عمل اور کردار کا اسلام - معاشرتی اصلاح اور کردار سازی کی نبوی حکمت | قسط 238 - ڈاکٹر واجد ارشاد

An insightful article on adopting practical Islam, character building (Kardar Sazi), and social reform during Rabi al-Thani by Dr. Wajid Irshad.

Dr. Wajid Irshad

8/26/20261 min read

عمل اور کردار کا اسلام - معاشرتی اصلاح اور کردار سازی کی نبوی حکمت

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 238)

1۔ تمہید

ربیع الثانی کا چاند نمودار ہوتے ہی ایک اہم فکری اور عملی مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ ربیع الاول کے مہینے میں اگر ہم نے سیرتِ طیبہ کی تعلیمات اور نبوی اسوہ کا سنہرا مطالعہ کیا، تو ربیع الثانی اس علم اور جذباتی تعلق کو عملی میدان میں ڈھالنے کا مہینہ ہے۔ اسلام صرف زبانی دعوؤں، روایتی تقاریب یا نظریاتی بحثوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا تحرک سے بھرپور نظام ہے جس کا اصل جوہر انسانی عمل اور پختہ کردار میں نظر آتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ ہمارے پاس علم اور الفاظ کی کمی نہیں، لیکن اس علم کو عملی کردار اور معاشرتی رویوں میں ڈھالنے کی شدید ضرورت ہے۔ ربیع الثانی کا یہ مبارک مہینہ ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ہم "عمل اور کردار کے اسلام" کو اپنائیں اور اپنے گھر، بازار اور معاشرے کے لیے خیر کا ذریعہ بنیں۔

2۔ الٰہی فرامین کی روشنی

قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت نے زبانی دعوؤں کے مقابلے میں عمل، اخلاق اور کردار کی اہمیت کو بار بار اجاگر فرمایا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ۝ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (سورۃ الصف: 2-3)

اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو۔

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (سورۃ الملک: 2)

جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کا رہنما نچوڑ

سیرتِ پاک اور احادیثِ مطہرہ سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقی تدین وہ ہے جو انسان کی روزمرہ معاشی و معاشرتی زندگی میں ظاہر ہو:

کامل ایمان کی علامت:

عن أبي هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا (سنن الترمذی: 1162)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔

حقیقی مسلمان کی پہچان:

عن عبد الله بن عمرو رضی الله عنهما عن النبي ﷺ قال: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده (صحیح البخاری: 10)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

4۔ کردار سازی اور معاشرتی اصلاح کے 5 بنیادی نبوی اصول

1۔ صدق و امانت کا نفاذ (Truthfulness & Integrity):

رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی مکہ والے آپ کو "الصادق" اور "الامین" مانتے تھے۔ ہماری معیشت اور تجارت میں سچائی اور امانت داری کا وجود ہی معاشرتی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے۔

2۔ حقوق العباد اور ایذارسانی سے پرہیز (Protection of Others' Rights):

راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، پڑوسیوں کا خیال رکھنا، اور اپنی زبان یا قلم سے کسی کی دل آزاری نہ کرنا کردار سازی کے بنیادی ستون ہیں۔

3۔ عفو، درگزر اور حلم و برداشت (Patience & Forgiveness):

معاشرتی تلخیوں کو ختم کرنے کے لیے غصے پر قابو پانا، دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا اور انتقام کی بجائے درگزر کو اپنانا نبوی طریقہ ہے۔

4۔ کسبِ حلال اور مالی شفافیت (Halal Earnings):

حرام اور مشتبہ مال انسان کی دعاؤں اور کردار کے تاثر کو ختم کر دیتا ہے۔ روزی میں پاکیزگی اور انصاف کا ہونا کردار سازی کے لیے شرطِ اول ہے۔

5۔ ایثار اور خیر خواہی کا جذبہ (Selflessness & Altruism):

حضور ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔" یہ جذبہ معاشرے کی بحالی کا ضامن ہے۔

5۔ عملی زندگی میں تبدیلی کے 4 بنیادی اقدامات

1۔ یومیہ رویوں کا محاسبہ کریں: روزانہ چند منٹ یہ سوچیں کہ آج میری زبان یا عمل سے کسی کو تکلیف تو نہیں پہنچی؟

2۔ معاشی شفافیت اختیار کریں: وقت کی پابندی، ناپ تول اور نوکری یا کاروبار کی ذمہ داریوں میں خیانت سے مکمل اجتناب کریں۔

3۔ گھر اور محلے میں حسنِ اخلاق اپنائیں: اپنے اہل و عیال، ملازمین اور پڑوسیوں کے ساتھ نرمی اور عزت کا معاملہ کریں۔

4۔ سوشل میڈیا اور گفتگو میں ذمہ داری دکھائیں: بغیر تصدیق کے خبریں پھیلانے اور تنقید و بدگوئی سے مکمل پرہیز کریں۔

6۔ اختتامیہ

ربیع الثانی کا پیغام یہی ہے کہ ہم علم سے آگے بڑھ کر عمل کے میدان میں قدم رکھیں۔ سیرتِ طیبہ محض پڑھنے یا سننے کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگیوں میں اتارنے کے لیے ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ امن، انصاف اور ترقی کا مژدہ بنے، تو ہمیں اپنے انفرادی کردار کی تعمیر سے شروعات کرنی ہوگی۔ آئیے! ربیع الثانی کے اس مہینے میں یہ پکا عزم کریں کہ ہم اپنے گفتار کو کردار میں بدلیں گے اور "عملی دین" کا بہترین نمونہ بن کر معاشرتی اصلاح کا سبب بنیں گے۔

دعا:

اللهم اهْدِنَا لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنَّا سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنَّا سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ

اے اللہ! ہمیں بہترین اخلاق اور اچھے کردار کی ہدایت فرما، تیرے سوا کوئی اچھے اخلاق کی رہنمائی نہیں کر سکتا، اور ہم سے برے اخلاق کو دور فرما دے، تیرے سوا کوئی انہیں دور نہیں کر سکتا۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

اسلام کا پیغام کردار اور عمل کا پیغام ہے۔ اس تحریر کو پڑھ کر اپنی زندگی میں نافذ کریں اور ثواب کی نیت سے دیگر احباب کے ساتھ شیئر کریں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.