اللہ کی رضا کا عملی معیار کیا ہے؟ | قسط 155 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"What is the true practical criteria for seeking the pleasure of Allah? Explore the signs and ways to achieve Divine approval by Dr. Wajid Irshad."


اللہ کی رضا: عملی معیار
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ: ایمان (قسط نمبر: 155)
1۔ تمہید (Introduction)
ایک سچے مسلمان کی زیست کا سب سے ارفع اور بنیادی مقصد اپنے خالقِ حقیقی کی خوشنودی کا حصول ہونا چاہیے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، صدقات، دعوت و تبلیغ اور دنیا کا ہر نیک عمل بارگاہِ الٰہی میں اسی وقت شرفِ قبولیت حاصل کرتا ہے جب اس کا واحد محرک اور مقصد صرف اور صرف باری تعالیٰ کی رضا ہو۔
تاہم، یہاں ایک انتہائی باریک اور فکری سوال جنم لیتا ہے کہ "خدا کی خوشنودی کا اصل اور عملی پیمانہ کیا ہے؟" انسان کس طرح اس بات کا ادراک کر سکتا ہے کہ وہ جس شاہراہ پر گامزن ہے، وہ واقعی معبودِ برحق کی رضا کا راستہ ہے یا وہ محض اپنی نفسانی خواہشات اور چند دنیاوی کامیابیوں کو رب کی خوشنودی سمجھ کر خوش فہمی کا شکار ہو چکا ہے؟ کلامِ الٰہی اور اسوہِ رسول ﷺ اس نازک نکتے پر ہماری کامل اور واضح رہنمائی فرماتے ہیں۔
2۔ قرآنِ مجید کی ابدی ہدایات (Quranic Paradigm)
قرآنِ حکیم ہمیں یہ حقیقت سکھاتا ہے کہ خالقِ کائنات کی خوشنودی کائنات کی ہر مادی نعمت سے بڑھ کر ہے اور اس کا حصول اطاعت میں پنہاں ہے:
وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ (سورۃ التوبہ: 72)
اور اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے۔
یہ الٰہی اعلان ہمیں بتاتا ہے کہ جنت کے محلات اور دنیا کے تمام خزانے ایک طرف، اور رب ذوالجلال کی تھوڑی سی خوشنودی دوسری طرف ہو، تو مؤمن کے لیے خدا کی رضا ہی سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (سورۃ آل عمران: 31)
کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔
محبتِ الٰہی اور رضا کے حصول کا واحد قانونی راستہ سید الانبیاء ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنا ہے؛ جو راستہ سنتِ رسول ﷺ سے ہٹ جائے، وہ خدا تک نہیں پہنچ سکتا۔
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (سورۃ الأحزاب: 71)
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔
حقیقی فلاح کا دارومدار دنیاوی مناصب پر نہیں، بلکہ خالق اور مخلوق کے حقوق کے معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے۔
3۔ احادیثِ مبارکہ کا حکیمانہ اسلوب (Prophetic Traditions)
فرامینِ نبوی ﷺ ہمیں ظاہر پرستی کے فریب سے نکال کر باطن کے اخلاص اور نیت کی سچائی کی طرف متوجہ کرتے ہیں:
• الٰہی نظر کا اصل معیار
إِنَّ اللَّهَ لَا يَنظُرُ إِلَىٰ صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنظُرُ إِلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ (صحیح مسلم، الرقم: 2564)
اللہ تمہاری شکلوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
خداوندِ قدوس کے ہاں انسان کی ظاہری چمک دمک، برادری یا دولت کی کوئی حیثیت نہیں، وہاں صرف دل کا تقویٰ اور عمل کا اخلاص ناپا جاتا ہے۔
• مخلوق کی ناراضی اور خالق کی رضا
مَنْ الْتَمَسَ رِضَا اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَى عَنْهُ النَّاسَ (صحیح ابن حبان، الرقم: 276)
جو شخص لوگوں کی ناراضی کے باوجود اللہ کی رضا تلاش کرے، اللہ اس سے راضی ہو جاتا ہے۔
سچے مؤمن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ معاشرتی رسم و رواج یا لوگوں کے طعنوں کی پروا کیے بغیر حق پر ڈٹ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اللہ اسے مخلوق کی نظروں میں بھی معزز بنا دیتا ہے۔
• نیتوں کی ترجیح
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (صحیح البخاري، الرقم: 1)
اعمال کا دارومدار تو بس نیتوں پر ہی ہے۔
یہ بنیادی اسلامی قاعدہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پہاڑ جتنا بڑا عمل بھی اگر نمود و نمائش کے لیے ہو تو مٹی ہے، اور ایک چھوٹا سا عمل بھی اگر مخلصانہ نیت سے ہو تو رضاِ الٰہی کا ضامن بن جاتا ہے۔
4۔ اللہ کی رضا کا حقیقی و عملی معیار (Practical Benchmarks)
ربِ کریم کی خوشنودی کا دعویٰ تبھی سچا مانا جائے گا جب زندگی میں درج ذیل چار اوصاف عملی طور پر موجود ہوں:
الف) باطنی اخلاص (Pure Intention)
انسان کا ہر سجدہ، ہر صدقہ اور ہر خیر کا کام دنیاوی داد، تعریف، جاہ و منصب یا شہرت کے جذبے سے بالکل پاک ہو اور دل میں صرف یہ تڑپ ہو کہ میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے۔
ب) اسوہِ نبوی ﷺ کی مکمل اتباع (Following the Sunnah)
