انتہاپسندی اور دین: غلط فہمیاں
Misunderstandings about extremism in religion have created confusion among many people. انتہاپسندی اور دین: غلط فہمیاں Islam promotes balance, moderation, and wisdom in every aspect of life. Extremism arises when religion is practiced without proper knowledge or balance. The Prophet ﷺ taught ease, compassion, and moderation. A true believer follows Islam with understanding, avoiding both negligence and excess. Balanced faith leads to peace, clarity, and a stronger connection with Allah.


انتہاپسندی اور دین: غلط فہمیاں
قسط نمبر 135
ڈاکٹر واجد ارشاد
تمہید
دینِ اسلام اعتدال، توازن اور رحمت کا دین ہے، مگر بدقسمتی سے بعض اوقات اس دین کو انتہاپسندی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑی فکری غلط فہمی ہے جو نہ صرف دین کی اصل روح کو مسخ کرتی ہے بلکہ معاشرے میں دوریاں بھی پیدا کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دین نہ شدت کا نام ہے اور نہ ہی غفلت کا، بلکہ یہ صراطِ مستقیم یعنی درمیانی اور متوازن راستے کا نام ہے۔
مرکزی نکتہ
اسلام کا اصل مزاج اعتدال ہے، جبکہ انتہاپسندی دین کی صحیح تعلیمات سے دوری اور غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں
ارشاد باری تعالیٰ:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا
سورۃ البقرہ: 143
اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا۔
ارشاد باری تعالیٰ:
لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ
سورۃ النساء: 171
اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو۔
ارشاد باری تعالیٰ:
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ
سورۃ البقرہ: 185
اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے سختی نہیں چاہتا۔
حدیث نبوی ﷺ کی روشنی میں
فرمان نبوی ﷺ:
إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ
سنن نسائی: 3057
دین میں حد سے بڑھنے سے بچو۔
یعنی دین میں غیر ضروری سختی اور انتہا پسندی اختیار کرنا ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔
فرمان نبوی ﷺ:
هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ
صحیح مسلم: 2670
حد سے بڑھنے والے لوگ ہلاک ہو گئے۔
یعنی جو لوگ دین میں سختی اور شدت اختیار کرتے ہیں وہ کامیابی سے دور ہو جاتے ہیں۔
فرمان نبوی ﷺ:
يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا
صحیح بخاری: 69، صحیح مسلم: 1734
آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔
یعنی دین کی دعوت میں نرمی، آسانی اور حکمت اختیار کرنی چاہیے۔
واقعہ
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں تین صحابہ رضی اللہ عنہم نے عبادت میں حد سے بڑھنے کا ارادہ کیا۔ ایک نے ہمیشہ روزہ رکھنے، دوسرے نے پوری رات قیام کرنے اور تیسرے نے نکاح نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، اور نکاح بھی کرتا ہوں۔ پھر فرمایا: جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔
صحیح بخاری: 5063، صحیح مسلم: 1401
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ دین میں اعتدال ہی اصل راستہ ہے اور ضرورت سے زیادہ سختی بھی درست نہیں۔
دین اور انتہاپسندی کی غلط فہمیاں
بعض لوگ درج ذیل چیزوں کو غلطی سے انتہاپسندی سمجھ لیتے ہیں:
دین پر عمل کرنا
سنتوں کو اپنانا
حلال و حرام کا خیال رکھنا
گناہوں سے بچنا
دعوت و تبلیغ کرنا
حالانکہ یہ سب دین کا حصہ ہیں، جب تک ان میں توازن اور حکمت موجود ہو۔
اصل انتہاپسندی کیا ہے؟
اصل انتہاپسندی یہ ہے:
دین میں اپنی رائے کو اصل بنا لینا
بغیر علم کے سخت فیصلے کرنا
لوگوں پر دین کو زبردستی مسلط کرنا
رحمت کے بجائے سختی کو غالب کرنا
اعتدال چھوڑ کر شدت اختیار کرنا
اسلام کا متوازن مزاج
اسلام ہر معاملے میں توازن سکھاتا ہے:
عبادت میں اعتدال
اخلاق میں نرمی
دعوت میں حکمت
معاملات میں انصاف
زندگی میں توازن
غلط فہمی کا علاج
صحیح دینی علم حاصل کرنا
قرآن و سنت کو سمجھ کر پڑھنا
اہلِ علم کی صحبت اختیار کرنا
جذبات کے بجائے دلیل کو ترجیح دینا
دین کو مکمل نظام کے طور پر سمجھنا
اختتامیہ
انتہاپسندی دین کا حصہ نہیں بلکہ دین کی غلط تعبیر ہے۔ اسلام نہ شدت کا دین ہے اور نہ بے عملی کا، بلکہ یہ عدل، رحمت اور توازن کا کامل نظام ہے۔ جب دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھا جائے تو ہر غلط فہمی خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
دعا
اللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا الْفَهْمَ فِي الدِّينِ وَبَصِّرْنَا بِحَقِيقَةِ دِينِكَ وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُعْتَدِلِينَ
اے اللہ! ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرما، ہمیں اپنے دین کی حقیقت دکھا اور ہمیں اعتدال اختیار کرنے والوں میں شامل فرما
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقۂ جاریہ ہے، اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں۔
