اپنی اصلاح سے دوسروں کی اصلاح - ذاتی کردار کی اہمیت، ناصحانہ رویہ اور نبوی اسوہ | قسط 257 - ڈاکٹر واجد ارشاد
An inspiring article on self-reform leading to societal reform (Apni Islaah Se Doosron Ki Islaah), moral accountability, and Islamic principles by Dr. Wajid Irshad.


اپنی اصلاح سے دوسروں کی اصلاح - ذاتی کردار کی اہمیت، ناصحانہ رویہ اور نبوی اسوہ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 257)
1۔ تمہید
معاشرتی سدھار اور اخلاقی فلاح کی بنیاد "خود اصلاحی" (Self-Correction) پر قائم ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہی لوگ معاشرے میں حقیقی، پائیدار اور مثبت انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے جنہوں نے دعوت و اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے کیا۔ محض لفاظی، زبانی نصیحتوں اور دوسروں پر تنقید کرنے سے کوئی تبدیلی نہیں آتی، جب تک انسان کا اپنا عمل اس کے قول کی گواہی نہ دے۔
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر شخص دوسروں کو بدلنا چاہتا ہے، دوسروں کی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن اپنی ذات کا محاسبہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو سب سے پہلے اپنے نفس کا تزکیہ کرنے، اپنے عیوب پر نظر رکھنے اور اپنے عمل کو نمونہ بنانے کی ہدایت دیتا ہے۔ جب انسان کا اپنا کردار سنور جاتا ہے، تو اس کی خاموش نصحیت بھی دوسروں کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے ان لوگوں پر سخت تعجب اور تنبیہ فرمائی ہے جو دوسروں کو تو نیکی اور اصلاح کا حکم دیتے ہیں لیکن اپنی ذات کو بھول جاتے ہیں:
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ سورۃ البقرہ (آیت 44)
"کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ سورۃ الصف (آیات 2-3)
"اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہ کرو۔"
3۔ اسوہٴ حسینہ اور احادیثِ مبارکہ کا پیغام
رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ اور نبوی اسوہ کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ آپ ﷺ جس بات کا حکم امت کو دیتے، سب سے پہلے اس پر خود کامل عمل پیرا ہوتے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ ﷺ کا کردارِ مبارک بذاتِ خود ایک کامل دعوت تھا:
اپنے عیوب کی فکر کرنا:
عن أبي هريرة رضی الله عنه قال: يبصر أحدكم القذاة في عين أخيه، وينسى الجذع في عينه... (الادب المفرد للبخاري: 592)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "تم میں سے ایک شخص اپنے بھائی کی آنکھ میں پڑا ہوا چھوٹا سا تنکا تو دیکھ لیتا ہے، لیکن اپنی آنکھ میں موجود شهتیر (بڑے شہتیر کی مانند اپنے بڑے عیب) کو بھول جاتا ہے..."
بے عمل ناصح کا انجام:
عن أسامة بن زيد رضی الله عنهما قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: يُجابُ بالرجل يوم القيامة فيلقى في النار... فيطوف بها كما يطوف الحمار برحاه، فيجتمع أهل النار عليه فيقولون: يا فلان ما شأنك؟ أليس كنت تأمرنا بالمعروف وتنهانا عن المنكر؟ قال: كنت آمركم بالمعروف ولا آتيه، وأنهاكم عن المنكر وآتيه... (صحیح البخاری: 3267)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا... جہنمی اس کے گرد جمع ہو کر کہیں گے: اے فلاں! تجھے کیا ہوا؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے نہیں روکتا تھا؟ وہ کہے گا: میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا، اور تمہیں برائی سے روکتا تھا لیکن خود اس کا ارتکاب کرتا تھا..."
4۔ خود اصلاحی اور معاشرتی اصلاح کے 4 بنیادی تقاضے
روزانہ کا ذاتی محاسبہ (Self-Accountability):
ہر دن کے اختتام پر اپنے اعمال، گفتگو اور نیت کا جائزہ لیں۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا اور ان کی تلافی کرنا ہی خود اصلاحی کی پہلی سیڑھی ہے۔
کردار کو زبان سے زیادہ مؤثر بنانا:
زبان کی نصیحت سے زیادہ انسان کا عملی کردار اور اخلاق اثر انداز ہوتا ہے۔ جب آپ کا اپنا معاملہ ایمانداری، سچائی اور پاکیزگی پر مبنی ہوگا، تو لوگ خود بخود آپ سے متاثر ہوں گے۔
تنقید کے بجائے خیر خواہی کا جذبہ:
دوسروں کی اصلاح کا مقصد ان کی تذلیل يا ان پر اپنی برتری ثابت کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ محض للہیت اور ہمدردی کے ساتھ نرمی سے بات کرنی چاہیے۔
اپنے گھر اور قریبی ماحول سے شروعات:
دعوت و اصلاح کا آغاز سب سے پہلے اپنی ذات، پھر اپنے گھر والوں، بچوں اور قریبی ساتھیوں سے کرنا شریعت کا قائم کردہ طریقہ ہے۔
5۔ اختتامیہ
معاشرے کی تبدیلی کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک ہر فرد اپنی ذاتی اصلاح کی ذمہ داری قبول نہ کرے۔ جب ہم اپنے عیوب پر نظر رکھنا شروع کر دیتے ہیں، تو دوسروں پر بے جا تنقید کا رویہ ختم ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ اخلاص اور اصلاحِ احوال کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
آئیے! یہ عزم کریں کہ ہم دوسروں کی خامیوں کی تلاش چھوڑ کر پہلے اپنی اصلاح پر توجہ دیں گے، اپنے قول و فعل میں مطابقت پیدا کریں گے اور اپنے عمل کو دوسروں کے لیے ہدایت اور خیر کا ذریعہ بنائیں گے۔
دعا:اللهم آت نفوسنا تقواها، وزكها أنت خير من زكاها، أنت وليها ومولاها، واجعلنا هداة مهتدين
اے اللہ! ہمارے نفوس کو تقویٰ عطا فرما، اور ان کا تزکیہ فرما کہ تو ہی بہترین تزکیہ فرمانے والا ہے، تو ہی ان کا والی اور مالِک ہے، اور ہمیں ہدایت پانے والا اور دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بنا۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
اپنی اصلاح اور معاشرتی سدھار کا یہ فکری پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
