اللہ کی نعمتوں کا شعور: ایمانی بیداری، شکر گزاری کا حقیقت پسندانہ منہاج اور ناشکری کا سدِ باب | قسط 213 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Discover the power of recognizing Allah's blessings (Niamat) and true gratitude (Shukr) in Islam. Practical ways to cultivate contentment and escape ungratefulness by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

8/1/20261 min read

اللہ کی نعمتوں کا شعور: ایمانی بیداری، شکر گزاری کا حقیقت پسندانہ منہاج اور ناشکری کا سدِ باب

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 213)

1۔ تمہید (Introduction)

انسان اپنی پیدائش سے لے کر دمِ واپسیں تک اللہ رب العزت کی بے شمار اور ان گنت نعمتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہے۔ سانس کی آمد و رفت سے لے کر جسمانی صحت، عقل و شعور، ہدایتِ ایمان، امن و امان، رزق و وسائل اور رشتوں کی محبت تک—زندگی کا ہر ایک لمحہ عطائے الٰہی کا مرہونِ منت ہے۔ تاہم انسانی نفس کی ایک بڑی المیہ صفت یہ ہے کہ وہ نعمتوں کے مسلسل ملنے سے ان کا عادی (Habitual) ہو جاتا ہے اور انہیں بلامعاوضہ یا اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ جب تک کوئی نعمت حاصل رہتی ہے، انسان اس کے وجود پر غور نہیں کرتا، لیکن جیسے ہی کوئی نعمت چھن جاتی ہے یا اس میں کمی آتی ہے تو آہ و زاری اور شکوہ کرنے لگتا ہے۔

اسلام کی نظر میں "نعمتوں کا شعور" صرف زبان سے "الحمد للہ" کہہ دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عمیق ایمانی و فکری بیداری ہے جس میں بندہ اپنے وجود، ماحول اور اندرونی و بیرونی کائنات میں رب کی عنایات کا ادراک کرتا ہے، دل سے ان کا اعتراف کرتا ہے، زبان سے ان کا شکر بجا لاتا ہے اور اپنے اعضاء کو ان نعمتوں کے منشا کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ عصرِ حاضر کے مادیت پسند دور میں جہاں سوشل میڈیا اور موازنے کی فضا نے انسانوں کو ناشکری، احساسِ محرومی اور حسد کی آگ میں دھکیل دیا ہے، نعمتِ الٰہی کا شعور حاصل کرنا قلبی سکون اور ایمانی پختگی کی سب سے بڑی کنجی بن چکا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں نعمتوں کے ادراک، شکر کے حقیقی مفہوم اور اس کے عملی فوائد کا تفصیلی علمی و تربیتی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے انسان کو اللہ کی غیر محدود نعمتوں پر غور کرنے اور شکر گزاری پر نعمتوں میں اضافے کی نوید سنائی ہے:

وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ   (سورۃ النحل: 18)

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکو گے، بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ   (سورۃ ابراہیم: 7)

اور جب تمہارے رب نے آ Sus کی کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات نے نعمتوں کو دیکھنے اور ان پر شکر ادا کرنے کا بہترین نبوی زاویۂ نظر عطا فرمایا ہے:

• نعمتوں کے شعور کے لیے اپنے سے نیچے والے کو دیکھنا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلاَ تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لاَ تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ"   (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2963)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیاوی معاملات میں ان لوگوں کو دیکھو جو تم سے نیچے (کمتر) ہیں اور ان کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر (برتر) ہیں، کیونکہ یہ بات اس کے زیادہ قریب ہے کہ تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو۔

• روزمرہ بنیادی نعمتوں کی عظمت

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا"   (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2346)

حضرت عبید اللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے گھر میں امن سے ہو، اس کا جسم تندرست و عافیت سے ہو، اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہو، تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ کر لائی گئی ہے۔

4۔ شاکر اور ناشکرے انسان کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

نعمتوں کا شعور رکھنے والے مؤمن اور احساسِ محرومی میں مبتلا ناشکرے شخص کے درمیان یہ واضح فرق ہوتا ہے:

1۔ باطنی و قلبی کیفیت:

ناشکرا انسان: عدمِ قناعت، مسلسل حسد، "مجھے کیا ملا؟" کا شکوہ اور ہر وقت کی بے چینی۔

شاکر مؤمن: قلبی اطمینان، قناعت، "اللہ کا کتنا کرم ہے" کا استحضار اور سرشار دل۔

2۔ دنیاوی نعمتوں پر نظر:

ناشکرا انسان: صرف ان چیزوں پر نظر جو حاصل نہیں ہیں اور جو دوسروں کے پاس ہیں۔

شاکر مؤمن: ان بے شمار نعمتوں پر نظر جو اسے بغیر مانگے اور بغیر استحقاق مل چکی ہیں۔

3۔ ازمائش اور تکلیف میں رویہ:

ناشکرا انسان: ذرا سی تکلیف یا نقصان پر رب سے ناراضگی اور واویلا۔

شاکر مؤمن: تکلیف پر صبر، سابقہ نعمتوں کا یاد رکھنا اور اللہ کے فیصلے پر رضا۔

4۔ نعمتوں کا استعمال:

