اپنے ایمان کو کیسے چیک کریں؟ خود احتسابی کا نبوی و قرآنی معیار | قسط 182 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Learn how to test and audit your Eman according to Qur'anic and Prophetic benchmarks for self-purification by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

7/1/20261 min read

photo of white staircase
photo of white staircase

اپنے ایمان کو کیسے چیک کریں؟ خود احتسابی کا نبوی و قرآنی معیار

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 182)

تمہید (Introduction)

جس طرح ہم اپنے جسمانی عارضوں، گاڑی کی کارکردگی یا کاروباری نفع و نقصان کا باقاعدگی سے معائنہ (Audit) کرتے ہیں، بالکل اسی طرح ہمارے روحانی وجود اور ایمان کو بھی مسلسل چیک اپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایمان کوئی ایسی ساکن چیز نہیں ہے جو ایک بار حاصل ہو جائے تو ہمیشہ ایک ہی حالت پر قائم رہے۔ یہ ایک ایسی حیاتیاتی باطنی کیفیت کا نام ہے جو طاعت و نیکی سے بڑھتی ہے اور گناہوں و غفلت سے گھٹتی چلی جاتی ہے۔ عصرِ حاضر کا ایک بڑا اور المناک المیہ یہ ہے کہ ہم دنیاوی ترقی، بینک بیلنس اور ظاہری لائف اسٹائل کا محاسبہ تو کرتے ہیں، مگر اپنے ایمان کے گراف (Graph) کو چیک کرنے سے بالکل غافل ہو چکے ہیں۔

قرآن و سنت کا انقلابی منہج ہمیں یہ فکری شعور عطا کرتا ہے کہ ہر مؤمن کو روزانہ کی بنیاد پر اپنے ایمان کا باطنی معائنہ کرنا چاہیے، تاکہ نفاق کی چپکے سے داخل ہونے والی بیماریوں اور دل کے زنگ کی بروقت تشخیص ہو سکے۔ اگر انسان کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس کا ایمان کس درجے پر ہے، تو وہ خود فریب (Self-Delusion) کا شکار ہو کر بالآخر ایمان کی دولت سے محروم ہو سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے معیارات (Checkpoints) ہیں جن کے ذریعے ہم اپنے ایمان کی صحت کو ناپ سکتے ہیں؟ اور قرآن و سنت کی روشنی میں ہم اپنا درست روحانی معائنہ کیسے کریں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی محاکمہ کریں گے۔

قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

کلامِ الٰہی ہمیں اپنے نفس کے محاسبے کی تاکید فرماتا ہے اور سچے مؤمنوں کے ایمان کو جانچنے کا معیار بیان کرتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (سورۃ الحشر: 18)

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے (اپنا محاسبہ کرنا چاہیے) کہ اس نے کل (قیامت کے دن) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (سورۃ الانفال: 2)

سچے مؤمن تو صرف وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں، اور جب ان کے سامنے اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان کو اور بڑھا دیتی ہیں، اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث ہمیں ایمان کے ذائقے اور اس کو چیک کرنے کے عملی پیمانے مہیا کرتی ہیں:

ایمان کا ذائقہ چکھنے کی تین علامات

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 16 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 43)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ پائی جائیں، اس نے ایمان کی حلاوت (مٹھاس) کو پا لیا: پہلی یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اسے باقی تمام کائنات سے زیادہ محبوب ہو جائیں، دوسری یہ کہ وہ کسی انسان سے محبت صرف اللہ کے لیے رکھے، اور تیسری یہ کہ وہ کفر کی طرف پلٹنے (یا گناہ کرنے) کو اتنا ہی ناگوار سمجھے جتانا کہ آگ میں پھینکے جانے کو ناگوار سمجھتا ہے۔

نیکی پر خوشی اور برائی پر رنج ایمان کی علامت ہے

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ" (مسند احمد، رقم الحدیث: 22166)

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تمہاری نیکی تمہیں خوشی دے اور تمہاری برائی (گناہ) تمہیں رنجیدہ و بے چین کر دے، تو تم مؤمن ہو۔

اپنے ایمان کو چیک کرنے کے 5 بنیادی معیارات (Self-Audit Checkpoints)

اگر آپ اپنا اور اپنے ایمان کا روحانی معائنہ کرنا چاہتے ہیں، تو ان پانچ سوالات کے ذریعے اپنا جائزہ لیں۔

تنہائی میں گناہ کی حالت (Private Life Check): جب آپ بالکل اکیلے ہوں، موبائل آپ کے ہاتھ میں ہو اور دنیا کی کوئی آنکھ آپ کو نہ دیکھ رہی ہو—تب آپ کا رویہ کیا ہوتا ہے؟ اگر تنہائی میں بھی خوفِ خدا غالب رہے تو ایمان زندہ ہے، اور اگر تنہائی گناہوں سے بھر جائے تو ایمان خطرے میں ہے۔

گناہ کے بعد دل کی بے چینی (Guilt & Repentance): کیا کسی غلطی یا گناہ کے بعد آپ کا دل تڑپتا ہے اور آپ فوراً توبہ کرتے ہیں؟ یا دل سخت ہو چکا ہے اور گناہ معمولی بات لگتی ہے؟ گناہ پر ندامت ایمان کی علامت ہے۔

عبادت اور اذان پر ردعمل (Response to Worship): اذان کی آواز سن کر یا نماز کا وقت ہونے پر آپ کے اندر کیا کیفیت پیدا ہوتی ہے؟ شوق اور رغبت، یا سستی اور بوجھ؟ عبادات کی حلاوت ایمان کے گراف کو ظاہر کرتی ہے۔

