اندرونی فتنے اور نفسِ امارہ: سب سے بڑا باطنی خطرہ | سلسلہ نفس قسط 169 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Explore the hidden internal fitnah of Nafs-e-Ammarah and learn practical steps for self-purification (Tazkiyah) based on Quran and Sunnah by Dr. Wajid Irshad."


باطنی نقب زنی: اندرونی فتنے اور نفسِ امارہ کا شرعی محاکمہ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: نفس (قسط نمبر: 169)
1۔ تمہید (Introduction)
انسانی تاریخ میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں، ان میں سب سے خطرناک اور کاری ضرب لگانے والا دشمن ہمیشہ وہی ثابت ہوا جو صفوں کے اندر چھپا بیٹھا تھا، جسے ہم عام زبان میں "آستین کا سانپ" کہتے ہیں۔ بعینہٖ یہی معاملہ انسان کی روحانی، اخلاقی اور ایمانی زندگی کا ہے۔ ہم دنیا کے بیرونی فتنوں، شیطانی ترغیبات، معاشرتی کج رویوں اور مادی دنیا کی مصنوعی چمک دمک کو تو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور ان سے بچنے کی تدبیریں بھی کرتے ہیں، مگر اس سب سے بڑے، قریبی اور خفیہ دشمن سے بالکل غافل ہو جاتے ہیں جو خود ہمارے اپنے سینے کے اندر ہر لمحہ سانس لے رہا ہے۔
یہ دشمن ہمارا "نفسِ امارہ" ہے۔ اگر باطن کا یہ چور بیدار ہو اور اندرونی فتنوں کا دروازہ کھلا ہو، تو باہر کا کوئی بھی فتنہ انسان کو اس وقت تک تباہ نہیں کر سکتا جب تک اسے اندر سے رسد (Support) نہ ملے۔ عصرِ حاضر کے ڈیجیٹل اور پرفتن دور میں اپنے ایمان کو بچانے کے لیے سب سے پہلا قدم اپنے اندرونی فتنوں کی شناخت اور ان کا سدِباب کرنا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم نفس کی انھی باطنی بیماریوں اور ان کے علاج کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
2۔ الٰہی میزان اور قرآنی حقائق (The Qur'anic Reality)
قرآنِ حکیم نے انسانی نفس کی مکارانہ چالوں، اس کی باطنی کمزوریوں اور اندرونی فتنوں کی حساسیت کو نہایت گہرے اسلوب میں آشکار کیا ہے:
الف) نفس کی برائی کی طرف مائل کرنے والی جبلت
وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي (سورۃ یوسف: 53)
اور میں اپنے نفس کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتا، یقیناً نفس تو برائی کا بہت زیادہ حکم دینے والا ہے، سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔
یہ سیدنا یوسف علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر کا اعتراف ہے، جو واضح کرتا ہے کہ نفس کی باطنی ترغیب اتنی شدید ہوتی ہے کہ اس سے بچنا الٰہی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔
ب) باطنی وسوسوں سے رب العزت کی باخبری
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (سورۃ ق: 16)
اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں جو وسوسے اس کا نفس اس کے دل میں ڈالتا ہے، اور ہم اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
خالقِ کائنات انسان کے ان پوشیدہ اندرونی خطرات اور باطنی خیالات سے پوری طرح باخبر ہے جو ابھی زبان پر بھی نہیں آئے۔
ج) باطنی اصلاح کی اولین فرضیت
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (سورۃ المائدہ: 105)
اے ایمان والو! تم اپنی جانوں (اور باطن کی اصلاح) کی فکر کرو، جب تم سیدھی راہ پر چل رہے ہو تو کسی دوسرے کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کائنات کا سب سے بڑا مرکزِ اصلاح انسان کا اپنا وجود اور اس کا باطن ہے۔
3۔ ارشاداتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں باطنی خطرات (Prophetic Warnings)
احادیثِ مبارکہ میں رسولِ اکرم ﷺ نے بیرونی دشمنوں سے زیادہ ان اندرونی فتنوں اور باطنی بیماریوں سے ڈرایا ہے جو انسان کے اخلاص اور نیکیوں کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں:
الف) باطنی ہلاکت خیز بیماریاں
ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ: شُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ (السنن الکبریٰ للبیہقی، رقم الحدیث: 7339، علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے)
تین چیزیں انسان کو تباہ و برباد کرنے والی ہیں: وہ بخل جس کی اطاعت کی جائے، وہ نفسانی خواہش جس کی پیروی کی جائے، اور انسان کا خود پسندی (تکبر اور غرور) میں مبتلا ہو جانا Lights۔
یہ تینوں فتنے خالصتاً باطنی ہیں، جن کا تعلق انسان کی اندورنی نفسیات اور نیتوں کی خرابی سے ہے۔
