اندرونی سکون کیسے حاصل ہو؟ باطنی اطمینان، قلبی راحت اور روحانی سفر | قسط 204 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Discover how to attain inner peace (Sukoon) and spiritual contentment in Islam through Dhikr, Salah, and prophetic wisdom by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

7/23/20261 min read

اندرونی سکون کیسے حاصل ہو؟ باطنی اطمینان، قلبی راحت اور روحانی سفر

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 204)

1۔ تمہید (Introduction)

عصرِ حاضر میں انسان نے مادی ترقی، سائنسی ایجادات اور ظاہری آسائشوں کے بے پناہ انبار لگا لیے ہیں، مگر اس کے باوجود انسانیت جس سب سے بڑی کمی اور بحران کا شکار ہے وہ "اندرونی سکون" (Inner Peace) ہے۔ مادی وسائل کی فراوانی کے باوجود دلوں میں خوف، اینگزائٹی، بے چینی اور نامعلوم خلاء بڑھتا جا رہا ہے۔ انسان سکون کی تلاش میں دنیاوی لذتوں، تفریحات اور دولت کے پیچھے بھاگتا ہے، لیکن یہ تمام چیزیں عارضی تسکین تو دے سکتی ہیں، مستقل باطنی اطمینان فراہم نہیں کر سکتیں۔

اسلامی تعلیمات اور روحانیت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان کا جسم مٹی سے بنا ہے اس لیے اس کی مادی ضروریات زمین سے پوری ہوتی ہیں، مگر انسان کی روح عالمِ بالا اور امرِ ربی سے ہے، اس لیے روح کا سکون صرف اور صرف اپنے خالقِ حقیقی کے تعلق، قرب اور یاد میں پوشیدہ ہے۔ جب تک روح کو اس کی روحانی غذا یعنی ذکرِ الٰہی، توکل، اور تسلیم و رضا نہ ملے، دل کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اندرونی سکون کا حقیقی منبع کیا ہے؟ انسان ذہنی تناؤ اور باطنی گھٹن سے کیسے نجات پا سکتا ہے؟ اور مستقل قلبی راحت حاصل کرنے کے عملی و روحانی مراحل کیا ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی و روحانی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے قلبی سکون اور باطنی راحت کا واحد اور حتمی راستہ واشگاف الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (سورۃ الرعد: 28)

وہ لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو! اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (سورۃ النحل: 97)

جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم یقیناً اسے (دنیا میں بھی) پاکیزہ اور پُرسکون زندگی عطا فرمائیں گے، اور (آخرت میں) ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر عطا کریں گے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اور احادیثِ طیبہ باطنی سکون اور روحانی طمانینت کا سب سے روشن نمونہ ہیں:

• نماز کو راحت اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنانا

عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى" (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 1319)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب بھی کوئی پریشانی یا مشکل پیش آتی تو آپ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہو جاتے (اور سکون پاتے)۔

• بے چینی اور غم سے نجات کی نبوی دعا

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2893)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ! میں فکر و غم، عاجزی و سستی، بزدلی و کنجوسی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط و غلبے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

4۔ مادی لذت پرستی اور روحانی طمانینت کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

دنیاوی و مادی چیزوں میں سکون ڈھونڈنے والے اور روحانی اطمینان پانے والے مومن کے درمیان یہ بنیادی فرق ہے:

1۔ باطنی انحصار اور تکیہ:

مادی لذت کا طلبگار: دولت، عہدے، سوشل میڈیا کی تعریف اور مخلوق پر تکیہ۔

روحانی اطمینان کا حامل: اللہ تعالیٰ کی ذات، تقدیر پر ایمان اور توکل علی اللہ۔

2۔ پریشانی اور تنگی کا سامنا:

مادی لذت کا طلبگار: شدید فرسٹریشن، ذہنی تناؤ، اینگزائٹی اور شکوے شکایات۔

روحانی اطمینان کا حامل: صبرِ جمیل، دعا، اور خیر کی امید کے ساتھ باطنی سکون۔

3۔ اندرونی کیفیت اور خواہشات:

مادی لذت کا طلبگار: ہوس، ہمیشہ مزید کی طلب، باطنی خلاء اور کبھی نہ ختم ہونے والی بے چینی۔

روحانی اطمینان کا حامل: قناعت، شکر گزاری اور باطنی سیر چشمی۔

4۔ تنہائی کا احساس:

مادی لذت کا طلبگار: تنہائی میں شدید اداسی، گھبراہٹ اور باطنی ویرانی۔

روحانی اطمینان کا حامل: تنہائی میں اللہ کا انس، مناجات کی لذت اور سکینت۔

5۔ اندرونی سکون کے حصول کے 5 روحانی و عملی ذرائع (Strategies)