معاملات اور دیانت داری (Financial Integrity): جب سچ اور جھوٹ، حلال اور حرام کے درمیان انتخاب کا موقع آئے، تو کیا آپ چند پیسوں کے لیے شریعت کی حد توڑ دیتے ہیں یا سچائی پر اڑ جاتے ہیں؟ معاملات کی پاکیزگی ایمان کا اصل نچوڑ ہے۔

لوگوں سے تعلق کا بنیادی محور (Relationships Test): آپ کی دوستی، تعلقات اور رغبت کس قسم کے لوگوں سے ہے؟ کیا آپ کی محبتیں اور عداوتیں صرف اللہ کی رضا کے لیے ہیں یا دنیاوی مفادات کے لیے؟

ایمان کا گراف نیچے گرنے کے چار بنیادی اسباب (Why Faith Drops)

اگر چیک اپ کے دوران ایمان میں کمزوری محسوس ہو، تو اس کی بنیادی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں۔

الف) غیر محتاط ڈیجیٹل استعمال: اسمارٹ فون پر بلا روک ٹوک بدنگاہی، فحش مواد اور لایعنی ویڈیوز دیکھنے سے دل پر سیاہی جم جاتی ہے۔

ب) غفلت کی محافل اور برا ماحول: ایسے دوستوں میں بیٹھنا جہاں صرف دنیا، غیبت، اور ہنسی مذاق ہو، باطنی نور کو بجھا دیتا ہے۔

ج) حلال و حرام میں عدم تمیز: مشتبہ یا حرام روزی کا پیٹ میں جانا روح کی بالیدگی کو ختم کر دیتا ہے اور عبادات کا ذائقہ چھین لیتا ہے۔

د) محاسبۂ نفس کا نہ ہونا: روزمرہ کے اعمال پر نظر نہ رکھنا انسان کو غفلت کے دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔

ایمان کے گراف کو اپ گریڈ (Upgrade) کرنے کے پانچ عملی حل

ایمان کو مسلسل مضبوط اور تازہ رکھنے کے لیے ان پانچ اصلاحی اقدامات پر عمل کریں:

تجدیدِ ایمان اور کثرتِ استغفار: روزانہ "لا الٰہ الا اللہ" اور "استغفراللہ" کا ورد کثرت سے کریں تاکہ دل کی آلودگی صاف ہو۔

روزانہ کا 5 منٹ کا محاسبہ (Self-Accounting): رات کو سونے سے پہلے چند منٹ اپنے پورے دن کے اعمال کا جائزہ لیں اور کوتاہیوں پر معافی مانگیں۔

قرآنِ مجید کی تدبر کے ساتھ تلاوت: روزانہ قرآن پاک کا کچھ حصہ ترجمے اور تفہیم کے ساتھ پڑھیں، کیونکہ قرآن ایمان کی بہترین خوراک ہے۔

صالحین اور اہل اللہ کی صحبت: نیک اور بیدار مغز لوگوں کی محفلوں میں بیٹھیں، تاکہ باطنی بیداری برقرار رہے۔

مستقل مزاجی سے دعاؤں کا اہتمام: اپنے دل کے ثبات کے لیے مسنون دعائیں مانگتے رہیں۔

اپنے ایمان کے باقاعدہ معائنے (Audit) کے انمول ثمرات

جو شخص اپنے ایمان کی مسلسل اصلاح کرتا رہتا ہے، اسے یہ عظیم باطنی انعامات ملتے ہیں۔

نفاق اور سوءِ خاتمہ سے تحفظ: بار بار کے محاسبے سے انسان منافقانہ طرزِ عمل سے بچ جاتا ہے اور اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے۔

قلبی اطمینان اور بصیرت: اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ایسا نور پیدا فرما دیتا ہے جس سے وہ حق اور باطل کے درمیان فرق کو صاف دیکھ سکتا ہے۔

ایمان کی حقیقی حلاوت: ایسا شخص دنیا کی فانی لذتوں سے بے نیاز ہو کر بندگی کا وہ حقیقی سرور حاصل کر لیتا ہے جس کا وعدہ نبویؐ احادیث میں کیا گیا ہے۔

اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اپنے ایمان کو چیک کرنا کوئی اختیاری کام نہیں بلکہ ہر مؤمن کے لیے روحانی بقا کا مسئلہ ہے۔ ایمان ایک ایسی امانت ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے ایمان کا گراف چیک نہیں کریں گے، تو شیطان اور نفس کی چپکے سے کی گئی پیش قدمی ہمیں فکری و اخلاقی تباهی کے دہانے پر لا کھڑا کرے گی۔ آئیے آج ہی سے اپنی تنہائیوں، اپنے لین دین اور اپنے باطنی رویوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔ اپنے دل کو توبہ سے دھوئین، عبادات میں اخلاص پیدا کریں اور رب کے حضور عاجزی کا مظاہرہ کریں۔ جب ظاہر اور باطن ایک ہو جائیں گے، تو ہمارا ایمان واقعی نبوی معیار کے مطابق زندہ اور متحرک ہوگا۔

دعا (Supplication)

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَىٰ دِينِكَ، اللَّهُمَّ حَبَّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ

اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا فرما اور اسے ہمارے دلوں میں مزین کر دے، اور کفر، فسق اور نافرمانی سے ہمارے دلوں میں نفرت پیدا کر دے۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

اپنے ایمان کے محاسبے اور اصلاحِ باطن کا یہ پیغام کسی غافل دل کی بیداری کا باعث بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.