ب) حقیقی مجاہد کا اسلامی معیار
الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ (مسند احمد، رقم الحدیث: 23951، شعیب الارنؤوط نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے)
حقیقی مجاہد وہ شخص ہے جو اللہ عزوجل کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرنے کے لیے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔
بیرونی میدانِ جنگ کا معرکہ وقتی اور عارضی ہوتا ہے، جبکہ نفس کے خلاف اندرونی جنگ انسان کی آخری سانس تک جاری رہتی ہے۔
4۔ خطرناک ترین اندرونی فتنے: علامات اور اثرات
اپنے اندر جھانک کر دیکھیے کہ کہیں آپ کا باطن ان چار ہلاکت خیز اندرونی فتنوں کا شکار تو نہیں ہو رہا:
1. عُجب اور خود پسندی (Self-Righteousness): اپنی نیکیوں، علم، تقوے یا عبادات پر فخر کرنا اور دوسروں کو اپنے سے حقیر سمجھنا۔ یہ فتنہ انسان کے پورے نامۂ اعمال کو برباد کر دیتا ہے۔
2. طولِ امل (لمبی امیدیں اور ٹال مٹول): یہ سوچنا کہ "ابھی توبہ کے لیے بہت عمر پڑی ہے"، اور نیکی کے کاموں کو کل پر ٹالتے جانا، یہاں تک کہ موت اچانک آ دبوچے۔
3. خواہشِ نفس کی اسارت (Blind Desires): جب انسان کا دل کسی گناہ کی طرف مائل ہو، تو عقل اس گناہ کے حق میں تاویلیں اور فاسد جواز تراشنا شروع کر دیتی ہے۔
4. پوشیدہ ریاکاری (Hidden Hypocrisy): عبادت تو اللہ کے لیے کرنا، مگر دل کے کسی کونے میں یہ چاہت چھپی ہونا کہ لوگ میری تعریف کریں، مجھے بڑا دیندار یا پرہیزگار سمجھیں۔
5۔ اندرونی فتنوں پر قابو پانے کا نبوی نسخہ (Remedial Measures)
اپنے باطن کو اس سب سے بڑے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے روزمرہ کی زندگی میں ان چار اصولوں کو لاگو کریں:
اول: روزانہ کا باقاعدہ محاسبہ (Self-Auditing)
رات کو سونے سے پہلے پانچ منٹ تنہائی میں بیٹھیں اور اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لیں۔ اگر کوئی نیکی ہوئی تو اللہ کا شکر ادا کریں، اور اگر دل میں کوئی کینہ، حسد، یا گناہ کا خیال آیا تو فوراً استغفار کریں۔
دوم: نیکیوں کو چھپانے کا اہتمام
جس طرح ہم اپنے گناہوں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں، اسی طرح اپنی کچھ نیکیوں (مثلاً نفلی صدقہ، تہجد، یا کسی کی خفیہ مدد) کو بھی دنیا سے چھپائیں۔ یہ عمل نفس کے اندر سے ریاکاری اور خود پسندی کا جڑ سے خاتمہ کر دیتا ہے۔
سوم: باطنی و استغفاری دعاؤں کا التزام
سید الانبیاء ﷺ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے، جو ہمیں بھی اپنی نمازوں کا حصہ بنانی چاہیے:
اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا
(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2722)
"اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ (اور پرہیزگاری) عطا فرما، اور اسے پاکیزہ کر دے، تو ہی اسے سب سے بہتر پاکیزہ کرنے والا ہے، تو ہی اس کا کارساز اور اس کا مالک ہے۔"
6۔ اختتامیہ (Conclusion)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی بیرونی فتنہ، کوئی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم، اور کوئی بھی عارضی لذت آپ کو اس وقت تک گناہ کے دلدل میں نہیں دھکیل سکتی، جب تک آپ کا اپنا نفس اندر سے اس کے لیے آمادہ نہ ہو۔ اندرونی فتنے سائلنٹ کلر (Silent Killer) کی طرح انسان کے ایمان کو چاٹ جاتے ہیں اور انسان کو پتا بھی نہیں چلتا۔
اصل کامیابی اور ولایت یہ نہیں کہ انسان دنیا کو فتح کر لے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے باطن کے سرکش گھوڑے کو لگام ڈال کر اسے اللہ کی رضا کا تابع بنا دے۔ آئیے! آج سے اپنے باہر کی دنیا کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کی دنیا کو بھی بدلنے کی مخلصانہ کوشش کا آغاز کریں۔
دعا (Supplication)
اللّٰهُمَّ طَهِّرْ قُلُوبَنَا مِنَ النِّفَاقِ، وَأَعْمَالَنَا مِنَ الرِّيَاءِ، وَأَلْسِنَتَنَا مِنَ الْكَذِبِ، وَأَعْيُنَنَا مِنَ الْخِيَانَةِ
(دعائیہ کلمات)
"اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو نفاق سے، ہمارے اعمال کو ریاکاری سے، ہماری زبانوں کو جھوٹ سے اور ہماری آنکھوں کو خیانت سے پاک فرما دے۔ آمین یا رب العالمین۔"
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
تزکیۂ نفس اور فکری اصلاح کے اس پیغام کو شیئر کر کے انسانیت کی رہنمائی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