باطنی طمانینت اور قلبی راحت حاصل کرنے کے لیے ان پانچ عملی راستوں کو اختیار کریں:

الف) کثرتِ ذکرِ الٰہی اور استغفار: صبح و شام کے مسنون اذکار، تسبیح اور کثرت سے استغفار کریں کیونکہ ذکر دل کے زنگ کو دھو کر سکینت نازل کرتا ہے۔

ب) خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی پابندی: نماز کو محض فرض سمجھ کر جلدی نہ نمٹائیں بلکہ اسے اپنے خالق سے گفتگو کا ذریعہ بنا کر سجدوں کو طویل کریں۔

ج) تقدیر پر راضی رہنا (رضا بالرضا): یہ یقین رکھیں کہ جو ملا وہ اللہ کی حکمت سے ملا اور جو نہ ملا اس میں خیر تھی؛ بے جا ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے خوف سے خود کو آزاد کریں۔

د) دل کو کینہ، حسد اور بغض سے پاک کرنا: لوگوں کو اللہ کی خاطر معاف کرنا سیکھیں؛ جب تک دل سے بغض کا زہر نہیں نکلے گا، اندرونی سکون داخل نہیں ہو سکتا۔

ہ) قناعت اور بندگانِ خدا کی خدمت: اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھ کر شکر ادا کریں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں، کیونکہ دوسروں کو سکھ دینے سے دل کو سچا سکون ملتا ہے۔

6۔ اندرونی سکون اور قلبی راحت کا معائری پیمانہ

عملی زندگی میں سچے اندرونی سکون کا معیار یہ ہے کہ:

• انسان دنیاوی نفع و نقصان پر نہ تو آپے سے باہر ہو اور نہ ہی مایوسی کی تاریکی میں ڈوبے۔

• تنہائی اور بھیڑ دونوں حالتوں میں اس کا باطن مطمئن اور اللہ کی یاد سے آباد رہے۔

• اس کے دل میں شکوے کے بجائے ہر وقت اپنے رب کی نعمتوں پر شکر کا غلبہ ہو۔

7۔ اندرونی سکون کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان روحانیت اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے باطنی سکون حاصل کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم انعامات عطا فرماتا ہے:

• سکینتِ قلبی اور ذہنی آزادی: دنیا کے تمام خوف اور مایوسیاں باطن سے ختم ہو جاتی ہیں اور زندگی پرسکون ہو جاتی ہے۔

• حسنِ اخلاق اور مضبوط اعصاب: پرسکون دل والا انسان تلخ حالات میں بھی نرم مزاج، صابر اور باحوصلہ رہتا ہے۔

• دنیا اور آخرت کی طیب زندگی: اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی حیاتِ طیبہ اور آخرت میں جنت الفردوس کے دائمی آرام سے نوازتا ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اندرونی سکون بازاروں سے خریدا نہیں جا سکتا اور نہ ہی یہ دنیاوی جاہ و حشمت سے ملتا ہے؛ یہ رب العزت کا وہ انمول تحفہ ہے جو صرف ان دلوں میں اترتا ہے جو اللہ کے سامنے جھکتے اور اس کی یاد سے آباد ہوتے ہیں۔ انسان دنیا بھر کے دروازے کھٹکھٹا کر تھک جائے گا لیکن جب تک اپنے خالق کی طرف نہیں پلٹے گا، اس کے باطن کی بے چینی دور نہیں ہو سکتی۔ آئیے! اپنی روح کی پیاس بجھانے کے لیے ذکرِ الٰہی، نماز، سچی توبہ اور رضا بالقضاء کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں تاکہ ہمارا باطن نورِ سکینت سے جگمگا اٹھے۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنْزِلْ عَلَيْنَا سَكِينَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَأَلْزِمْنَا كَلِمَةَ التَّقْوَى، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ، وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ۔

اے اللہ! ہمارے پروردگار! اپنی طرف سے ہمارے دلوں پر سکینت اور اطمینان نازل فرما، اور ہمیں تقویٰ کی بات پر قائم رکھ۔ اے اللہ! میں تجھ سے ایسے نفس کا سوال کرتا ہوں جو تیرے ساتھ مطمئن ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیرے فیصلے پر راضی ہو، اور تیری عطا پر قناعت کرنے والا ہو۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

اندرونی سکون اور روحانی طمانینت کا یہ پیغام کسی بے چین دل کے لیے شفا اور باطنی راحت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.