عملی دعوت: خاموش انداز - بلند کردار، مؤثر طریقہ اور نبوی اسوہ | قسط 259 - ڈاکٹر واجد ارشاد
An inspiring article on practical and silent preaching in Islam (Amali Dawat: Khamosh Andaz), moral character, and prophetic teachings by Dr. Wajid Irshad.


عملی دعوت: خاموش انداز - بلند کردار، مؤثر طریقہ اور نبوی اسوہ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 259)
1۔ تمہید
دینِ اسلام کی اشاعت اور لوگوں کے قلوب کو فتح کرنے کا سب سے بڑا اور مؤثر ذریعہ "عملی دعوت" (Silent Preaching through Character) رہا ہے۔ دعوت کا مطلب صرف زبان سے فصیح و بلیغ تقاریر کرنا، مناظرے کرنا يا زبانی نصیحتیں کرنا نہیں، بلکہ انسان کا اپنا کردار، اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ معاملت داری ایسی ہو کہ دیکھنے والا کہے بغیر ہی اسلام کی خوبصورتی اور سچائی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے۔
آج ہمارے معاشرے میں کلام اور نصائح کی کوئی کمی نہیں، لیکن اس کے باوجود ہمارے الفاظ کا اثر لوگوں کے دلوں پر نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بول اور عمل میں تضاد موجود ہے۔ تاریخِ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ برصغیر، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے بے شمار خطوں میں اسلام کسی تلوار یا طویل تقریروں سے نہیں بلکہ مسلمان تاجروں، صوفیاء اور عام مسلمانوں کے خاموش اور اعلیٰ عملی کردار سے پھیلا ہے۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے نیکی کی دعوت اور اصلاحِ احوال کے لیے حکمت، بہترین اخلاق اور بہترین عملی اسلوب اپنانے کی ہدایت فرمائی ہے:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورۃ النحل (آیت 125)
"آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ دعوت دیں، اور ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو سب سے بہترین ہو۔"
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ سورۃ آل عمران (آیت 159)
"(اے حبیب!) پس اللہ کی رحمت کے باعث ہی آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں، اور اگر آپ بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد سے چھٹ جاتے۔"
3۔ اسوہٴ حسینہ اور احادیثِ مبارکہ کا پیغام
رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا سب سے مؤثر پہلو آپ ﷺ کا "خاموش عملی کردار" تھا۔ آپ ﷺ کو نبوت سے قبل بھی مکہ کا معاشرہ "الصادق" اور "الامین" کے لقب سے پکارتا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ کا کردار زبان سے پہلے دعوت دے رہا تھا:
بہترین اخلاق ہی ایمان کا کامل معیار:
عن أبي هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا... (جامع الترمذی: 1162)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مؤمنوں میں سے کامل ترین ایمان والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔"
امانت داری اور سچائی کی برکت:
عن أبي سعيد الخدري رضی الله عنه عن النبي ﷺ قال: التاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشهداء... (جامع الترمذی: 1209)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا..."
4۔ عملی اور خاموش دعوت کے 4 بنیادی تقاضے
سچائی اور مالی پاکیزگی:
لین دین میں کھراپن، وعدے کی پاسداری، اور ناپ تول میں پوری ایمانداری برتنا خاموش دعوت کی سب سے طاقتور شکل ہے۔ جب آپ کا مالی معاملہ پاکیزہ ہوگا تو دنیا آپ کے دین کا احترام کرے گی۔
تکلیف دہ رویوں پر صبر اور درگزر:
دوسروں کی بدسلوکی کے جواب میں حسنِ اخلاق دکھانا اور معاف کر دینا مخالف کے دل پر سب سے گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ یہ نبوی اسوہ دلوں کو بغیر بولے تسخیر کر لیتا ہے۔
خلوصِ دل اور خاموش خدمتِ خلق:
بغیر کسی شہرت يا دکھاوے کے غریبوں، محتاجوں اور پریشان حال لوگوں کی مدد کرنا اسلام کا وہ رخ پیش کرتا ہے جو الفاظ سے کہیں زیادہ بااثر اور دلنشین ہوتا ہے۔
عبادات میں نظم اور وقار:
اپنے کام کی جگہ یا عوامی مقامات پر وقت پر نماز کا اہتمام کرنا، پاکیزگی کا خیال رکھنا اور مسکرا کر ملنا اپنے اردگرد کے ماحول میں خاموشی سے دینی اثر و رسوخ قائم کرتا ہے۔
5۔ اختتامیہ
خاموش اور عملی دعوت کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے قول سے زیادہ اپنے عمل کو بولنے دیں۔ جب ہماری زندگی، اخلاق اور معاملات اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار بن جائیں گے تو ہمیں لوگوں کو دین کی طرف بلانے کے لیے لمبے دلائل کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
آئیے! یہ عزم کریں کہ ہم اپنے کردار اور رویوں کو اسلام کے لیے باعثِ فخر اور جذبِ قلوب کا ذریعہ بنائیں گے، زبان کے ساتھ ساتھ اپنے عمل کی خاموش دعوت کو اپنائیں گے اور اس اسوہٴ نبوی کے ذریعے معاشرے میں خیر پھیلائیں گے۔
دعا:اللهم اجعلنا هداة مهتدين، ولا تجعلنا فتنة للذين كفروا، واصلح لنا ظواهرنا وبواطننا
اے اللہ! ہمیں ہدایت یافتہ اور دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بنا، اور ہمیں کافروں اور نا سمجھوں کے لیے (باعثِ گمراہی يا) آزمائش نہ بنا، اور ہمارے ظاہر و باطن کی اصلاح فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
خاموش اور عملی دعوت کا یہ فکری پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
