by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

6/14/20261 min read

ابدی شعور: عاشوراء محض تاریخ نہیں، ایک آفاقی پیغام ہے

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: تاریخ و فکر (قسط نمبر: 165)

1۔ تمہید (Introduction)

جب بھی ہلالِ محرم افقِ عالم پر نمودار ہوتا ہے، تاریخِ انسانی کے ماتھے پر ایک تڑپتا ہوا اور زندہ جاوید دن ابھرتا ہے جسے ہم "یومِ عاشوراء" (دس محرم الحرام) کہتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے اس عظیم ترین دن کو محض چند تاریخی اور تقویمی روایات، ماضی کے اوراق کی ورق گردانی یا رسمی تذکروں تک محدود کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عاشوراء کوئی ایسا جامد یا مردہ واقعہ نہیں ہے جو صدیوں پہلے رونما ہو کر ماضی کے اندھیروں میں گم ہو گیا ہو، بلکہ یہ حق و باطل، عدل و ظلم اور حریت و استبداد کے معرکے کا ایک ایسا ابدی، متحرک اور آفاقی پیغام ہے جو ہر دور کے انسان کو بیدار رہنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ جب بھی معاشرتی اقدار، الٰہی حدود اور اخلاقی معیارات خطرے میں پڑ جائیں، تو ایک سچے مؤمن کا منصب کیا ہونا چاہیے اور اسے کس طرح مصلحتوں کے خول کو چاک کر کے میدانِ عمل میں آنا چاہیے۔

2۔ الٰہی ضابطے اور قرآنی سچائیاں (The Divine Laws)

قرآنِ مجید کی آیاتِ بینات واضح کرتی ہیں کہ حق کی بقا اور باطل کی مٹ جانے والی سرکشی کے بارے میں ربِ ذوالجلال کا اٹل فیصلہ کیا ہے:

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (سورۃ الاسراء: 81)

حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، اور یقیناً باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹ جانے والی ہے۔

عاشوراء کا پورا پس منظر اس بات کی گواہی ہے کہ مادی طاقت بھلے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، انجامِ کار فتح حق اور اصول کی ہی ہوتی ہے۔

وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ (سورۃ ابراہیم: 42)

اور تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ ان کاموں سے غافل ہے جو یہ ظالم لوگ سرانجام دے رہے ہیں۔

الٰہی مہلت ظالموں کی کامیابی کی دلیل نہیں، بلکہ ان کے عبرت ناک انجام کی ایک کڑی ہوتی ہے جو تاریخ کا حصہ بنتی ہے۔

كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (سورۃ البقرہ: 249)

کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی اور قلیل جماعت اللہ کے حکم سے ایک بہت بڑی اور کثیر جماعت پر غالب آ گئی، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

راہِ خدا میں تعداد اور مادی وسائل کی کثرت نہیں، بلکہ ایمانی قوت اور صبر و استقامت کا معیار فتح کا ضامن بنتا ہے۔

3۔ ارشاداتِ نبوی ﷺ اور عاشوراء کا تقدس (Prophetic Traditions)

احادیثِ مبارکہ ہمیں یومِ عاشورہ کی تاریخی عظمت، اس کے شکرانے اور حق کی بقا کے لیے اٹھنے والی آواز کے مقام سے روشناس کرتی ہیں:

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی شکست کا شکرانہ

أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2004)

(جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا تو فرمایا:) میں تم سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) کا حق دار ہوں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ یہ دن ازل سے حق کے غلبے اور ظلم کے زوال کے جشنِ تشکر کا دن ہے۔

حق بات کہنے کی فضیلت

أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 4344، علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

سب سے افضل اور اعلیٰ جہاد کسی ظالم اور جابر حکمران کے سامنے عدل، سچ اور حق کی بات برملا کہنا ہے۔

عاشوراء کا پیغام اسی نبوی اصول کی عملی تجسیم اور کائنات کی سب سے بڑی مہرِ تصدیق ہے۔

برائی کے خلاف ایمانی تقاضا

مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 49)

تم میں سے جو کوئی بھی معاشرے میں کسی برائی یا منکر کو دیکھے، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ (طاقت) سے بدل دے۔

یہ فرمان ہر مؤمن کو اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں برائی کے خلاف ڈھال بننے اور خاموش تماشائی نہ بننے کا درس دیتا ہے۔

4۔ عاشوراء کے چار فکری ابعاد (Four Dimensions of Ashura)

اگر ہم تاریخ کے خول سے نکل کر دیکھیں، تو یومِ عاشورہ ہمیں اپنی عملی زندگی کے لیے چار عظیم الشان فکری زاویے فراہم کرتا ہے:

  • نظریاتی وابستگی کا امتحان: یہ دن بتاتا ہے کہ جب سودا اصول اور مصلحت کے درمیان ہو، تو ایک سچا انسان اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے مادی نقصانات کو گلے لگا لیتا ہے۔

  • جمود اور بی حسی کا خاتمہ: عاشوراء معاشرے میں پھیلی اس باطنی بے حسی پر ضرب لگاتا ہے جہاں لوگ برائی کو دیکھ کر بھی اپنے ذاتی سکون اور عافیت کے دائرے (Comfort Zone) سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہوتے۔