کوئی بھی دینی یا دنیاوی عمل اپنی مرضی یا خود ساختہ طریقوں سے کرنے کے بجائے پیارے نبی ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے اور سنت کے مطابق سرانجام دیا جائے۔
ج) حقوق اللہ اور حقوق العباد کا توازن (Balancing Rights)
محض مسجد کی حد تک عبادت گزار ہونا کافی نہیں، بلکہ بندوں کے حقوق، کاروباری دیانت، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا بھی رضاِ الٰہی کا لازمی جزو ہے۔
د) تقویٰ اور گناہوں سے اجتناب (Fear of Allah)
اللہ کی رضا صرف نیکیاں کرنے میں نہیں، بلکہ تنہائی اور جلوت میں ان تمام کاموں، نافرمانیوں اور لغزشوں سے دور رہنے میں ہے جن سے خالقِ کائنات نے منع فرمایا ہے۔
5۔ رضاِ الٰہی کے حوالے سے معاشرتی غلط فہمیاں (Common Misconceptions)
ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے نظریات رواج پا چکے ہیں جو رضاِ الٰہی کے اصل تصور کے منافی ہیں:
مادی آسودگی کو محبت کی دلیل سمجھنا: بہت سے لوگ کثیر مال و دولت اور عیش و عشرت کو اللہ کی رضا کی نشانی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ محض ایک آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔ آزمائش اور نعمت دونوں میں انسان کا رویہ دیکھا جاتا ہے۔
محض جذباتی کیفیت پر تکیہ کرنا: بعض اوقات انسان کسی عمل میں وقتی طور پر جذباتی سکون محسوس کرتا ہے اور اسے رضاِ الٰہی سمجھ لیتا ہے، جبکہ اصل معیار صرف اور صرف قرآن و سنت کے احکامات ہیں۔
عوام الناس کی واہ واہ کو کامیابی جاننا: لوگوں کی تعریفیں یا سماجی مقبولیت اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ بھی راضی ہے، کیونکہ حقیقی کامیابی کا فیصلہ مخلوق نہیں بلکہ خالق فرماتا ہے۔
6۔ رضاِ الٰہی کے حصول کے سنہری ذرائع (Pathways to Divine Pleasure)
اگر ہم اپنے رب کو راضی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں درج ذیل سات امور کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنانا ہوگا:
1. فرائض و واجبات کی پابندی: پنجگانہ نمازوں کو ان کے وقت پر خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا۔
2. قرآنِ مجید سے گہرا رشتہ: کلامِ الٰہی کی روزانہ تلاوت، فہم اور اس کے احکامات پر غور و فکر کرنا۔
3. والدین کی بے لوس خدمت: والدین کے ساتھ نرمی، عاجزی اور محبت کا برتاؤ کرنا، کیونکہ رب کی رضا والد کی رضا میں ہے۔
4. سچائی اور عدل کا قیام: ہر معاملے میں سچ کا ساتھ دینا اور ناانصافی سے دوری اختیار کرنا۔
5. کاروبار میں امانت و دیانت: معاشی معاملات، تجارت اور ملازمت میں رزقِ حلال کمانا اور دھوکہ دہی سے بچنا۔
6. مخلوقِ خدا کی خدمت: غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا۔
7۔ مقبولیت اور رضاِ الٰہی کی نمایاں علامات (Signs of divine Blessing)
جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے راضی ہو جاتا ہے، تو اس کے باطن اور ظاہر میں یہ پانچ خوبصورت علامات نظر آنے لگتی ہیں:
بندے کے دل میں نیکی کرنے کا شوق خود بخود بڑھ جاتا ہے اور برائی سے دلی نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
زندگی کی تنگیوں اور پریشانیوں کے باوجود دل میں ایک عجیب قلبی سکون اور اطمینانِ نفس محسوس ہوتا ہے۔
انسان کے مزاج میں عاجزی، انکساری اور ہر حال میں شکر گزاری کا عنصر غالب آ جاتا ہے۔
دنیا کی فانی رونقوں کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے اور آخرت کی دائمی زندگی کو سنوارنے کی فکر مستقلاً دامن گیر رہتی ہے۔
مخلوقِ خدا کے لیے دل میں ہمدردی اور معاف کرنے کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اللہ رب العزت کی رضا دنیا و آخرت کی سب سے بڑی جاگیر اور کامیابی کا آخری سرا ہے۔ یہ عظیم نعمت محض زبانی دعووں یا دکھاوے کی نیکیوں سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے دل کی گہرائی سے اخلاص، تقویٰ، اور محمدِ عربی ﷺ کی کامل غلامی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو شخص اپنی سوچ، اپنے اخلاق اور اپنے روزمرہ کے معاملات کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے، وہی حقیقت میں اللہ کی رضا کے نورانی راستے پر گامزن ہوتا ہے۔
دعا (Supplication)
اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ رِضَاكَ وَالْجَنَّةَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ سَخَطِكَ وَالنَّارِ
(دعائیہ کلمات)
"اے ہمارے پروردگار! ہم تجھ سے تیری رضا اور جنت کا سوال کرتے ہیں، اور تیری ناراضی اور جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ آمین یا رب العالمین۔"
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
حق کی بات کو پھیلانا کارِ خیر ہے، اس تحریر کو اپنے حلقہ احباب میں شیئر کر کے اس علمی و اصلاحی سفر میں ہمارا ساتھ دیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