ناشکرا انسان: نعمتوں کو تکبر، اسراف اور معصیت و گناہ کے کاموں میں ضائع کرنا۔

شاکر مؤمن: نعمتوں کو رب کی اطاعت، بندگانِ خدا کی خدمت اور شریعت کے دائرے میں استعمال کرنا۔

5۔ نعمتوں کا شعور اور شکر گزاری پیدا کرنے کے 5 عملی اصول (Strategies)

اپنی عملی اور ایمانی زندگی میں نعمتوں کے بیدار ادراک اور شکر گزاری کے حصول کے لیے ان پانچ اصولوں کو اپنائیں:

الف) روزانہ "نعمتوں کی فہرست" کا جائزہ (Gratitude Journaling): روزانہ چند منٹ نکال کر اپنی صحت، حواس، چھت، خوراک اور رشتوں کی نعمتوں پر غور کریں اور دل میں اللہ کی عظمت کا اعتراف کریں۔

ب) دنیاوی معاملات میں پست دست لوگوں کو دیکھنا: مال و دولت، اسباب اور سہولیات میں ہمیشہ اپنے سے کم وسائل رکھنے والوں کو دیکھیں تاکہ اپنے پاس موجود وسائل کی قدر ہو۔

ج) اعضاء و جوارح کا عملی شکر: اپنی آنکھ، کان، ہاتھ، عقل اور مال کو گناہ اور معصیت کے بجائے اطاعت، نیکی اور خلقِ خدا کی نفع رسانی میں استعمال کریں؛ یہی اصل عملی شکر ہے۔

د) نعمتِ ایمان و ہدایت کا دائمی استحضار: دنیاوی مال و اسباب سے بڑھ کر سب سے بڑی نعمت "ایمان اور ہدایت" کو سمجھیں جس کے سامنے کائنات کی تمام دولت ہیچ ہے۔

ہ) مسنون دعاؤں کا التزام: صبح و شام اور کھانے پینے، سو کر اٹھنے اور نیا لباس پہننے کی مسنون دعاؤں کا ترجمے کے ساتھ التزام کریں تاکہ زبان روزانہ شکر سے تر رہے۔

6۔ نعمتوں کے شعور کا سچا معائری پیمانہ

زندگی میں اللہ کی نعمتوں کے حقیقی ادراک کا معیار یہ ہے کہ:

• انسان نعمت ملنے پر متکبر ہونے کے بجائے مزید عاجز اور انکسار پسند بن جائے۔

• وہ دوسروں کو ملی ہوئی نعمتوں پر حسد کرنے کے بجائے ان کے لیے برکت کی دعا کرے۔

• کسی نعمت کا زوال یا نقصان اسے اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے بلکہ صبر و استغفار کی طرف موڑ دے۔

7۔ نعمتوں کے شعور اور شکر کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان نعمتوں کا ادراک کر کے شکر گزاری کی زندگی اختیار کرتا ہے، اللہ رب العزت اسے یہ عظیم انعامات عطا فرماتا ہے:

• نعمتوں میں دائمیت اور اضافہ: قرآنی وعدے کے مطابق شکر ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ نعمتوں میں مزید برکت اور اضافہ فرماتا ہے۔

• باطنی سکون اور ذہنی صحت: شکر گزار انسان ہر قسم کے استحصالی مقابلے، ڈپریشن اور حسد سے آزاد ہو کر پرسکون زندگی گزارتا ہے۔

• رضائے الٰہی اور جنت کا حصول: اللہ تعالیٰ اپنے شاکر بندوں سے بے پناہ محبت فرماتا ہے اور قیامت کے دن انہیں اپنے قرب سے نوازے گا۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شعور ہی ایمانی زندگی کی روح اور قلبی سکون کا راز ہے۔ انسان جب تک اپنی محرومیوں کا روتا روتا رہے گا، وہ کبھی سچی خوشی حاصل نہیں کر سکتا؛ لیکن جیسے ہی وہ اپنے ارد گرد پھیلی رب العزت کی نعمتوں پر نگاہ دوڑاتا ہے، اس کا دل فرطِ جذبات سے بھر جاتا ہے اور زبان خود بخود "الحمد للہ" کا نعرہ مستانہ بلند کرتی ہے۔ شکر گزاری بندے کو رب کے قریب کرتی ہے اور اس کے رزق و حیات میں برکتوں کے دروازے کھولتی ہے۔ آئیے! ہم اپنی زندگی سے شکوے اور ناشکری کو نکال پھینکیں، اللہ کی عطاؤں کا ہر لمحہ ادراک کریں اور اپنے قول و فعل سے ایک سچے اور وفادار شاکر بندے کا ثبوت دیں۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ، اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ۔

اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔ اے اللہ! صبح کے وقت میرے پاس جو بھی نعمت ہے یا تیری مخلوق میں سے کسی کے پاس بھی ہے، وہ صرف اور صرف تیری ہی طرف سے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، پس تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اور تیرے ہی لیے تمام شکر ہے۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

اللہ کی نعمتوں کے شعور اور شکر گزاری کا یہ پیغام کسی ناشکری اور بے سکونی کے شکار انسان کے لیے اطمینانِ قلب اور ایمانی بیداری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.