اللہ سے تعلق میں مٹھاس کیسے آئے؟ حلاوتِ ایمان، ذوقِ عبادت اور قلبی محبت کا سفر | قسط 205 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Discover how to taste the sweetness of faith (Halawat al-Iman) and build a deeply loving relationship with Allah through Quranic insights and Sunnah by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

7/24/20261 min read

اللہ سے تعلق میں مٹھاس کیسے آئے؟ حلاوتِ ایمان، ذوقِ عبادت اور قلبی محبت کا سفر

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 205)

1۔ تمہید (Introduction)

ایمان محض چند نظریات پر یقین رکھنے یا عبادات کی روایتی و مشینی ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ ایمان ایک زندہ، پرنور اور پرکیف باطنی کیفیت کا نام ہے جسے کلامِ نبوت میں "حلاوتِ ایمان" (ایمان کی مٹھاس) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایک مومن جب اپنے خالق و مالک سے قلبی و سچا رشتہ استوار کر لیتا ہے، تو اس کے دل کو وہ روحانی لذت اور سرور نصیب ہوتا ہے جس کے آگے دنیا کی تمام مادی نعمتیں، آسائشیں اور لذتیں بے حقیقت معلوم ہوتی ہیں۔ عبادت بوجھ نہیں بلکہ روح کی غذا اور محبوبِ حقیقی سے ملاقات کا پرلطف ذریعہ بن جاتی ہے۔

عصرِ حاضر کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ کثیر لوگ نماز، روزہ اور دیگر دینی فرائض ادا تو کرتے ہیں لیکن ان کے دل اس باطنی ذوق، خشوع اور ایمانی مٹھاس سے محروم رہتے ہیں۔ دلوں کی یہ بے کیفی دراصل گناہوں کی کثرت، دنیا پرستی اور رب العزت سے کمزور قلبی رابطے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں تعلق باللہ میں مٹھاس کیسے پیدا کی جائے؟ ایمان کی حقیقی لذت کن اعمال اور قلبی کیفیات سے کشید ہوتی ہے؟ اور اپنے رب کے ساتھ عاشقانہ و مخلصانہ تعلق استوار کرنے کا عملی طریقہ کیا ہے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، ایمانی اور روحانی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے سچے اہلِ ایمان کی رب العزت سے شدید محبت اور تعلقِ باللہ کی کیفیت کو یوں بیان فرمایا ہے:

وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (سورۃ البقرۃ: 165)

اور جو لوگ ایمان لائے وہ اللہ سے شدید ترین محبت رکھتے ہیں۔

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (سورۃ الانفال: 2)

سچے مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں، اور جب ان پر اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیثِ طیبہ حلاوتِ ایمان اور تعلق باللہ کی مٹھاس پانے کا بنیادی نصاب سکھاتی ہیں:

• ایمان کی مٹھاس پانے کے تین سنہری اصول

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ"

(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 16 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 43)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پا لے گا: (1) یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اسے باقی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو جائیں، (2) یہ کہ وہ کسی انسان سے صرف اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے، اور (3) یہ کہ وہ کفر کی طرف لوٹنے کو ایسا ناپسند کرے جیسے آگ میں پھینکے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔

• ایمان کے ذائقے کا حقیقی ادراک

عَنِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا" (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 34)

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر دل و جان سے راضی ہو گیا۔

4۔ روایتی عبادت گزاری اور حلاوتِ ایمانی کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

محض رسمی طور پر عبادات بجا لانے والے اور اللہ سے تعلق میں مٹھاس پانے والے مومن کے درمیان یہ نمایاں فرق ہے:

1۔ عبادت کی ادائیگی کا انداز:

رسمی عبادت گزار: نماز و طاعات کو ایک بوجھ یا روزمرہ کی ذمہ داری سمجھ کر عجلت میں پورا کرنا۔

حلاوتِ ایمان کا حامل: عبادت کو رب سے راز و نیاز، باطنی راحت اور آنکھوں کی ٹھنڈک سمجھنا۔

2۔ گناہوں اور نافرمانیوں سے دوری:

رسمی عبادت گزار: نیکی کے ساتھ ساتھ گناہوں پر دلیری اور نفسانی خواہشات کے آگے آسانی سے جھک جانا۔

حلاوتِ ایمان کا حامل: گناہ کی طرف رغبت کے بجائے اس سے طبعی و دلی نفرت محسوس کرنا۔

3۔ اللہ کے فیصلوں اور آزمائشوں پر ردِعمل:

رسمی عبادت گزار: تنگی و مصیبت کے وقت باطنی تڑپ، شکوے اور شکوک و شبہات کا شکار ہونا۔

حلاوتِ ایمان کا حامل: رب کی رضا پر خوش رہنا، تسلیم و رضا اور باطنی مسرت پانا۔

4۔ ذکر اور تلاوت کی قلبی کیفیت:

رسمی عبادت گزار: زبان سے کلمات کی ادائیگی مگر دل دنیا کے خیالات اور وسوسوں میں گم۔

حلاوتِ ایمان کا حامل: کلامِ الٰہی سے رقتِ قلب، آنسوؤں کا جاری ہونا اور خشوع کا غلبہ۔

5۔ تعلق باللہ میں مٹھاس پیدا کرنے کے 5 مؤثر ذرائع (Strategies)

اپنے رب سے سچا اور پرکیف تعلق قائم کرنے کے لیے ان پانچ عملی راستوں کو اختیار کریں:

الف) خلوت میں مناجات اور نوافل کا اہتمام: رات کی تنہائی میں تہجد کے وقت یا دن میں خلوت کے چند لمحے نکال کر اپنے رب کے حضور رو رو کر دل کا حال بیان کریں۔

ب) کثرتِ استغفار اور نظر و دل کی حفاظت: گناہوں اور بالخصوص حرام نظر سے بچیں، کیونکہ بدنگاہی اور گناہ روح کے ذائقے کو مفلوج کر کے ایمان کی مٹھاس چھین لیتے ہیں۔

ج) اللہ کے احسانات اور اسماء و صفات پر غور و فکر: رب العزت کی لامحدود عنایات، اس کے رحمن و رحیم اور ودود ہونے پر غور کریں؛ احسان شناسی محبت کو جنم دیتی ہے۔

د) محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کا دوام: نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کو ان کی سنتوں کے سانچے میں ڈھالیں؛ سنت کے بغیر محبتِ الٰہی ناممکن ہے۔

ہ) اللہ کے راستے میں قربانی اور بندوں سے بے لوث محبت: اپنی پسندیدہ چیزوں، وقت اور مال کو رضائے الٰہی کے لیے قربان کرنا سیکھیں اور محض اللہ کی خاطر لوگوں سے خیر خواہی کریں۔

6۔ تعلق باللہ میں مٹھاس کا سچا معائری پیمانہ

عملی زندگی میں حلاوتِ ایمان اور تعلق باللہ کے معیار کو جانچنے کا پیمانہ یہ ہے کہ:

• انسان کو تنہائی میں اللہ کی یاد اور مناجات محفلوں کی رونقوں سے زیادہ پرلطف لگنے لگے۔

• دین کی خاطر کسی خواہش یا دنیاوی فائدے کو چھوڑنا تکلیف دہ نہیں بلکہ دلی خوشی کا سبب بنے۔

• دنیاوی حالات خواہ موافق ہوں یا مخالف، اس کے دل کی اطاعت و شکر گزاری میں فرق نہ آئے۔

7۔ تعلق باللہ کی مٹھاس کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان اللہ تعالیٰ سے تعلق کی مٹھاس پا لیتا ہے، اللہ رب العزت اسے یہ عظیم انعامات عطا فرماتا ہے:

• فتنوں اور گناہوں کے طوفان میں استقامت: دل پر نورِ ایمان غالب آ جاتا ہے جس سے شیطانی ترغیبات بے اثر ہو جاتی ہیں۔

• حقیقی بے خوفی اور باطنی آزادی: انسان دنیا کے ہر خوف، لالچ اور مخلوق کی غلامی سے آزاد ہو کر صرف اللہ کا بن جاتا ہے۔

• دنیا و آخرت کی دائمی سرخروئی: اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت فرماتا ہے اور زمین پر بھی اس کی مقبولیت قائم فرما دیتا ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق میں مٹھاس اور حلاوتِ ایمان انسانی روح کی وہ معراج ہے جس کے بعد زندگی کا سارا زاویہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ مٹھاس زبانی دعووں سے نہیں بلکہ دل کے خلوص، نفسانی خواہشات کی قربانی اور اتباعِ رسول ﷺ سے حاصل ہوتی ہے۔ جب بندہ سچے دل سے اپنے رب کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اپنے نور اور محبت کی لازوال مٹھاس سے بھر دیتا ہے۔ آئیے! ہم اپنی عبادات کو رسمی دائرے سے نکال کر محبت و اخلاص کے رنگ میں رنگیں اور اپنے رب کے ساتھ سچے تعلق کی بنیاد رکھیں۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَىٰ حُبِّكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ، وَأَذِقْنَا حَلَاوَةَ الإِيمَانِ وَلَذَّةَ طَاعَتِكَ۔

اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں، اور اس شخص کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسے عمل کی محبت کا جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے۔ اے اللہ! اپنی محبت کو میرے لیے میری جان، میرے اہلِ خانہ اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے، اور ہمیں ایمان کی مٹھاس اور اپنی اطاعت کی لذت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

تعلق باللہ میں مٹھاس اور حلاوتِ ایمان کا یہ پیغام کسی مردہ دل کے لیے زندگی اور باطنی حلاوت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.