  • کردار کی پاکیزگی کا درس: یہ دن ثابت کرتا ہے کہ حق کے راستے پر چلنے والوں کا باطن، ان کے ارادے، اور ان کے ذرائع اتنے ہی پاکیزہ ہونے چاہئیں جتنا کہ ان کا مقصد بلند ہوتا ہے۔

  • خوف اور جبر کے بتوں کا مسمار ہونا: جب بندے کا دل اللہ کی عظمت اور آخرت کے یقین سے بھر جائے، تو دنیا کے بڑے سے بڑے جابر کا خوف اس کے دل سے یکسر نکل جاتا ہے۔

5۔ عاشوراء کو تاریخ کے بجائے پیغام کیوں سمجھا جائے؟

تاریخ ایک گزرا ہوا واقعہ ہوتی ہے جسے پڑھ کر انسان معلومات حاصل کرتا ہے، مگر "پیغام" ایک ایسی زندہ طاقت ہے جو انسان کے حال کو بدلتی ہے اور مستقبل کی تعمیر کرتی ہے۔ اگر ہم عاشوراء کو صرف ایک تاریخی المیہ سمجھیں گے، تو ہماری وابستگی صرف چند اشکبار آنکھوں اور جذباتی مجالس تک رہے گی۔ لیکن جب ہم اسے ایک "پیغام" کے طور پر اپنائیں گے، تو ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا کہ کیا آج ہمارے سامنے جب جھوٹ، سود، ناانصافی اور بے حیائی آتی ہے، تو ہمارا رویہ حسینی ہوتا ہے یا مصلحت پسندانہ؟

6۔ پیغامِ عاشوراء کے پانچ عملی تقاضے (Practical Implementation)

اس سال یومِ عاشورہ کے پیغام کو اپنی روح میں اتارنے کے لیے ہمیں ان پانچ عملی اقدامات کا عزم کرنا ہوگا:

1. انفرادی سطح پر برائیوں سے انکار: اپنے وجود، گھر اور کاروبار سے ہر قسم کے حرام، جھوٹ اور مصلحت پسندانہ برائیوں کا فوری خاتمہ کریں۔

2. سماجی ناانصافی کے خلاف آواز: اپنے دائرے میں کمزوروں، یتیموں اور مظلوموں کا ساتھ دیں اور ظالم کے مددگار نہ بنیں۔

3. حق پر استقامت کا مظاہرہ: حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں، دین کے احکامات اور شریعت کی حدود پر مضبوطی سے جم جائیں۔

4. نفسانی مفادات کی قربانی: جہاں دین کا تقاضا آئے، وہاں اپنی انا، ضد، اور عارضی دنیاوی رینکنگ یا فائدے کو ہنس کر قربان کر دیں۔

5. شعوری و بیدار زندگی کا آغاز: ایک غافل مسافر کی طرح جینے کے بجائے معاشرے کی اخلاقی گرواٹ کو روکنے کے لیے ایک داعی کا کردار ادا کریں۔

7۔ حق پسندی کا ابدی ثمر (The Ultimate Victory)

مادی دنیا کا ترازو کامیابی کو طاقت اور کثرت سے ناپتا ہے، لیکن الٰہی ترازو کامیابی کو اصول اور کردار سے تولتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مادی طور پر مٹ جانے والے مخلص نفوس آج بھی دلوں پر راج کر رہے ہیں اور انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں، جبکہ بظاہر جیتنے والے ابد تک کے لیے ملعون ٹھہرے۔ یہ دل کا وہ اطمینان اور ایمان کا وہ کمال ہے جو صرف حق کے راستے پر چلنے والوں کا مقدر بنتا ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ عاشوراء کا دن صرف رونے، یاد کرنے یا روایتی رسومات منانے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر کے انسان کو بیدار کرنے، ضمیر کو جلا بخشنے اور وقت کے باطل کے سامنے سینہ سپر ہو جانے کا نام ہے۔ یہ دن ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ تاریخ کے اوراق میں دفن ہونے کے بجائے تاریخ ساز بنو۔ اصل کامیابی یہ نہیں ہے کہ انسان دنیا میں عافیت کی زندگی گزار کر مٹ جائے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان کا کردار ایسا ہو کہ اس کے رخصت ہونے کے بعد بھی اس کا نظریہ اور اس کا حق پسندانہ پیغام رہتی دنیا تک انسانوں کے ایمان کو تازگی بخشتا رہے۔

دعا (Supplication)

اللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ، وَاجْعَلْنَا مِنْ دُعَاةِ الْعَدْلِ وَالْإِصْلَاحِ

(دعائیہ کلمات)

"اے ہمارے رب! ہمیں حق کو حق کر کے دکھا اور اس پر چلنے کی توفیق دے، اور باطل کو باطل دکھا کر اس سے بچنے کا حوصلہ عطا فرما، اور ہمیں اپنے دور میں عدل، سچائی اور اصلاح کے داعیوں میں شامل فرما۔ آمین یا رب العالمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

فکر اور بیداری کے اس پیغام کو عام کرنا بہترین صدقہ جاریہ ہے۔ نیکی کے اس سفر میں ہمارا ساتھ دیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.